بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
حریر : سید جہانزیب عابدی
انسان کی اجتماعی شناخت ہمیشہ سے مختلف دائروں میں قائم رہی ہے۔ وہ ایک خاندان، قبیلے، علاقے، زبان، تہذیب اور معاشرے سے تعلق رکھتا ہے، لیکن ان تمام دائروں میں سب سے اعلیٰ اور بنیادی شناخت کیا ہے؟ یہی وہ سوال ہے جس کا جواب قرآن مجید اور اہل بیتؑ کی تعلیمات ایک منفرد انداز میں دیتی ہیں۔ جدید دنیا میں ریاست (State) اور قوم (Nation) کو انسانی وفاداری کا سب سے بڑا مرکز بنا دیا گیا ہے، یہاں تک کہ “سب سے پہلے پاکستان”، “سب سے پہلے ہندوستان”، “سب سے پہلے امریکہ” جیسے نعرے ایک اخلاقی اصول کے طور پر پیش کیے جاتے ہیں۔ جبکہ قرآن مجید انسان کو ایک ایسے عالمی ایمانی معاشرے کا حصہ قرار دیتا ہے جسے “امت” کہا جاتا ہے۔ یہی فرق اسلامی تصورِ اجتماعیت اور جدید قوم پرستی کے درمیان بنیادی امتیاز ہے۔
قرآن مجید میں “قوم” کا لفظ ضرور آیا ہے، لیکن یہ لفظ موجودہ سیاسی اصطلاح “Nation-State” کے معنی میں استعمال نہیں ہوا۔ قرآن میں “قوم” سے مراد ایک انسانی گروہ، ایک معاشرہ یا کسی نبی کی طرف منسوب لوگ ہیں، جیسے قومِ نوح، قومِ عاد، قومِ ثمود، قومِ موسیٰ یا قومِ فرعون۔ ان میں سے کسی کی تعریف مشترک سرحد، پرچم، قومی ترانے یا ریاستی خودمختاری سے نہیں کی گئی بلکہ ان کی اصل شناخت ان کے ایمان، اخلاق، کردار اور الٰہی ہدایت کے ساتھ تعلق سے متعین ہوتی ہے۔
قرآن مجید انسانی تنوع کو تسلیم کرتا ہے لیکن اسے برتری کا معیار نہیں بناتا۔ ارشادِ الٰہی ہے:
﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن ذَكَرٍ وَأُنثَىٰ وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا ۚ إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ﴾ الحجرات: 13
یعنی اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہیں مختلف قوموں اور قبیلوں میں اس لیے تقسیم کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو، بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ قوم، نسل، زبان اور علاقہ صرف تعارف کے ذرائع ہیں، فضیلت کے معیار نہیں۔ اسلام شناخت (Identity) کو تسلیم کرتا ہے لیکن شناخت پر فخر، تعصب یا برتری کے نظریے کو رد کرتا ہے۔
اسی طرح قرآن مجید مسلمانوں کی بنیادی شناخت یوں بیان کرتا ہے:
﴿إِنَّ هَذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَأَنَا رَبُّكُمْ فَاعْبُدُونِ﴾ الأنبياء: 92
اور سورۂ مؤمنون (52) میں بھی یہی مضمون دہرایا گیا ہے کہ تمہاری یہ امت ایک ہی امت ہے اور میں تمہارا رب ہوں۔
یہاں امت کی بنیاد نہ نسل ہے، نہ وطن، نہ زبان اور نہ جغرافیہ، بلکہ توحید، نبوت، وحی اور اطاعتِ الٰہی ہے۔ قرآن کے نزدیک ایک پاکستانی مسلمان، ایک ایرانی مسلمان، ایک نائجیرین مسلمان اور ایک انڈونیشی مسلمان دراصل ایک ہی امت کے افراد ہیں، اگرچہ ان کی ریاستیں الگ ہوں۔
قرآن نے امتِ مسلمہ کو “امت وسط” بھی قرار دیا:
