بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔
تحریر : سید جہانزیب عابدی
سورۃ والعصر قرآن مجید کی ایک نہایت مختصر لیکن جامع اور گہری معنی رکھنے والی سورت ہے، جو انسان کی زندگی، اس کے حالات، اس کے اعمال اور اس کے انجام کے بارے میں نہایت اہم حقائق بیان کرتی ہے۔ اس سورۃ کا پیغام نہ صرف مذہبی بلکہ نفسیاتی، اخلاقی اور معاشرتی اعتبار سے بھی ایک مکمل ضابطۂ حیات پیش کرتا ہے۔ اگر ہم موجودہ زمانے کی زندگی کو دیکھیں تو ہمیں بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ انسان ہمہ وقت مختلف حالات سے گزرتا ہے۔ کبھی وہ خوشیوں میں ہوتا ہے اور کبھی غم و پریشانی میں، کبھی کامیابیوں سے ہمکنار ہوتا ہے تو کبھی ناکامیوں کا سامنا کرتا ہے۔ ان حالات میں انسان کی کامیابی کا راز صرف اس بات میں نہیں کہ وہ کب خوش ہے، بلکہ اصل کامیابی یہ ہے کہ وہ ان تمام حالات میں صبر و تحمل کے ساتھ کس طرح اپنی راہ کو درست رکھتا ہے اور اپنی اصل منزل کی طرف گامزن رہتا ہے۔
انگریزی جملہ “Life comes with highs and lows. Don’t break your heart by expecting things to be good all the time. Have patience. Invite and embrace happy moments.” ہمیں یہی سکھاتا ہے کہ زندگی ایک مسلسل سفر ہے جو کبھی آسان اور کبھی مشکل مرحلوں سے گزرتا ہے۔ انسان اگر یہ توقع رکھے کہ ہر وقت سب کچھ اس کی مرضی کے مطابق ہوگا، تو یہ محض خام خیالی ہے۔ ایسی توقعات انسان کے دل کو توڑتی ہیں اور اسے مایوسی کی طرف لے جاتی ہیں۔ یہی مایوسی رفتہ رفتہ انسان کو کمزور اور بے چین کر دیتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ انسان اپنی فطرت اور دنیا کے اصولوں کو سمجھتے ہوئے ان نشیب و فراز کو قبول کرے، صبر اختیار کرے اور جب خوشی آئے تو اس کا خیرمقدم کرے۔
سورۃ والعصر اسی حقیقت کو بڑی شدت اور جامعیت کے ساتھ بیان کرتی ہے۔ سورۃ کے آغاز میں اللہ تعالیٰ زمانے کی قسم کھا کر ایک نہایت اہم بات فرماتے ہیں کہ “بیشک انسان خسارے میں ہے”۔ اس ایک جملے میں انسان کی عمومی حالت کو بیان کر دیا گیا کہ اگر وہ اپنی زندگی کو بغیر کسی مقصد کے گزارے، وقت کو ضائع کرے، اپنے اعمال کا محاسبہ نہ کرے، تو وہ لازمی طور پر نقصان اٹھائے گا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس نقصان سے بچنے کا بھی واضح طریقہ بتایا: ایمان، عمل صالح، حق کی تلقین اور صبر کی وصیت۔ یہی چار چیزیں انسان کو اس دنیا کے عارضی اور وقتی اتار چڑھاؤ میں ثابت قدم رکھتی ہیں اور اسے ایک باوقار اور کامیاب زندگی عطا کرتی ہیں۔
ایمان انسان کو اللہ پر اعتماد دیتا ہے، عمل صالح اس اعتماد کا عملی مظاہرہ ہوتا ہے، حق کی تلقین انسان کو سچائی پر قائم رکھتی ہے اور صبر اسے وقت کی کٹھنائیوں میں ڈٹے رہنے کی طاقت بخشتا ہے۔ ان سب صفات کا تعلق براہ راست زندگی کے ان اتار چڑھاؤ سے ہے جن کا ذکر انگریزی عبارت میں کیا گیا ہے۔ جب انسان ان اصولوں کو اپناتا ہے تو وہ نہ صرف دنیاوی پریشانیوں میں مضبوط رہتا ہے بلکہ آخرت کی کامیابی کا بھی امیدوار بن جاتا ہے۔
اگر ہم اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو ہمیں بے شمار لوگ دکھائی دیتے ہیں جو معمولی سی ناکامی یا پریشانی میں دل شکستہ ہو جاتے ہیں، کچھ تو اس حد تک چلے جاتے ہیں کہ زندگی سے مایوس ہو جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے سورۃ والعصر ایک زبردست پیغام رکھتی ہے۔ یہ سورت انسان کو بتاتی ہے کہ تمہاری اصل کامیابی وقتی خوشی یا غم میں نہیں، بلکہ صبر، حق اور ایمان پر ڈٹے رہنے میں ہے۔ جو شخص ان صفات کو اپناتا ہے، وہ نہ صرف خود کو بہتر بناتا ہے بلکہ دوسروں کے لیے بھی مثال بن جاتا ہے۔
یوں دیکھا جائے تو سورۃ والعصر محض ایک قرآنی سورۃ نہیں بلکہ انسانی نفسیات اور زندگی کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرنے والا ایک جامع اصولی پیغام ہے۔ اس پیغام کو اپنی زندگی کا حصہ بنا کر ہم دنیا کے بدلتے حالات میں بھی ثابت قدم رہ سکتے ہیں اور ہر خوشی و غم کو اللہ کی طرف سے ایک آزمائش سمجھ کر صبر و شکر کے ساتھ قبول کر سکتے ہیں۔ یہی طرزِ عمل ہمیں حقیقی معنوں میں ایک پُرسکون اور کامیاب انسان بناتا ہے۔
