بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔
سید جہانزیب عابدی
قرآن مجید انسانی تاریخ کو محض ماضی کے واقعات کی کتاب کے طور پر بیان نہیں کرتا، بلکہ اسے انسان کی فکری، اخلاقی اور تمدنی تشکیل کے لیے ایک زندہ آئینہ بنا کر پیش کرتا ہے۔ اسی لیے قرآن میں مذکور شخصیات اور اقوام کا اصل مقصد تاریخ بیان کرنا نہیں بلکہ ایسے دائمی اصول اور قوانینِ الٰہی کو واضح کرنا ہے جو ہر دور کے انسان پر یکساں طور پر منطبق ہوتے ہیں۔ انہی آفاقی مثالوں میں ایک نہایت عبرت آموز مثال اس شخصیت کی ہے جسے مفسرین نے بلعم باعورا کے نام سے پہچانا ہے۔ یہ واقعہ اس حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے کہ علم، عبادت، روحانی مقام اور غیر معمولی صلاحیتیں بھی اس وقت تک انسان کی نجات کی ضمانت نہیں بن سکتیں جب تک وہ اخلاص، تقویٰ، حق سے وفاداری اور خواہشاتِ نفس پر غلبے کے ساتھ وابستہ نہ ہوں۔ موجودہ دور، جس میں معلومات کی فراوانی، فکری انتشار، مادہ پرستی، اقتدار کی سیاست اور علم کی تجارت اپنے عروج پر ہے، اس قرآنی مثال کو غیر معمولی اہمیت عطا کرتا ہے۔ چنانچہ اس واقعے کا مطالعہ صرف ایک تاریخی شخصیت کے انجام کو جاننے کے لیے نہیں، بلکہ اپنے عہد کے فکری، مذہبی، تعلیمی اور سیاسی بحرانوں کو قرآن کی روشنی میں سمجھنے اور ان سے رہنمائی حاصل کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔
قرآن مجید میں بلعم باعورا کا واقعہ ان چند مثالوں میں سے ہے جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے علم، ہدایت، اختیار اور اخلاقی سقوط کے درمیان تعلق کو نہایت گہرے انداز میں واضح کیا ہے۔ اگرچہ قرآن نے اس شخص کا نام صراحت کے ساتھ ذکر نہیں کیا، لیکن مفسرین کی ایک بڑی تعداد نے سورۂ اعراف کی آیات 175 تا 176 میں مذکور شخص کو بلعم باعورا قرار دیا ہے۔ قرآن کا اصل مقصود کسی تاریخی شخصیت کا تعارف کرانا نہیں بلکہ ایک دائمی انسانی حقیقت کو آشکار کرنا ہے کہ محض علم، عبادت یا روحانی مقام انسان کی نجات کی ضمانت نہیں، بلکہ اصل معیار یہ ہے کہ وہ اپنے علم اور معرفت کے ساتھ کس حد تک وفادار رہتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“اور ان پر اس شخص کا واقعہ پڑھ کر سناؤ جسے ہم نے اپنی نشانیاں عطا کی تھیں، پھر وہ ان سے الگ ہوگیا، تو شیطان اس کے پیچھے لگ گیا، پس وہ گمراہوں میں شامل ہوگیا۔ اور اگر ہم چاہتے تو انہی نشانیوں کے سبب اسے بلند مرتبہ عطا کرتے، لیکن وہ زمین کی طرف جھک گیا اور اپنی خواہشات کے پیچھے چل پڑا، پس اس کی مثال اس کتے کی سی ہے کہ اگر تم اس پر حملہ کرو تو بھی زبان نکالے رکھتا ہے اور اگر اسے چھوڑ دو تو بھی زبان نکالے رکھتا ہے۔ یہی مثال ان لوگوں کی ہے جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا۔”
(سورۂ اعراف 7:175-176)
