بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔
حریر : سید جہانزیب عابدی
میٹرک اور انٹر کے بعد نوجوانوں کی زندگی کا ایک ایسا مرحلہ آتا ہے جہاں ان کے سامنے درجنوں راستے کھلے ہوتے ہیں، لیکن رہنمائی تقریباً موجود نہیں ہوتی۔ ہمارے معاشرے میں زیادہ تر طلبہ اپنے رجحان، صلاحیت، شخصیت، ذہنی ساخت، معاشی حالات اور مستقبل کے مواقع کو سمجھے بغیر صرف دوسروں کی دیکھا دیکھی فیصلے کرتے ہیں۔ کوئی دوست انجینئرنگ میں جا رہا ہوتا ہے تو وہ بھی اسی طرف چل پڑتا ہے، کوئی رشتہ دار ڈاکٹر بن چکا ہوتا ہے تو پورا خاندان اسی کو کامیابی کا واحد معیار سمجھ لیتا ہے، کوئی سوشل میڈیا پر کسی شعبے کی چمک دمک دیکھتا ہے تو اسی کو مستقبل تصور کر لیتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہزاروں نوجوان اپنی زندگی کے دس، پندرہ یا بیس سال ایسے شعبوں میں گزار دیتے ہیں جو نہ ان کی فطرت کے مطابق ہوتے ہیں اور نہ ہی ان کی صلاحیتوں کے۔
اس مسئلے کا مستقل حل محض چند کیریئر سیمینارز یا وقتی مشوروں سے نہیں نکل سکتا بلکہ اس کے لیے ایک منظم قومی اور سماجی نظام کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے اسکول کے نظام کو صرف امتحان پاس کروانے والی فیکٹری کے بجائے “زندگی کی منصوبہ بندی” کا مرکز بنانا ہوگا۔ آٹھویں جماعت سے ہی بچوں کی صلاحیتوں، دلچسپیوں، ذہنی رجحانات، اخلاقی خصوصیات اور عملی مہارتوں کا مسلسل جائزہ لیا جانا چاہیے تاکہ میٹرک تک پہنچتے پہنچتے بچے اور والدین دونوں کو یہ اندازہ ہو کہ ان کی فطری قوتیں کہاں ہیں۔
دوسرا اہم قدم یہ ہے کہ ہر اسکول اور کالج میں مستقل کیریئر کونسلنگ کا شعبہ قائم ہو۔ یہ کام صرف اساتذہ کے سپرد نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اکثر اساتذہ بھی جدید تعلیمی اور پیشہ ورانہ دنیا سے مکمل واقف نہیں ہوتے۔ ہر انسان ایک جیسا نہیں ہوتا۔ کوئی تجزیاتی ذہن رکھتا ہے، کوئی تخلیقی ہوتا ہے، کوئی لوگوں کے ساتھ کام کرنے میں بہتر ہوتا ہے، کوئی عملی اور فنی کاموں میں مہارت رکھتا ہے۔ ہمارے ہاں اکثر بچے اپنی اصل صلاحیت دریافت کیے بغیر ایک ہی سانچے میں ڈھال دیے جاتے ہیں۔ اگر میٹرک اور انٹر کے دوران معیاری اپٹیٹیوڈ اور انٹرسٹ اسیسمنٹ کرائے جائیں اور ان کے نتائج والدین اور بچوں دونوں کے ساتھ تفصیل سے زیرِ بحث لائے جائیں تو بہت سی غلط سمتیں ابتدا ہی میں رک سکتی ہیں۔ ماہرین تعلیم، صنعتوں کے نمائندے، نفسیات دان اور مختلف شعبوں کے کامیاب افراد مل کر طلبہ کی رہنمائی کریں تاکہ وہ صرف ڈگری نہیں بلکہ اپنے مستقبل کا انتخاب کر سکیں۔