﴿وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِّتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ﴾ البقرة: 143
امت وسط سے مراد صرف اعتدال پسند جماعت نہیں بلکہ وہ امت ہے جو حق و عدل کی گواہ، الٰہی ہدایت کی حامل اور پوری انسانیت کے لیے نمونہ ہو۔ اس کی ذمہ داری صرف اپنے ملک یا اپنی قوم تک محدود نہیں بلکہ پوری انسانیت کے سامنے حق کی شہادت دینا ہے۔ اس لیے امت وسط کا تصور عالمی، اخلاقی اور رسالتی ذمہ داری پر مبنی ہے، جبکہ جدید قوم پرستی ریاستی مفادات، قومی سلامتی اور جغرافیائی حدود تک محدود رہتی ہے۔
اسلام میں وطن سے محبت ایک فطری امر ہے۔ انسان اپنے شہر، اپنے گاؤں، اپنی سرزمین اور اپنے معاشرے سے محبت کرتا ہے، اور رسول اکرمصل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ سے ہجرت کے وقت مکہ کے لیے محبت کا اظہار بھی فرمایا۔ لیکن اسلام نے اس محبت کو عقیدے اور حق سے بلند نہیں کیا۔ اگر وطن اور دین میں تصادم پیدا ہو جائے تو قرآن کی تعلیم یہ ہے کہ اللہ، رسول اور حق کی اطاعت مقدم ہوگی۔
قرآن مجید فرماتا ہے:
﴿لَا تَجِدُ قَوْمًا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ يُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ﴾ المجادلة: 22
یعنی ایمان والے ایسے لوگوں سے قلبی وابستگی نہیں رکھتے جو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہوں، خواہ وہ ان کے قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں۔
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں وفاداری (Loyalty) کی بنیاد ایمان اور حق ہے، نہ کہ صرف خاندانی، قبائلی یا قومی تعلق۔
اہل بیتؑ کی روایات بھی اسی اصول کی تائید کرتی ہیں۔ رسول اکرمصل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
«ليس منا من دعا إلى عصبية، وليس منا من قاتل على عصبية، وليس منا من مات على عصبية.»
یعنی وہ ہم میں سے نہیں جو عصبیت کی دعوت دے، نہ وہ جو عصبیت پر لڑے اور نہ وہ جو عصبیت پر مرے۔
اسی طرح فرمایا:
«من قاتل تحت راية عمية يدعو إلى عصبية أو ينصر عصبية فقتلته جاهلية.»
جو شخص اندھی جھنڈے کے نیچے عصبیت کی خاطر لڑے یا عصبیت کی حمایت کرے، اس کی موت جاہلیت کی موت ہے۔
امام جعفر صادقؑ نے فرمایا:
«من تعصب أو تُعصب له فقد خلع ربقة الإيمان من عنقه.»
جو شخص عصبیت اختیار کرے یا عصبیت کی حمایت کرے، اس نے اپنے گلے سے ایمان کا قلادہ اتار دیا۔
یہ روایات واضح کرتی ہیں کہ اسلام ہر اس اجتماعی وابستگی کو رد کرتا ہے جو حق و باطل کی بجائے نسل، زبان، وطن یا قوم کی بنیاد پر قائم ہو۔
یہاں یہ نکتہ بھی اہم ہے کہ موجودہ قومی ریاست (Nation-State) کا تصور اسلام کے ابتدائی ادوار میں موجود نہیں تھا۔ یہ تصور یورپ میں ویسٹ فیلیا (1648ء) کے بعد اور خاص طور پر اٹھارویں اور انیسویں صدی میں جدید قوم پرستی کے نظریات کے ساتھ ابھرا۔ اس نظریے میں ریاست کو سب سے بڑی وفاداری کا مرکز قرار دیا گیا، جبکہ اسلام میں حاکمیت صرف اللہ کی ہے اور مسلمانوں کی اصل اجتماعی وحدت امت ہے۔
