40

ماضی کے منگول، آج کے صہیونی — تاریخ کا نیا دورِ وحشت

  • نیوز کوڈ : 1507
  • 18 April 2025 - 0:12
ماضی کے منگول، آج کے صہیونی — تاریخ کا نیا دورِ وحشت

صہیونی ریاست جس تسلسل سے فلسطینی عوام پر حملہ آور ہے، اس کے انداز، نظریات، اور طریقہ کار کو دیکھتے ہوئے یہ سوال بے وجہ نہیں کہ: کیا ہم تاریخ کے کسی نئے “مغولی دور” میں داخل ہو چکے ہیں؟

✍ تحریر: محمود مرداوی || ترجمان حماس

صراط ٹائمز / انسانی تاریخ میں ایسے ادوار بارہا آئے ہیں جن میں ظلم، وحشت، اور طاقت کا بے مہار استعمال تہذیبوں کو روندتا ہوا گزرا۔ تیرہویں صدی میں منگولوں کا عالم اسلام پر حملہ، بغداد کی اینٹ سے اینٹ بجانا، اور لاکھوں انسانوں کا قتل عام تاریخ کا ایک ایسا سیاہ باب ہے جس کے زخم صدیوں تک محسوس کیے گئے۔ آج ایک بار پھر ایسا ہی ایک منظر، مگر مختلف جغرافیے اور مختلف ناموں کے ساتھ ہمارے سامنے موجود ہے۔

صہیونی ریاست جس تسلسل سے فلسطینی عوام پر حملہ آور ہے، اس کے انداز، نظریات، اور طریقہ کار کو دیکھتے ہوئے یہ سوال بے وجہ نہیں کہ: کیا ہم تاریخ کے کسی نئے “مغولی دور” میں داخل ہو چکے ہیں؟

اسرائیلی ریاست کا قیام ہی ایک جارحانہ تصور پر مبنی تھا: “زمین بغیر قوم کے، قوم بغیر زمین کے”۔ اس تصور کے تحت فلسطین کی سرزمین کو محض ایک خالی قطعہ زمین سمجھ کر اس پر قبضہ کیا گیا، اور آج اسی سوچ کا تسلسل ہے کہ جس کے تحت نہ صرف فلسطینیوں کو ان کی زمین، شناخت اور زندگی سے محروم کیا جا رہا ہے، بلکہ ہر قسم کی مزاحمت کو بھی دہشتگردی کے خانے میں ڈال دیا گیا ہے۔

گزشتہ چند برسوں میں اسرائیلی پالیسی میں جو نمایاں تبدیلی آئی ہے وہ یہ ہے کہ اب وہ کھلے عام اپنی نوآبادیاتی فطرت کا اظہار کرتا ہے — بین الاقوامی قوانین، انسانی حقوق اور سفارتی ضوابط کو خاطر میں لائے بغیر۔

سوال: مزاحمت جرم یا حق؟

اس تمام پس منظر میں یہ سوال اہم ہے کہ کیا مزاحمت کا تصور آج بھی ایک جائز انسانی و اخلاقی ردعمل کے طور پر باقی ہے یا اسے بھی سیاست کی میز پر قربان کیا جا چکا ہے؟
فلسطین کے عوام، چاہے وہ غزہ میں ہوں یا مغربی کنارے میں، اپنی بقا کی جو جنگ لڑ رہے ہیں، وہ صرف اسرائیل کے خلاف نہیں بلکہ اس عالمی نظام کے خلاف بھی ہے جو طاقت کے توازن پر خاموش تماشائی بنا بیٹھا ہے۔

ایسی حالت میں جب نہ اقوام متحدہ متحرک ہو، نہ عرب لیگ کی قراردادوں کا اثر ہو، اور نہ عالمی میڈیا حقائق کو بے نقاب کرنے کی ہمت رکھتا ہو — تو عوام کے لیے بچنے والا واحد راستہ اپنی زمین، اپنے بچوں اور اپنی شناخت کی حفاظت کے لیے مزاحمت ہی رہ جاتی ہے۔

مفاہمت کا بیانیہ اور اس کی کمزوریاں

کچھ حلقوں کی طرف سے یہ تجویز بار بار دی جاتی ہے کہ اگر فلسطینی مزاحمتی گروہ، خاص طور پر حماس، اپنے ہتھیار رکھ دیں تو شاید خطے میں امن ممکن ہو سکے۔ یہ بیانیہ نہ صرف سطحی ہے بلکہ تاریخی شعور سے بھی عاری ہے۔

ماضی کی مثالیں گواہ ہیں کہ وہ اقوام جو مغولوں یا حملہ آوروں سے مفاہمت کی امید میں خاموش ہو گئیں، وہ تاریخ سے مٹ گئیں۔ اور وہ اقوام جنہوں نے محدود وسائل کے باوجود مقابلہ کیا، وہ آج بھی اپنی شناخت کے ساتھ زندہ ہیں۔

اسی تناظر میں، حماس یا کسی بھی مزاحمتی تنظیم کا ہتھیار رکھ دینا نہ صرف اسرائیلی ریاست کو کھلی چھوٹ دینے کے مترادف ہو گا، بلکہ اس سے خطے میں طاقت کا توازن مکمل طور پر ختم ہو جائے گا۔

نتیجہ: راستہ آسان نہیں، مگر واضح ہے

اسرائیل اور مغربی طاقتوں کی پالیسی، مزاحمت کو جرم بنا کر پیش کرنے کی ہے۔ دوسری طرف فلسطینی عوام کے لیے زندہ رہنے کا مطلب ہے مسلسل جدوجہد، قربانی اور استقامت۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ عزت، آزادی اور خودمختاری صرف نعرے نہیں بلکہ ان کے لیے قیمت چکانی پڑتی ہے۔

یہ قیمت کبھی معاشی ناکہ بندی کی صورت میں، کبھی بمباری کی شکل میں، اور کبھی بین الاقوامی تنہائی کے ذریعے چکائی جاتی ہے — لیکن یہ قیمت ہی تاریخ میں مقام بناتی ہے۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=1507

ٹیگز

تبصرے