تیسرا مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں کامیابی کو چند پیشوں تک محدود کر دیا گیا ہے۔ ڈاکٹر، انجینئر، سی ایس ایس افسر یا چند دیگر شعبوں کو ہی عزت کا معیار سمجھا جاتا ہے جبکہ دنیا میں سینکڑوں ایسے میدان ہیں جن میں انسان اپنی صلاحیتوں کے مطابق نمایاں مقام حاصل کر سکتا ہے۔ اس ذہنیت کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ اگر کوئی نوجوان تدریس، تحقیق، کاروبار، ٹیکنالوجی، ڈیزائن، میڈیا، زراعت، فنی مہارتوں یا مذہبی علوم میں غیر معمولی صلاحیت رکھتا ہے تو اسے زبردستی کسی اور راستے پر نہیں دھکیلا جانا چاہیے۔ اکثر والدین محدود معلومات کی بنیاد پر صرف چند پیشوں کو عزت، تحفظ یا کامیابی کی علامت سمجھتے ہیں۔ بچے پر دباؤ ڈال کر اسے اس راستے پر ڈال دیا جاتا ہے جس میں والدین کا خواب تو ہوتا ہے مگر بچے کی طبیعت نہیں ہوتی۔ مستقل حل کے لیے والدین کی تربیت بھی ضروری ہے۔ ہر اسکول اور کالج میں سال میں کم از کم دو نشستیں ایسی ہونی چاہئیں جہاں والدین کو جدید تعلیمی اور پیشہ ورانہ دنیا کی حقیقتوں سے آگاہ کیا جائے۔ انہیں بتایا جائے کہ کامیابی اب صرف ڈاکٹر اور انجینئر تک محدود نہیں رہی، بلکہ ڈیٹا، ڈیزائن، تعلیم، زبان، نفسیات، زراعت، ٹیکنالوجی، تجارت، میڈیا، تحقیق، ہنر اور درجنوں دوسرے میدان بھی باوقار اور مؤثر راستے ہیں۔
چوتھا اہم پہلو والدین کی تربیت ہے۔ اکثر والدین اپنی نامکمل خواہشات بچوں پر مسلط کر دیتے ہیں۔ وہ یہ نہیں دیکھتے کہ بچہ کیا بننا چاہتا ہے بلکہ یہ دیکھتے ہیں کہ وہ خود اسے کیا بنانا چاہتے ہیں۔ اس سوچ کی اصلاح ضروری ہے۔ والدین کو یہ سکھانا ہوگا کہ بچے کی فطرت کو سمجھنا اس پر اپنی خواہشات نافذ کرنے سے زیادہ اہم ہے۔ بچہ جب تک کسی شعبے کو قریب سے نہ دیکھے، اس کے بارے میں اس کا فیصلہ ادھورا رہتا ہے۔ کالج کے طلبہ کو مختلف اداروں، صنعتوں، اسپتالوں، عدالتوں، میڈیا ہاؤسز، آئی ٹی کمپنیوں، تحقیقی مراکز اور کاروباری اداروں کے دورے کرائے جائیں۔ مختصر انٹرن شپ اور جاب شیڈونگ پروگرام شروع کیے جائیں تاکہ نوجوان دیکھ سکیں کہ کتابوں سے باہر اصل دنیا کیسے کام کرتی ہے۔ بہت سے نوجوان صرف اس وجہ سے غلط شعبہ اختیار کرتے ہیں کہ انہوں نے کبھی کسی متبادل راستے کو دیکھا ہی نہیں ہوتا۔
پانچواں حل یہ ہے کہ نوجوانوں کو صرف تعلیمی معلومات نہیں بلکہ زندگی کی مہارتیں بھی سکھائی جائیں۔ خود شناسی، شخصیت شناسی، مالی خواندگی، فیصلہ سازی، وقت کا نظم، تنقیدی فکر، ابلاغی صلاحیت اور مسئلہ حل کرنے کی مہارتیں ایسی چیزیں ہیں جو ہر نوجوان کو اپنے مستقبل کا بہتر انتخاب کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ اگر نوجوان خود کو نہیں جانتا تو وہ اپنے راستے کا انتخاب بھی درست نہیں کر سکتا۔ اہم قدم مقامی سطح پر رہنمائی مراکز قائم کرنا ہے۔ ہر ضلع میں ایک ایسا “نوجوان رہنمائی مرکز” ہونا چاہیے جہاں میٹرک اور انٹر کے طلبہ مفت مشورہ لے سکیں۔ وہاں تعلیمی ماہرین، نفسیاتی مشیر، صنعت سے وابستہ افراد اور کامیاب پیشہ ور افراد موجود ہوں جو طالب علم کے حالات، مالی استطاعت، دلچسپی اور مستقبل کے امکانات کو دیکھ کر راستہ تجویز کریں۔ یہ کام صرف بڑے شہروں تک محدود نہیں رہنا چاہیے، کیونکہ بھیڑ چال کا سب سے زیادہ شکار وہ علاقے ہوتے ہیں جہاں معلومات کم پہنچتی ہیں۔
چھٹا پہلو معاشی حقیقتوں کو تعلیم سے جوڑنا ہے۔ ہمارے نوجوان اکثر یہ جانے بغیر ڈگری حاصل کرتے ہیں کہ اس ڈگری کے بعد ملازمت، کاروبار یا فری لانس کام کے کیا امکانات ہیں۔ اگر تعلیمی ادارے ہر سال اپنے طلبہ کو یہ اعداد و شمار دکھائیں کہ کن شعبوں میں کتنی طلب ہے، کس مہارت کی کتنی قدر ہے، اور کن راستوں میں خود روزگار کے مواقع زیادہ ہیں، تو فیصلے زیادہ حقیقت پسندانہ ہوں گے۔ اس سے نوجوان صرف ڈگری نہیں بلکہ قابلِ استعمال مہارت حاصل کرنے کی طرف متوجہ ہوں گے۔
ساتواں اور شاید سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ ہم کامیابی کی تعریف بدلیں۔ جب معاشرہ صرف چند پیشوں کو کامیابی سمجھے گا تو نوجوان بھی انہی راستوں پر ہجوم بن کر چلیں گے۔ ہمیں یہ شعور پیدا کرنا ہوگا کہ عزت دار زندگی، مفید خدمت، ذہنی سکون، اخلاقی استحکام اور معاشی خود کفالت مختلف راستوں سے حاصل ہو سکتی ہے۔ ایک اچھا استاد، محقق، مترجم، پروگرامر، کاریگر، زرعی ماہر، سماجی کارکن یا کاروباری شخص بھی اتنا ہی کامیاب ہو سکتا ہے جتنا کوئی روایتی پیشے والا فرد۔ جب کامیابی کا معیار وسیع ہوگا تو بھیڑ چال خود بخود کم ہوگی۔
اسلامی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو اصل مسئلہ “خود شناسی” کا ہے۔ امیرالمؤمنینؑ کا مشہور فرمان ہے: “جس نے اپنے نفس کو پہچان لیا اس نے اپنے رب کو پہچان لیا۔” انسان جب اپنی فطرت، صلاحیت، کمزوریوں اور مقصدِ حیات کو سمجھ لیتا ہے تو اس کے فیصلے بھی زیادہ درست ہوتے ہیں۔ لہٰذا تعلیمی نظام میں محض کیریئر پلاننگ نہیں بلکہ مقصدِ زندگی، ذمہ داری اور خدمتِ خلق کا شعور بھی شامل ہونا چاہیے۔ کئی مرتبہ بظاہر ایک ملازمت عام سی محسوس ہوتی ہے، لیکن اس کا مجموعی اثر ایسے نظام کو مضبوط کرتا ہے جو ظلم، استحصال، ناانصافی، فریب، سود، جھوٹ، انسانوں کے استحصال، جنگوں، اخلاقی تباہی یا مظلوموں کے حقوق پامال کرنے میں کردار ادا کر رہا ہوتا ہے۔ ایسے حالات میں ایک باشعور نوجوان کے لیے ضروری ہے کہ وہ صرف ظاہری ملازمت نہ دیکھے بلکہ اس ادارے کے مقاصد، مالی ذرائع، کاروباری ماڈل، سماجی اثرات اور عالمی کردار کا بھی جائزہ لے۔ اگر کسی ادارے کی بنیاد انسانوں کے استحصال، جھوٹے پروپیگنڈے، ناجائز مالی نظام، ظلم کے فروغ یا باطل قوتوں کی معاونت پر قائم ہو تو ایک صاحبِ ضمیر انسان کو اس سے حتی المقدور اجتناب کرنا چاہیے اور ایسے متبادل ذرائع تلاش کرنے چاہییں جن سے اس کا رزق بھی پاکیزہ ہو اور اس کی محنت بھی عدل، خیر اور انسانی خدمت کے لیے استعمال ہو۔