شیعہ مفسرین خصوصاً علامہ محمد حسین طباطبائی، شیخ طبرسی اور دیگر مفسرین نے بیان کیا ہے کہ اس شخص کو اللہ تعالیٰ نے اسمِ اعظم یا غیر معمولی روحانی معرفت عطا فرمائی تھی، اس کی دعائیں قبول ہوتی تھیں اور وہ حق کو پہچانتا تھا، لیکن جب اس کے دنیاوی مفادات، اقتدار کی خواہش اور نفسانی رجحانات حق کے مقابل آگئے تو اس نے اپنے علم کو حق کی خدمت کے بجائے باطل کی حمایت کے لیے استعمال کیا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں قرآن “انسلخ منها” کا لفظ استعمال کرتا ہے، یعنی وہ آیاتِ الٰہی سے اس طرح نکل گیا جیسے سانپ اپنی کھال سے نکل جاتا ہے۔ اس تعبیر میں یہ نکتہ موجود ہے کہ ہدایت اس سے زبردستی نہیں چھینی گئی بلکہ اس نے خود اسے ترک کیا۔
قرآن اس مثال کے ذریعے سب سے پہلے یہ حقیقت واضح کرتا ہے کہ علم بذاتِ خود انسان کو محفوظ نہیں رکھتا۔ اگر علم کے ساتھ تقویٰ، اخلاص، خشیتِ الٰہی اور نفس کی تربیت نہ ہو تو وہی علم انسان کی ہلاکت کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ اسی لیے اسلام میں “عالمِ بے عمل” کو انتہائی خطرناک قرار دیا گیا ہے، کیونکہ وہ نہ صرف خود گمراہ ہوتا ہے بلکہ دوسروں کو بھی گمراہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اس واقعے کا دوسرا اہم سبق یہ ہے کہ انسان کی حقیقی آزمائش اس وقت شروع ہوتی ہے جب علم کا تقابل مفاد سے ہوتا ہے۔ جب تک حق پر چلنے میں کوئی قیمت ادا نہ کرنی پڑے، بہت سے لوگ حق کے ساتھ رہتے ہیں، لیکن جب دنیاوی منفعت، شہرت، اقتدار، دولت یا عوامی مقبولیت اور حق میں ٹکراؤ پیدا ہوتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ انسان کا دل کس کے ساتھ وابستہ ہے۔ بلعم باعورا اسی امتحان میں ناکام ہوا۔
قرآن کا یہ فرمان کہ “وہ زمین کی طرف جھک گیا” (أخلد إلى الأرض) نہایت معنی خیز ہے۔ اس سے مراد صرف مادی زمین نہیں بلکہ دنیا پرستی، خواہشات کی غلامی، اقتدار کی محبت اور نفس کی پیروی ہے۔ گویا انسان جتنا اپنی روحانی حقیقت سے دور اور مادی خواہشات میں گرفتار ہوتا جاتا ہے، اتنا ہی اس کا علمی اور روحانی مقام بے معنی ہوتا جاتا ہے۔
اس واقعے میں کتے کی مثال بھی نہایت گہری حکمت رکھتی ہے۔ قرآن کا مقصد کسی جانور کی توہین نہیں بلکہ ایک نفسیاتی کیفیت کو بیان کرنا ہے۔ کتے کا زبان نکالے رکھنا ایک مستقل کیفیت ہے۔ اسی طرح خواہشاتِ نفس کا غلام انسان بھی کبھی سیر نہیں ہوتا۔ اسے اقتدار مل جائے تو مزید اقتدار چاہیے، دولت مل جائے تو مزید دولت چاہیے، شہرت مل جائے تو مزید شہرت چاہیے۔ اس کی حرص کا کوئی اختتام نہیں ہوتا۔ قرآن اس دائمی بے قراری کو ایک محسوس مثال کے ذریعے بیان کرتا ہے۔