قرآن مجید مسلمانوں کو باہمی اخوت کا حکم دیتا ہے:
﴿إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ﴾ الحجرات: 10
اس اخوت میں کوئی نسلی، جغرافیائی یا ریاستی تقسیم اصل حیثیت نہیں رکھتی۔ اگر ایک مسلمان فلسطین میں مظلوم ہو، دوسرا کشمیر میں، تیسرا یمن میں اور چوتھا افریقہ میں، تو قرآن کے مطابق سب ایک دوسرے کے دینی بھائی ہیں۔ جدید قوم پرستی میں اکثر ریاستی مفادات اس اخوت پر غالب آ جاتے ہیں، جبکہ اسلام اس کے برعکس ایمانی رشتہ کو مقدم قرار دیتا ہے۔
اسلام یہ بھی نہیں کہتا کہ ریاست، وطن یا ملکی قانون کی کوئی اہمیت نہیں۔ مسلمانوں کو اپنے معاہدوں کی پابندی، اپنے ملک میں عدل قائم کرنے، امن برقرار رکھنے، ہم وطنوں کے حقوق ادا کرنے اور فساد سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے۔ لیکن یہ سب اس وقت تک ہے جب تک وہ اللہ کی اطاعت کے خلاف نہ ہو۔ اس لیے اسلام میں ریاست ایک انتظامی اور سیاسی ضرورت ہے، جبکہ امت ایک دائمی دینی حقیقت ہے۔
اسی بنا پر اہل بیتؑ کی سیرت میں بھی دیکھا جاتا ہے کہ انہوں نے کبھی نسلی، لسانی یا جغرافیائی برتری کو معیار نہیں بنایا۔ سلمان فارسیؓ، بلال حبشیؓ، صہیب رومیؓ اور دیگر غیر عرب صحابہ کو رسول اللہصل اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اہل بیتؑ نے عزت دی کیونکہ معیار ایمان اور تقویٰ تھا، نہ کہ قومیت۔
نتیجتاً قرآن مجید کے نزدیک جدید قوم پرستی، اگر صرف انتظامی شناخت، قانونی شہریت اور معاشرتی نظم تک محدود رہے اور حق و عدل سے متصادم نہ ہو، تو یہ ایک عملی حقیقت کے طور پر قابلِ قبول ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر قوم، وطن، ریاست، پرچم یا قومی مفاد کو دین، امت، عدل اور حق سے بالاتر مقام دے دیا جائے، یا دوسروں پر ظلم، تعصب، نفرت اور برتری کا ذریعہ بنایا جائے، تو یہ اسلامی تعلیمات کے منافی ہے اور جاہلی عصبیت کی ایک جدید شکل بن جاتی ہے۔
قرآن انسان کو وطن سے کاٹ کر نہیں بلکہ وطن کو امت کے وسیع تر دائرے میں رکھ کر دیکھتا ہے۔ مسلمان اپنے ملک سے محبت کرتا ہے، اس کی تعمیر کرتا ہے، اس کے قوانین کی پاسداری کرتا ہے، اس کی ترقی میں حصہ لیتا ہے، لیکن اس کی سب سے بڑی شناخت نہ پاکستانی ہونا ہے، نہ ایرانی، نہ عرب، نہ ترک، بلکہ عبدِ خدا اور امتِ محمدیؐ کا فرد ہونا ہے۔ یہی وہ تصور ہے جو امتِ واحدہ، امتِ وسط اور اخوتِ ایمانی کی بنیاد بنتا ہے اور جو جدید قوم پرستی کے محدود، جغرافیائی اور ریاستی تصور سے بنیادی طور پر مختلف ہے۔
جیسا کہ ہم نے دیکھا کہ قرآن مجید کی نگاہ میں اصل مرکز “ریاست” نہیں بلکہ “حق” ہے، اصل بنیاد “جغرافیہ” نہیں بلکہ “ہدایت” ہے، اصل وابستگی “نسل” نہیں بلکہ “ایمان” ہے، اور اصل وحدت “قوم” نہیں بلکہ “امت” ہے۔ اسی لیے قرآن مجید جب انسانوں کو تقسیم کرتا ہے تو بنیادی تقسیم مومن اور کافر، حق اور باطل، عدل اور ظلم، ہدایت اور گمراہی کی بنیاد پر کرتا ہے، نہ کہ پاکستانی، ایرانی، عرب، ترک، امریکی یا کسی دوسری جدید قومی شناخت کی بنیاد پر۔