اس حساسیت کی ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ دنیا کا معاشی اور تجارتی نظام پہلے کی نسبت کہیں زیادہ پیچیدہ ہو چکا ہے۔ بعض اداروں کا ظاہری تعارف کچھ اور ہوتا ہے جبکہ ان کے اصل سرمایہ کار، مالی تعلقات یا عالمی مفادات کچھ اور ہوتے ہیں۔ اسی لیے ہر نوجوان کے لیے ضروری ہے کہ وہ کسی بھی ملازمت، ادارے یا کاروبار میں داخل ہونے سے پہلے تحقیق کرے، معتبر معلومات حاصل کرے، اس کے پس منظر کو سمجھے اور جذبات یا وقتی مالی فائدے کی بنیاد پر فیصلہ نہ کرے۔
اسی طرح ہر نوجوان کو یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ اگر کسی معاملے میں اسے شرعی، اخلاقی یا سماجی لحاظ سے شبہ ہو تو وہ خود فیصلہ کرنے کے بجائے اپنے خاندان کے بزرگوں، دیانت دار اہلِ علم، دینی ماہرین، تجربہ کار اساتذہ اور صاحبِ بصیرت افراد سے مشورہ کرے۔ بہت سے معاملات ایسے ہوتے ہیں جن کے ظاہری پہلو آسان دکھائی دیتے ہیں لیکن ان کے اندر پیچیدہ اخلاقی اور شرعی مسائل موجود ہوتے ہیں۔ اہلِ علم سے مشورہ انسان کو غلط فیصلوں، حرام کمائی، ضمیر کی خلش اور مستقبل کے پچھتاوے سے محفوظ رکھتا ہے۔
رزق صرف معاشی ضرورت نہیں بلکہ انسان کی شخصیت، فکر اور روح پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ جس روزگار سے ظلم کو تقویت ملتی ہو، وہاں حاصل ہونے والی مالی آسائش بھی حقیقی اطمینان و برکت نہیں دے سکتی، جبکہ وہ روزگار جس سے انسانوں کو فائدہ پہنچے، عدل کو فروغ ملے، معاشرے کی اصلاح ہو اور مظلوموں کی مدد ہو، وہ صرف ذریعۂ معاش نہیں بلکہ عبادت اور خدمتِ خلق بھی بن جاتا ہے۔ اسی لیے نوجوانوں کو اپنے کیریئر کے انتخاب میں صرف ذاتی مفاد نہیں بلکہ اجتماعی خیر، انسانی ذمہ داری اور اخلاقی جواب دہی جو کہ امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ کے ظہور کا بھی مقدمہ ہے، کو بھی سامنے رکھنا چاہیے۔
قرآن مجید اور اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات میں ظلم سے اجتناب صرف ذاتی ظلم نہ کرنے تک محدود نہیں بلکہ ظلم کے نظام، ظالم کی معاونت، اس کی تقویت اور اس کے ظلم میں کسی بھی درجے کی شرکت سے بھی روکا گیا ہے۔ اسی بنا پر نوجوان جب ملازمت، کاروبار یا کسی ادارے کا انتخاب کریں تو ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ صرف تنخواہ، مراعات یا ترقی نہ دیکھیں بلکہ یہ بھی دیکھیں کہ کہیں ان کی صلاحیت اور محنت کسی ظالمانہ نظام کو مضبوط کرنے کا ذریعہ تو نہیں بن رہی۔