اہل بیتؑ کی روایات میں بھی اس مثال کو ہر دور کے ان علماء پر منطبق کیا گیا ہے جو اپنے علم کو دنیا کے لیے بیچ دیتے ہیں۔ امام محمد باقر اور امام جعفر صادق سے منقول روایات میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ آیاتِ الٰہی کے حامل اگر دنیا کی محبت میں گرفتار ہوجائیں تو ان کا انجام بلعم باعورا جیسا ہوسکتا ہے۔ اس لیے یہ واقعہ صرف بنی اسرائیل کی تاریخ نہیں بلکہ ہر زمانے کے اہلِ علم، اہلِ دین، قائدین، مبلغین اور حتیٰ کہ ہر صاحبِ شعور انسان کے لیے ایک دائمی تنبیہ ہے۔
اس مثال میں ایک اور لطیف نکتہ بھی پوشیدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: “اگر ہم چاہتے تو انہی آیات کے ذریعے اسے بلند کردیتے۔” اس سے معلوم ہوتا ہے کہ الٰہی علم انسان کو بلندی عطا کرنے کی کامل صلاحیت رکھتا ہے، مگر یہ بلندی علم کی وجہ سے نہیں بلکہ علم کے مطابق زندگی گزارنے کی وجہ سے حاصل ہوتی ہے۔ علم ایک سیڑھی ہے، منزل نہیں۔ اگر انسان اسی سیڑھی سے اوپر چڑھے تو قربِ الٰہی حاصل کرتا ہے، اور اگر اسی پر بیٹھ کر دنیا کا سودا کرے تو وہی علم اس کے سقوط کا سبب بن جاتا ہے۔
جدید دور میں اس واقعے کی اہمیت شاید ماضی کے کسی بھی زمانے سے زیادہ بڑھ گئی ہے، کیونکہ آج انسان کے پاس علم پہلے سے کہیں زیادہ ہے، مگر اسی نسبت سے گمراہی، اخلاقی انحطاط، فکری انتشار اور حق سے انحراف بھی بڑھ گیا ہے۔ گویا قرآن یہ بتانا چاہتا ہے کہ انسانیت کا اصل بحران “علم کی کمی” نہیں بلکہ “علم کی بے وفائی” ہے۔
جدید تہذیب کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس نے معلومات (Information) اور علم (Knowledge) میں بے مثال اضافہ کیا ہے، لیکن حکمت (Wisdom)، تقویٰ اور اخلاقی ذمہ داری کو زندگی کے مرکز سے ہٹا دیا ہے۔ مصنوعی ذہانت، جینیاتی انجینئرنگ، خلائی سائنس، معاشیات، نفسیات اور ذرائع ابلاغ میں حیرت انگیز ترقی کے باوجود دنیا جنگوں، استحصال، ظلم، ذہنی اضطراب اور روحانی خلا سے بھری ہوئی ہے۔ قرآن کے نزدیک یہی “بلعم باعورا کا تمدنی ماڈل” ہے؛ یعنی علم موجود ہے، لیکن وہ خدا کی طرف لے جانے کے بجائے خواہشات، طاقت اور دنیاوی مفادات کی خدمت کر رہا ہے۔
بلعم باعورا کی سب سے بڑی غلطی یہ نہیں تھی کہ وہ جاہل تھا، بلکہ یہ تھی کہ اس نے اپنے علم کو فروخت کر دیا۔ آج بھی جدید دنیا میں سب سے بڑا خطرہ جہالت نہیں بلکہ “فروخت شدہ علم” (Commercialized Knowledge) ہے۔ جب سائنس سرمایہ دارانہ مفادات کی غلام بن جائے، جب میڈیا سچائی کے بجائے طاقتور طبقوں کے بیانیے کا آلہ بن جائے، جب جامعات آزاد تحقیق کے بجائے سیاسی اور معاشی مراکز کے تابع ہو جائیں، جب مذہبی علماء حکومتوں یا دولت مند طبقوں کے مفادات کی ترجمانی کرنے لگیں، تو حقیقت میں بلعم باعورا کا کردار ایک فرد سے نکل کر پورے نظام میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
قرآن نے فرمایا کہ وہ “زمین کی طرف جھک گیا”۔ جدید دور میں “زمین” صرف مادی دنیا نہیں بلکہ پوری مادہ پرستانہ تہذیب (Materialistic Civilization) کی علامت بن چکی ہے۔ آج انسان کی کامیابی کا معیار خدا کی رضا، عدل، تقویٰ یا خدمت نہیں بلکہ دولت، شہرت، طاقت، سوشل میڈیا کی مقبولیت، سیاسی اثر و رسوخ اور صارفیت (Consumerism) بن چکا ہے۔ جب یہی چیزیں انسانی فیصلوں کا معیار بن جائیں تو ہر صاحبِ علم بلعم باعورا کے امتحان میں داخل ہو جاتا ہے۔
