بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔
سید جہانزیب عابدی
یہ حقیقت انسانی تاریخ اور فطرت کے اصولوں میں گہری جمی ہوئی ہے کہ ظلم و طغیان کی قوتیں اکثر اپنے زوال کا بیج خود بوتی ہیں۔ قدرت کا ایک نہ بدلنے والا قاعدہ ہے کہ جب کوئی طاقت یا فرد خدا کی ہدایت سے منہ موڑ کر تکبر، استبداد اور فساد کے راستے پر چلتا ہے تو وہ اپنے ہی ہاتھوں اپنے انجام کے اسباب پیدا کرتا ہے۔ یہ اصول محض اخلاقی یا مذہبی نصیحت نہیں بلکہ کائنات کے تکوینی نظام کا حصہ ہے، تاریخ کے صفحات اور انسانی تجربات اس حقیقت کے گواہ ہیں کہ مستکبرین اور طاغوتی قوتیں جب اپنی چالیں بچھاتی ہیں تو ان میں ایک نہ ایک ایسی خامی ضرور رہ جاتی ہے جو وقت آنے پر ان کے زوال کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ یہ خامیاں اکثر ان کے تکبر، غرور اور غلط فہمی کا نتیجہ ہوتی ہیں، کیونکہ وہ اپنے آپ کو اتنا طاقتور سمجھتے ہیں کہ یہ گمان ہی نہیں کرتے کہ ان کے منصوبوں میں کوئی کمزوری ہو سکتی ہے۔ قرآن نے اس کیفیت کو اس جملے میں سمیٹ دیا ہے کہ “وَمَكَرُوا وَمَكَرَ اللّٰهُ وَاللّٰهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ” — یعنی وہ اپنی تدبیر کرتے ہیں اور اللہ اپنی تدبیر کرتا ہے، اور اللہ کی تدبیر سب پر غالب آتی ہے۔
اور قرآن و تاریخ میں اس کی بے شمار مثالیں ملتی ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام کی داستان اس کی سب سے جلی مثال ہے۔ فرعون جس نے بنی اسرائیل کے مرد بچوں کو قتل کرنے کا حکم دیا تاکہ کوئی مردِ مجاہد اس کے اقتدار کو چیلنج نہ کر سکے، وہی فرعون اپنے محل میں ایک ایسے بچے کی پرورش کرتا ہے جو بعد میں اس کے طغیان کو للکار کر اس کے اقتدار کو ختم کر دیتا ہے۔ یہ محض اتفاق نہیں بلکہ خدائی تدبیر کا وہ کرشمہ ہے جس میں ظالم اپنی ہی طاقت کے وسائل کو اپنے خلاف استعمال کرنے کا سبب بن جاتا ہے۔
قارون کی مثال بھی اسی اصول کو نمایاں کرتی ہے۔ وہ دولت جو اس نے اپنی محنت اور ذہانت کے بجائے استحصال اور غرور کے ذریعے جمع کی، وہی دولت اس کے زوال کا ذریعہ بنی۔ قرآن کہتا ہے کہ قارون کو اس کے خزانوں سمیت زمین میں دھنسا دیا گیا۔ اس کے خزانوں کی کنجیاں اٹھانے کے لیے طاقتور لوگ بھی عاجز آ جاتے تھے، لیکن وہی خزانے اس کے غرور کو اس انتہا تک لے گئے جہاں قدرت کا قانون حرکت میں آیا اور زمین نے اسے نگل لیا۔ گویا جو شے اس کی شان اور طاقت کی علامت تھی، وہی اس کا قبرستان بن گئی۔