قرآن مجید کا واضح فرمان ہے:
﴿وَلَا تَرْكَنُوا إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ﴾
“اور ظالموں کی طرف مائل نہ ہونا، ورنہ تمہیں بھی آگ آ پکڑے گی۔” (سورۂ ہود، 11:113)
یہ آیت صرف ظلم کرنے سے نہیں بلکہ ظالموں کی طرف میلان، وابستگی اور ان کی تقویت سے بھی روکتی ہے۔ فقہاء نے اسی آیت کو ظالموں کی مدد اور ان کے نظام کا حصہ بننے کی حرمت پر بنیادی دلیل قرار دیا ہے۔
قرآن مجید میں ایک اور بنیادی اصول بیان ہوا ہے:
﴿وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ﴾
“نیکی اور تقویٰ میں ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی (ظلم) میں ایک دوسرے کی مدد نہ کرو۔” (سورۂ المائدہ، 5:2)
یہ آیت ہر مسلمان کے لیے ایک دائمی ضابطہ ہے کہ اس کی ملازمت، سرمایہ، تجارت، مہارت یا خدمات ظلم اور گناہ کے فروغ کا ذریعہ نہیں بننی چاہئیں۔
قرآن کریم ظلم کو حدودِ الٰہی سے تجاوز قرار دیتے ہوئے فرماتا ہے:
﴿وَمَن يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ﴾
“جو اللہ کی مقرر کردہ حدود سے تجاوز کریں، وہی ظالم ہیں۔” (سورۂ البقرہ، 2:229)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نہایت سخت فرمان ہے:
«مَنْ مَشَى مَعَ ظَالِمٍ لِيُعِينَهُ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ ظَالِمٌ فَقَدْ خَرَجَ مِنَ الْإِسْلَامِ»
“جو شخص کسی ظالم کے ساتھ اس کی مدد کے لیے چلے جبکہ وہ جانتا ہو کہ وہ ظالم ہے، وہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔” (حوالہ: مجموعہ ورّام، ج 1، ص 45۔ )
امام جعفر صادق علیہ السلام قیامت کے منظر کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
«إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ نَادَى مُنَادٍ: أَيْنَ الظَّلَمَةُ وَأَعْوَانُ الظَّلَمَةِ وَأَشْبَاهُ الظَّلَمَةِ…»
“قیامت کے دن ایک منادی ندا دے گا: ظالم کہاں ہیں، ظالموں کے مددگار کہاں ہیں، اور وہ لوگ کہاں ہیں جو ظالموں جیسے تھے… یہاں تک کہ جس نے ظالم کے لیے قلم یا دوات بھی مہیا کی ہو، سب کو اکٹھا کیا جائے گا۔” (حوالہ: وسائل الشیعہ، ج 17 (کتاب التجارة)۔ )
یہ روایت نوجوانوں کے لیے انتہائی اہم ہے کیونکہ یہ بتاتی ہے کہ ظلم کی معاونت صرف ہتھیار اٹھانے کا نام نہیں بلکہ انتظامی، مالی، فکری، قانونی، میڈیا، تکنیکی اور دفتری خدمات بھی اگر ظلم کے فروغ کا ذریعہ بنیں تو انسان ان کے نتائج کا ذمہ دار ہو سکتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
«مَنْ تَوَلَّى خُصُومَةَ ظَالِمٍ أَوْ أَعَانَ عَلَيْهَا…»