اسلامی نقطۂ نظر میں ریاست بذاتِ خود نہ مقدس ہوتی ہے اور نہ ہی مطلق قابلِ اطاعت۔ ریاست ایک ذریعہ ہے، مقصد نہیں۔ مقصد اللہ کی بندگی، عدل کا قیام، ظلم کا خاتمہ، انسانی کرامت کا تحفظ اور زمین پر الٰہی ہدایت کا نفاذ ہے۔ اگر کوئی ریاست ان مقاصد کے قریب ہو تو وہ اسلامی اقدار سے قریب سمجھی جائے گی، اور اگر انہی مقاصد سے دور ہو تو محض اس کا مسلمان اکثریت پر مشتمل ہونا یا اس کا نام اسلامی ہونا اس کے حق ہونے کی دلیل نہیں بن جاتا۔
اسی اصول کی روشنی میں اگر موجودہ دنیا میں کوئی ایسی ریاست موجود ہو جو مکمل اور کامل اسلامی نمونہ نہ ہونے کے باوجود عمومی طور پر ظلم، استعمار، استکبار، صہیونیت یا دیگر باطل طاقتوں کے مقابلے میں زیادہ عدل، زیادہ استقلال، زیادہ دینی آزادی، زیادہ مظلوموں کی حمایت اور زیادہ اسلامی اقدار کے تحفظ کی کوشش کر رہی ہو، تو اس کی حمایت کو قوم پرستی کے دائرے میں نہیں بلکہ “حق کی نصرت” کے دائرے میں دیکھا جائے گا۔
یہ حمایت اس لیے نہیں ہوگی کہ وہ فلاں قوم کی ریاست ہے، فلاں نسل کی ریاست ہے یا فلاں زبان بولنے والوں کی ریاست ہے، بلکہ اس لیے ہوگی کہ وہ کسی معین مرحلے میں حق کے قریب اور باطل کے مقابلے میں زیادہ استقامت پر کھڑی نظر آتی ہے۔ اس صورت میں مسلمان کی وابستگی جغرافیہ سے نہیں بلکہ اصول سے ہوگی۔
اسلام میں دو مختلف قسم کی وفاداریوں کے درمیان فرق کرنا ضروری ہے۔ ایک وہ وفاداری ہے جو قوم، نسل، زبان یا وطن کو حق و باطل سے بالاتر بنا دیتی ہے۔ یہی وہ عصبیت ہے جسے اسلام نے جاہلیت قرار دیا۔ دوسری وہ وفاداری ہے جو عدل، حق، توحید، مظلوم کی حمایت اور ظالم کی مخالفت کی بنیاد پر کسی قوم، نسل، زبان یا وطن سے قائم ہوتی ہے۔ یہی اسلامی ولایت اور ایمانی اخوت کا تقاضا ہے۔
اس بنا پر اگر دو ریاستیں موجود ہوں، ایک مسلمان کہلانے والی لیکن ظلم، استعمار، استکبار یا مسلمانوں کے خلاف سازشوں میں شریک ہو یا ان کی حمایت کرتی ہو، اور دوسری ایسی ہو جو ان مظالم کے خلاف مزاحمت کر رہی ہو، تو اسلام کی نظر میں فیصلہ صرف قومی یا مذہبی ناموں اور ظاہری لفاظی سے نہیں ہوگا بلکہ اس بات سے ہوگا کہ عملی طور پر حق کے ساتھ کون کھڑا ہے اور باطل کے ساتھ کون۔
یہاں ایک اہم اصول یہ بھی ہے کہ اسلام کسی ریاست کو دائمی اور غیر مشروط تقدس عطا نہیں کرتا۔ انبیائے الٰہی اور ائمہ معصومینؑ کے علاوہ کسی حکومت، جماعت، شخصیت یا ریاست کو عصمت حاصل نہیں۔ اس لیے کسی بھی ریاست کی حمایت ہمیشہ مشروط ہوگی، یعنی جب تک وہ حق، عدل اور مظلوم کی حمایت کے اصول پر قائم ہے، تب تک اس کی تائید کی جا سکتی ہے، لیکن اگر وہ انہی اصولوں سے انحراف کرے تو اس کی غلطیوں پر تنقید بھی اسی ایمانی ذمہ داری کا حصہ ہوگی۔ اسلامی فکر میں اندھی تقلید یا غیر مشروط سیاسی وفاداری کی گنجائش نہیں۔
امت کا تصور بھی یہی تقاضا کرتا ہے کہ مسلمان اپنے فیصلوں میں صرف اپنے قومی و ریاستی مفادات کو نہ دیکھے بلکہ پوری امت اور پوری انسانیت کے وسیع تر مفاد کو سامنے رکھے۔ اگر کسی ایک ملک کا محدود قومی مفاد پوری امت کے نقصان کا سبب بن رہا ہو تو امت کی فکر رکھنے والا مسلمان صرف اپنے ملک کے مفاد کو معیار نہیں بنائے گا بلکہ حق اور عدل کو ترجیح دے گا۔