تاریخ اسلام میں بھی یہی اصول واضح ہے۔ ابو جہل اور قریش مکہ نے اسلام کو مٹانے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا، مسلمانوں کا معاشی بائیکاٹ کیا، جنگیں لڑیں، لیکن انہی جنگوں میں ان کا غرور اور قوت شکست کھا گئی۔ بدر میں مسلمانوں کی کمزوری ان کے لیے طاقت بن گئی، اور قریش کی فوجی طاقت ان کے لیے وبال۔ وہ وسائل جو انہوں نے اپنی فوج کو لیس کرنے کے لیے استعمال کیے تھے، انہی کی ہزیمت کا سامان بنے۔ مکہ کے قریش نے اسلام کے خلاف اپنی معاشی، سیاسی اور سماجی طاقت کو استعمال کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ انہوں نے سوچا کہ مسلمانوں کو معاشی بائیکاٹ اور سماجی تنہائی میں ڈال کر اسلام کو ختم کر دیں گے۔ لیکن اسی بائیکاٹ نے مسلمانوں کے صبر، ایثار اور باہمی رشتے کو مضبوط کیا اور انہیں ایسے مضبوط کارواں میں بدل دیا جو بعد میں بدر اور احد جیسے معرکوں میں قریش کے غرور کو توڑنے والا بنا۔ قریش نے کبھی یہ سوچا ہی نہیں کہ ان کا بائیکاٹ ایک نئی امت کی روحانی اور عسکری تربیت گاہ میں بدل سکتا ہے۔
ابو سفیان کی مثال بھی اسی زمرے میں آتی ہے۔ وہ اسلام کے ابتدائی دور میں مسلمانوں کو کمزور کرنے کے لیے مختلف قبائل میں معاہدے کرتا اور قریش کی فوج کو ہر طرح سے لیس کرتا تھا، مگر اس نے کبھی یہ گمان نہ کیا کہ اس کی اپنی نسل سے، یعنی اس کا بیٹا معاویہ اور پوتا یزید کے دور میں، انہی سازشوں کے تسلسل میں ایسے حالات پیدا ہوں گے جن سے بنی امیہ کی حکومت کا زوال تیز ہو جائے گا۔ کربلا کا سانحہ، جسے وہ اسلام کو دبانے کے لیے ایک “حل” سمجھتے تھے، الٹا ایک ایسی آگ بن گیا جس نے ان کے سیاسی جواز کو جلا کر راکھ کر دیا۔
اسی اصول کی جھلک ہم بنی عباس کی تاریخ میں بھی دیکھتے ہیں۔ انہوں نے بنو امیہ کو ختم کرنے کے لیے اہلِ بیتؑ کے نام کا سہارا لیا، لوگوں کے جذبات کو انقلاب کے لیے استعمال کیا، مگر جب اقتدار حاصل کر لیا تو اہلِ بیتؑ کو دبانا شروع کر دیا۔ وہ اس حقیقت کو بھول گئے کہ عوام کے دلوں میں جو محبت اور عقیدت اہلِ بیتؑ کے لیے انہوں نے خود بھڑکائی تھی، وہ ایک دن ان کے خلاف کھڑی ہو جائے گی۔ یہی محبت بعد کے ادوار میں ان کے زوال کا فکری اور سیاسی محرک بنی۔
اسی طرح عباسی خلیفہ منصور نے امام جعفر صادقؑ کے شاگردوں اور علمی حلقوں کو دبانے کے لیے جاسوس مقرر کیے اور یونانی و رومی و ہندی فلسفوں اور حکمت کے دروس شروع کیے، مگر انہی علمی مجالس میں سے ایسے ذہن اور افکار پیدا ہوئے جنہوں نے ظالمانہ نظام کی فکری بنیادوں کو ہلا دیا۔ فطرت کا یہ اصول یہ بھی بتاتا ہے کہ طاغوت جب اپنی طاقت کے غرور میں حد سے بڑھ جاتا ہے تو وہ اپنی حفاظت کے لیے ایسے اقدامات کرتا ہے جو وقت آنے پر اس کے لیے پھندا ثابت ہوتے ہیں۔
صلح حدیبیہ کو قرآن نے “فتح مبین” قرار دیا، حالانکہ ظاہری طور پر یہ مسلمانوں کے لیے ایک پسپائی یا کمزور پوزیشن پر کی گئی صلح معلوم ہوتی تھی۔ یہی وہ نقطہ ہے جو ہمیں مغربی غرور اور مسلم حکمتِ عملی کے فرق کو سمجھاتا ہے۔ مغربی مادی ذہن ہمیشہ فتح کو جنگ کے میدان میں دشمن کو کچلنے، وسائل پر قبضہ کرنے اور فوری نتائج حاصل کرنے سے جوڑتا ہے۔ لیکن صلح حدیبیہ کا واقعہ اس سوچ کو رد کرتا ہے اور یہ بتاتا ہے کہ اصل فتح وہ ہے جو حکمت، صبر، اور طویل المدتی بصیرت سے حاصل ہو، نہ کہ وقتی جوش یا مادی غلبے سے۔