آج کے دور میں بلعم باعورا صرف مذہبی شخصیت نہیں بلکہ وہ ہر شعبے میں موجود ہے۔ ایک سائنس دان جو جانتا ہے کہ اس کی تحقیق انسانیت کے لیے نقصان دہ ہے مگر مالی فائدے کے لیے اسے جاری رکھتا ہے، ایک ڈاکٹر جو مریض کے مفاد کے بجائے منافع کو ترجیح دیتا ہے، ایک جج جو قانون کو جانتے ہوئے بھی طاقتور کے حق میں فیصلہ دیتا ہے، ایک استاد جو تعلیم کو کردار سازی کے بجائے صرف ملازمت کا ذریعہ بنا دیتا ہے، ایک صحافی جو حقیقت جانتے ہوئے بھی جھوٹے بیانیے کو فروغ دیتا ہے، ایک دانشور جو سچ کو مصلحت پر قربان کر دیتا ہے، ایک مذہبی عالم جو حق کو پہچاننے کے باوجود اقتدار یا عوامی مقبولیت کے لیے خاموش رہتا ہے، یہ سب اسی قرآنی مثال کے مختلف مظاہر ہو سکتے ہیں۔
اس واقعے کی ایک غیر معمولی اہمیت مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کے دور میں بھی سامنے آتی ہے۔ آج انسان نے ایسی ٹیکنالوجی پیدا کر لی ہے جو علم کو لاکھوں گنا تیزی سے پیدا اور تقسیم کر سکتی ہے، لیکن اگر اس علم کی رہنمائی اخلاق، وحی اور انسانی ذمہ داری نہ کرے تو یہی علم ظلم، نگرانی (Mass Surveillance)، ذہنی کنٹرول، غلط معلومات، جنگی ٹیکنالوجی اور انسانی آزادی کے خاتمے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ قرآن گویا پہلے ہی متنبہ کر رہا ہے کہ علم ہمیشہ خیر پیدا نہیں کرتا؛ خیر اس وقت پیدا ہوتی ہے جب علم خدا ترسی اور اخلاقی جواب دہی کے ساتھ وابستہ ہو۔
سیاسی میدان میں بھی یہ مثال حیرت انگیز طور پر زندہ ہے۔ تاریخ میں ہمیشہ طاقتور حکمران ایسے علماء، مفکرین اور دانشوروں کی تلاش میں رہے ہیں جو ظلم کو عدل، استبداد کو استحکام، قبضے کو امن، اور ظلم کو قومی مفاد کا نام دے سکیں۔ قرآن کا پیغام یہ ہے کہ جب علم اقتدار کا خادم بن جائے تو وہ اپنی روح کھو دیتا ہے۔ اس لیے بلعم باعورا کا واقعہ ہر دور کے درباری علماء اور اقتدار پرست دانشوروں کے لیے آئینہ ہے۔
ثقافتی اور فکری سطح پر بھی یہ واقعہ نہایت اہم ہے۔ آج معلومات کا سیلاب ہے، مگر سچ اور جھوٹ کی تمیز مشکل ہوتی جا رہی ہے۔ لوگ تعلیم یافتہ ہیں مگر فکری طور پر منتشر ہیں۔ قرآن اس بحران کی جڑ کو خواہشات کی پیروی میں دیکھتا ہے۔ جب انسان سچ کی تلاش نہیں بلکہ اپنے رجحانات کی تصدیق چاہتا ہے تو وہ حق کو جاننے کے باوجود قبول نہیں کرتا۔ یہی بلعم باعورا کی نفسیات تھی کہ اس نے حقیقت کو نہیں چھوڑا کیونکہ وہ غلط تھی، بلکہ اس لیے چھوڑا کہ اس کی خواہشات اس کے خلاف تھیں۔