اسی لیے اسلامی سیاسی فکر میں “ولایت” و “خلافت” کا مفہوم صرف جذباتی محبت نہیں بلکہ حق کی سرپرستی، عدل کی حمایت، ظلم سے براءت اور الٰہی مقاصد کے ساتھ عملی وابستگی ہے۔ یہ وابستگی کسی خاص قوم یا نسل کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ ہر اس فرد، جماعت یا ریاست کے ساتھ ہو سکتی ہے جو ان اصولوں کی نمائندگی کرے۔
البتہ یہاں ایک اور نہایت اہم احتیاط بھی ضروری ہے۔ موجودہ دنیا کی سیاست انتہائی پیچیدہ ہے۔ بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ کوئی ریاست ہر معاملے میں مکمل طور پر حق یا مکمل طور پر باطل ہو۔ اکثر ریاستیں مختلف شعبوں میں مختلف طرزِ عمل اختیار کرتی ہیں۔ اس لیے مسلمانوں کو جذباتی نعروں یا محض سرکاری بیانیوں کی بنیاد پر فیصلے نہیں کرنے چاہییں بلکہ ہر مسئلے کو عدل، انصاف، مظلوم کی حمایت، انسانی کرامت، عہد کی پاسداری، ظلم سے اجتناب اور الٰہی اصولوں کے عملی معیار پر پرکھنا چاہیے۔ کسی ریاست کی بعض درست پالیسیوں کی تائید کرنا اس کے ہر اقدام کی غیر مشروط تائید کے مترادف نہیں، اور کسی ایک غلطی پر تنقید کرنا اس کی ہر مثبت کوشش کی نفی بھی نہیں۔
اس زاویے سے دیکھا جائے تو اگر کوئی مسلمان کسی ایسی ریاست کی حمایت کرتا ہے جو کسی معین تاریخی مرحلے میں استکباری یا ظالمانہ نظام کے مقابلے میں زیادہ استقلال اور زیادہ عدل کی نمائندگی کرتی ہے، تو اس کی نیت اور معیار قوم پرستی نہیں بلکہ حق پرستی ہونا چاہیے۔ وہ یہ نہیں کہے گا کہ “میں اس ریاست کے ساتھ ہوں کیونکہ یہ میری قوم کی ریاست ہے”، بلکہ وہ یہ کہے گا کہ “میں اس اصول کے ساتھ ہوں جس کی یہ ریاست اس معاملے میں نمائندگی کر رہی ہے۔”
اس فرق کو ہمیشہ واضح رکھنا ضروری ہے، کیونکہ جیسے ہی کسی ریاست، قوم، پرچم یا حکومت کو خود حق کا معیار سمجھ لیا جائے، وہاں امت کا تصور کمزور ہو جاتا ہے اور قوم پرستی دوبارہ ایک نئی شکل میں جنم لیتی ہے۔ لیکن اگر ہر ریاست کو حق و باطل کے الٰہی معیار پر پرکھا جائے، تو ریاست ایک وسیلہ رہتی ہے اور حق اصل مقصد رہتا ہے۔
اسی لیے امت کا شعور رکھنے والا مسلمان اپنی دینی شناخت کو کسی جغرافیائی سرحد میں محدود نہیں کرتا۔ وہ اپنے وطن سے محبت کرتا ہے، اپنے معاشرے کی خدمت کرتا ہے، اپنے ملک کے امن اور ترقی کے لیے کوشش کرتا ہے، لیکن اس کی سب سے بڑی وفاداری اللہ، رسولؐ، حق، عدل اور امت کے ساتھ ہوتی ہے۔ اگر کوئی ریاست ان مقاصد کی خدمت کر رہی ہو تو وہ اس کی حمایت کرتا ہے، اور اگر وہ ان سے دور ہو جائے تو وہ اسی اصولی معیار کے مطابق اس کا احتساب بھی کرتا ہے۔ اس طرح اس کی سیاسی وابستگی صرف قوم پرستی پر نہیں بلکہ اصول پرستی، عدل پرستی اور امت پرستی پر ہوتی ہے، اور یہی وہ زاویۂ نگاہ ہے جو اسلامی فکر کو جدید قوم پرستانہ نظریات سے ممتاز کرتا ہے۔