صلح حدیبیہ میں بظاہر کئی شرائط ایسی تھیں جو مسلمانوں کے لیے ناموافق دکھتی تھیں۔ قریش کے ساتھ بظاہر نرم رویہ اختیار کیا گیا، معاہدے میں ظاہری طور پر کمزور موقف دکھائی دیا، حتیٰ کہ نبی اکرم صل اللہ علیہ وآلہ کے لقب “رسول اللہ” کو بھی تحریر سے ہٹا دیا گیا۔ لیکن اصل میں یہ صلح مسلمانوں کو جنگ کے مسلسل دباؤ سے نکال کر ایک ایسے ماحول میں لے گئی جہاں اسلام کی دعوت امن سے پھیل سکتی تھی۔ جنگی محاذ سے سفارتی محاذ پر آنا، اور جذبات کے بجائے حکمت کو فوقیت دینا، وہ تدبیر تھی جس نے آنے والے دو سال میں مدینہ کو اتنی طاقت دی کہ مکہ فتح ہو گیا، اور بغیر خون بہائے۔
یہی مقام ہے جہاں ہمیں تہذیبی تکبر اور روحانی بصیرت کا فرق سمجھ آتا ہے۔ مغربی ترقی کی طرح اگر اس وقت مسلمان بھی صرف فوری فتح اور وقتی برتری کے پیچھے پڑ جاتے، تو ممکن تھا کہ مسلسل جنگیں ان کی طاقت کو ختم کر دیتیں اور معاشرتی و اقتصادی طور پر وہ تھک جاتے۔ لیکن نبی صل اللہ علیہ وآلہ نے یہ دکھایا کہ بعض اوقات پیچھے ہٹنا ہی سب سے بڑی پیش قدمی ہوتی ہے، اور مادی پیمانوں پر بظاہر “کمزوری” دراصل اخلاقی و سیاسی فتح کی بنیاد ہوتی ہے۔
صلح حدیبیہ کے نتیجے میں دشمن کے دل میں مسلمانوں کی سنجیدگی اور امن پسندی کا تاثر قائم ہوا، اور وہ اسلام کے قریب آنے لگے۔ معاہدے کے دوران جو لوگ مدینہ میں آئے، انہوں نے قریب سے اسلام کی حقیقت دیکھی۔ یہی وہ دور تھا جب اسلام کا پیغام زیادہ تیزی اور وسعت سے پھیلا، یہاں تک کہ مکہ میں بھی لوگ دل سے اس کے لیے نرم ہو گئے۔ یہ وہ حکمت تھی جو مادی دنیا کے غرور اور جلدبازی کے مقابلے میں ایک گہرا اور پائیدار اثر پیدا کرتی ہے۔
یہ واقعہ آج کے دور میں مغرب کی مادی کامیابیوں اور غرور کے مقابل ایک سبق ہے کہ اصل فتح وہ نہیں جو فوری نتائج دے بلکہ وہ ہے جو دشمن کے دل کو بدل دے اور زمانے کے دھارے کو اپنے حق میں موڑ دے۔ مغرب اپنی اقتصادی، عسکری اور سائنسی طاقت کے نشے میں طویل مدتی بصیرت اور اخلاقی برتری کو نظر انداز کرتا ہے، جبکہ صلح حدیبیہ ہمیں سکھاتی ہے کہ پائیدار کامیابی ہمیشہ حکمت، صبر اور مقصد کی پاکیزگی سے آتی ہے، نہ کہ طاقت کے بے لگام استعمال سے۔