“جو شخص کسی ظالم کے مقدمے یا نزاع کو اپنے ذمہ لے یا اس میں اس کی مدد کرے…”
پھر آپؐ نے ایسے شخص کے لیے اللہ کی لعنت اور جہنم کی وعید بیان فرمائی۔ (حوالہ: وسائل الشیعہ، ج 12، ص 132۔)
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک اور ارشاد ہے:
«مَنْ مَدَحَ سُلْطَانًا جَائِرًا… كَانَ قَرِينَهُ فِي النَّارِ»
“جو کسی ظالم حکمران کی تعریف کرے یا دنیاوی لالچ میں اس کے سامنے خود کو جھکائے، وہ جہنم میں اس کا ساتھی ہوگا۔” (حوالہ: وسائل الشیعہ، ج 14، ص 133۔ )
امام جعفر صادق علیہ السلام نے ظالم حکومتوں میں ملازمت کے بارے میں انتہائی بنیادی اصول بیان فرمایا:
«وَأَمَّا وَجْهُ الْحَرَامِ مِنَ الْوِلَايَةِ فَوِلَايَةُ الْوَالِي الْجَائِرِ… وَالْعَمَلُ لَهُمْ وَالْكَسْبُ مَعَهُمْ… حَرَامٌ»
“حرام ولایت یہ ہے کہ ظالم حکمران کی حکومت میں اس کے لیے کام کیا جائے، اس کی ملازمت اختیار کی جائے اور اس کے ذریعے روزی کمائی جائے… کیونکہ اس میں ظلم کی مدد، باطل کی تقویت اور فساد کے فروغ کا سبب بنتا ہے۔”
البتہ امامؑ نے اضطرار اور حقیقی مجبوری کی بعض استثنائی صورتوں کا بھی ذکر فرمایا ہے۔ (حوالہ: تحف العقول، ص 246۔)
مستقل بنیادوں پر بہترین حل یہ ہے کہ ہر شہر میں “لائف اینڈ کیریئر گائیڈنس سینٹرز” قائم کیے جائیں جہاں طلبہ کو میٹرک اور انٹر کے بعد مفت یا کم خرچ مشاورت، نفسیاتی جانچ، صلاحیتوں کا تجزیہ، مختلف شعبوں کی معلومات، روزگار کے رجحانات اور عملی رہنمائی فراہم کی جائے۔ جب تک رہنمائی کو ایک باقاعدہ ادارہ جاتی نظام کی شکل نہیں دی جائے گی، تب تک نوجوان بھیڑ چال کا شکار ہوتے رہیں گے اور عمر کے کسی نہ کسی مرحلے میں یہ احساس کرتے رہیں گے کہ انہوں نے اپنی زندگی کا اہم حصہ ایسے راستے پر صرف کر دیا جو ان کے لیے مناسب نہیں تھا۔
اصل میں میٹرک اور انٹر کے بعد نوجوان کو صرف “کیا پڑھنا ہے” یہ نہیں چاہیے ہوتا، بلکہ “میں کون ہوں، میری صلاحیت کیا ہے، مجھے کس سمت جانا چاہیے، اور اس سمت کی حقیقت کیا ہے” اس کا جواب چاہیے ہوتا ہے۔ اگر خاندان، تعلیمی ادارے اور ریاست مل کر یہ چار سوال واضح کر دیں تو ہزاروں نوجوان ایسی زندگی گزارنے سے بچ سکتے ہیں جو انہوں نے اپنی مرضی سے نہیں بلکہ دوسروں کی نقل میں اختیار کی ہو۔ مستقل بنیادوں پر یہی وہ راستہ ہے جو پچھتاوے کی نسل کے بجائے باخبر، باصلاحیت اور بااختیار نسل پیدا کر سکتا ہے۔
درحقیقت کسی قوم کی سب سے بڑی سرمایہ کاری سڑکوں، عمارتوں اور منصوبوں میں نہیں بلکہ اپنے نوجوانوں کو صحیح وقت پر صحیح سمت دینے میں ہوتی ہے۔ جو معاشرے اپنے نوجوانوں کو خود شناسی، مقصد شناسی اور مستقبل شناسی سکھا دیتے ہیں، وہاں پچھتاوے کم اور کامیابیاں زیادہ پیدا ہوتی ہیں۔
