میں عزادار ہوں…
*عزاداری کیسی ہو؟ قرآن اور سیرتِ اہل بیتؑ کی روشنی میں*
امام حسینؑ پر رونا سعادت ہے، مگر امام حسینؑ کی تعلیمات پر چلنا نجات ہے۔
ولایت کی حفاظت میں خواتین کا کردار
جنابِ فاطمہ زہراء؛ مدافعِ ولایت و امامت
*فقہ سے ماوراء احکام*
*ظہورِ امام عج اور اُمت کی آمادگی*
*حکومت اسلامی اور جدید مسائل: نصِ خاص سے عقلی استنباط تک*
یہ وقت ہے کہ ہم امام حسینؑ کی قربانی کو ایک جذباتی واقعہ نہیں، بلکہ ایک “نظامِ مزاحمت” کے طور پر اپنائیں۔
دنیا ایک بار پھر ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں ظلم و بربریت نے انسانیت کو روند ڈالا ہے۔ معصوم چہروں پر بموں کی راکھ، ماؤں کی آہوں سے لرزتا آسمان، اور خاموش تماشائی بنتی انسانیت… یہ سب کچھ گواہ ہے کہ ہم ایک عظیم امتحان سے گزر رہے ہیں۔
آیتاللہ حائری شیرازی کی یہ تعلیمات ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ ترقی، شعور اور ہدایت کا راستہ ہمیشہ اپنے اندر بہتری کی تلاش، عاجزی، اور مستقبل کی فکر سے جُڑا ہوا ہے۔ جو انسان رکا نہیں، وہی منزل پر پہنچتا ہے۔
اس مومن کی کامیابی اس کے عمل میں بھی ظاہر ہوتی ہے۔ وہ علم حاصل کرتا ہے تاکہ بصیرت پیدا ہو، وہ زبان اور قلم سے حق کی بات کرتا ہے، لوگوں میں امید، اخلاص، اور انتظار کا شعور بیدار کرتا ہے۔
یہ آیت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ صرف ظاہری دعووں پر اعتماد نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اعمال اور نیتوں کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ اصلاح کے نام پر فساد پھیلانے والے افراد اور گروہوں سے ہوشیار رہنا چاہیے۔
لوگ اس چیز کے دشمن ہوتے ہیں جسے وہ نہیں جانتے۔
یہ ملاقات دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور خطے میں امن و استحکام کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔
پس یہ فرض ہے کہ ہم قرآن کی روشنی میں دنیا کے حالیہ استعماری نظام کا تجزیہ کریں، طاغوتی سازشوں کو پہچانیں، ان کے خلاف علمی، اخلاقی، اور عملی سطح پر جہاد کریں، اور یقین رکھیں کہ انجام کار اللہ کا وعدہ سچا ہے، اور مکر و فریب کی بنیادوں پر قائم نظام فنا ہونے والا ہے۔ حق ہمیشہ غالب رہنے والا ہے، کیونکہ وہ رب کی سنت ہے جس میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔
صہیونی ریاست جس تسلسل سے فلسطینی عوام پر حملہ آور ہے، اس کے انداز، نظریات، اور طریقہ کار کو دیکھتے ہوئے یہ سوال بے وجہ نہیں کہ: کیا ہم تاریخ کے کسی نئے “مغولی دور” میں داخل ہو چکے ہیں؟
چار مصیبتیں ایسی ہیں جن سے یا ان میں سے کسی ایک سے کوئی مؤمن بچ نہیں سکتا:۔