اس مثال کی ایک اور اہم جہت یہ ہے کہ قرآن نے اس کے انجام کو “انسلخ منها” کے لفظ سے بیان کیا، یعنی وہ آیاتِ الٰہی سے خود نکل گیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اخلاقی زوال اچانک نہیں آتا بلکہ آہستہ آہستہ انسان اپنے ضمیر، اپنے علم اور اپنی فطرت سے دور ہوتا جاتا ہے۔ جدید معاشروں میں بھی بڑے بڑے اخلاقی جرائم اکثر ایک چھوٹی سی مصلحت، ایک معمولی سمجھوتے اور ایک وقتی مفاد سے شروع ہوتے ہیں، پھر وہ انسان کی مستقل شخصیت بن جاتے ہیں۔
شیعہ مکتبِ فکر کی روشنی میں یہ مثال ایک اور گہرا مفہوم رکھتی ہے۔ اہل بیتؑ کی تعلیمات میں علم کو ہمیشہ ولایت، تقویٰ اور تزکیۂ نفس کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔ صرف معلومات یا فقہی مہارت کافی نہیں، بلکہ علم کا مقصد انسان کو خدا کے قریب لانا، عدل قائم کرنا اور حق کی نصرت کرنا ہے۔ اسی لیے روایات میں ایسے عالم کی سخت مذمت کی گئی ہے جو اپنے علم کو دنیا کے بدلے فروخت کر دے، کیونکہ وہ صرف اپنی ذات کو نہیں بلکہ پوری امت کو گمراہ کر سکتا ہے۔
اگر اس مثال کو موجودہ عالمی منظرنامے پر منطبق کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ قرآن دراصل ایک دائمی قانون بیان کر رہا ہے۔ جب بھی کوئی تہذیب علم کو اخلاق سے، طاقت کو عدل سے، سیاست کو حق سے، معیشت کو انصاف سے اور مذہب کو اخلاص سے جدا کر دیتی ہے، تو وہ بلعم باعورا کے راستے پر چل پڑتی ہے۔ ایسی تہذیب وقتی طور پر طاقتور دکھائی دے سکتی ہے، لیکن اندر سے کھوکھلی ہو جاتی ہے، کیونکہ اس کے پاس معلومات تو ہوتی ہیں مگر بصیرت نہیں، مہارت تو ہوتی ہے مگر حکمت نہیں، طاقت تو ہوتی ہے مگر اخلاق نہیں۔
اس اعتبار سے بلعم باعورا صرف ایک تاریخی کردار نہیں بلکہ ایک قرآنی “آرکی ٹائپ” (Archetype) ہے، یعنی ایسا نمونہ جس کے ذریعے قرآن ہر زمانے کے انسان کو اپنا محاسبہ کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ بلعم باعورا کون تھا؛ سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا علم ہمیں خدا کے قریب لے جا رہا ہے یا ہماری خواہشات، مفادات، شہرت اور اقتدار کی خدمت کر رہا ہے؟ اگر علم حق کے بجائے نفس کی اطاعت میں آ جائے تو ہر دور میں بلعم باعورا دوبارہ زندہ ہو جاتا ہے، اور اگر علم تقویٰ، عدل اور ولایتِ حق کے تابع ہو جائے تو وہی علم انسان اور معاشرے دونوں کے لیے ہدایت، تعمیر اور نجات کا سرچشمہ بن جاتا ہے۔
اس لیے قرآن میں بلعم باعورا کی مثال کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ ہدایت ایک زندہ تعلق ہے جسے مسلسل اخلاص، تقویٰ، تزکیۂ نفس اور حق کے ساتھ وفاداری کے ذریعے برقرار رکھنا پڑتا ہے۔ علم، عبادت، کرامات یا مذہبی مقام اس تعلق کا بدل نہیں بن سکتے۔ جو شخص اپنے نفس کو اپنے علم پر غالب آنے دیتا ہے، وہ آخرکار اسی علم سے محروم ہوجاتا ہے جو کبھی اس کی سب سے بڑی نعمت تھا، جبکہ جو شخص خواہشات پر قابو رکھتا ہے اور حق کے ساتھ ثابت قدم رہتا ہے، اللہ تعالیٰ اسی علم کو اس کی دائمی رفعت اور قربِ الٰہی کا ذریعہ بنا دیتا ہے