کربلا اور ائمہ معصومینؑ کی شہادتوں کو اگر ہم اسی قاعدے کے تناظر میں دیکھیں — یعنی یہ کہ بظاہر پسپائی یا ظاہری شکست اصل میں طویل المدتی اور گہری فتح کی بنیاد بن سکتی ہے — تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ تمام واقعات اسلامی تاریخ کے سب سے بڑے فکری اور اخلاقی انقلابات کے سرچشمے ہیں۔ کربلا کا منظر دیکھیں: مادی پیمانوں پر یزید غالب تھا۔ لشکر، اسلحہ، وسائل، اور سیاسی طاقت سب اس کے پاس تھی۔ امام حسینؑ کے پاس نہ فوجی برتری تھی، نہ مادی قوت، اور نہ ہی وہ وقتی اقتدار کا حصول چاہتے تھے۔ بظاہر یہ معرکہ ایک چھوٹے سے قافلے کی مکمل شہادت پر ختم ہوا، لیکن حقیقت میں یہ ایک ایسا فکری دھماکہ تھا جس نے ظلم کی بنیادیں ہمیشہ کے لیے ہلا دیں۔ کربلا نے یہ اصول قائم کیا کہ طاقتور کے ساتھ سمجھوتہ نہیں، اگر وہ اصول اور حق کے خلاف ہو — چاہے اس کے نتیجے میں جسمانی فنا ہی کیوں نہ ہو۔ یزید کو وقتی اقتدار تو مل گیا، لیکن امامؑ کی قربانی نے اس کی حکومت کی اخلاقی حیثیت ختم کر دی اور تاریخ میں اسے رسوائی کا پیکر بنا دیا۔
دیگر ائمہ معصومینؑ کی زندگیاں اور شہادتیں بھی اسی منطق کو واضح کرتی ہیں۔ امام زین العابدینؑ نے کربلا کے بعد براہِ راست سیاسی بغاوت نہیں کی، بلکہ دعا اور تعلیم کے ذریعے ایک ٹوٹے ہوئے معاشرے کو دوبارہ زندہ کرنے کا کام کیا۔ امام محمد باقرؑ اور امام جعفر صادقؑ نے ظاہری سیاسی اقتدار کے بغیر علم، فقہ اور تربیت کے میدان میں وہ انقلاب برپا کیا جس نے آنے والی صدیوں تک اسلامی فکر کو سہارا دیا۔ امام موسیٰ کاظمؑ کی طویل قید، امام رضاؑ کا دربارِ مامون میں صبر کے ساتھ موقف پیش کرنا، اور امام حسن عسکریؑ کا محدود مگر گہرا علمی و فکری کام — یہ سب واقعات بتاتے ہیں کہ بظاہر خاموشی، قید، یا شہادت اصل میں ایک بڑے مقصد کی تکمیل کے مراحل ہیں۔
مغربی مادی سوچ کے مطابق ایسی زندگیاں اور واقعات ناکامی یا کمزوری کہلائے جاتے ہیں، کیونکہ وہاں کامیابی کا پیمانہ فوری غلبہ اور ظاہری اقتدار ہے۔ لیکن اسلامی بصیرت کہتی ہے کہ اصل کامیابی وہ ہے جو وقت کے ساتھ معاشروں کے دل و دماغ کو بدل دے۔ کربلا اور ائمہؑ کی شہادتوں نے یہ کر دکھایا — ایک ایسا بیانیہ قائم کر دیا کہ ظالم کتنا ہی طاقتور ہو، حق پر قائم رہنے والا اخلاقی و تاریخی طور پر غالب رہتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ آج چودہ صدیوں بعد بھی حسینؑ کا نام مظلوموں کے لیے روشنی اور یزید کا نام ظلم کی علامت ہے۔ طاقت مٹ گئی، لیکن قربانی اور حکمت باقی رہ گئی — اور یہی اصل فتح ہے۔
اسی طرح یہ قاعدہ “وَمَكَرُوا وَمَكَرَ اللّٰهُ وَاللّٰهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ” صرف مذہبی تاریخ تک محدود نہیں۔ جدید دور میں بھی بڑے سامراجی ممالک نے چھوٹے ملکوں کو اسلحہ، ٹیکنالوجی اور وسائل فراہم کیے تاکہ وہ ان کے مفادات کی خدمت کریں، لیکن بعد میں یہی طاقتیں آزاد ہو کر ان کے مقابل آ گئیں۔ معاصر تاریخ میں برطانیہ کی نوآبادیاتی پالیسی ایک نمایاں مثال ہے۔ برطانیہ نے ہندوستان میں “پھوٹ ڈالو اور راج کرو” کی حکمتِ عملی اپنائی، جس کے تحت وہ ہندوؤں اور مسلمانوں میں اختلاف پیدا کر کے اپنی حکمرانی مستحکم رکھنا چاہتا تھا۔ اس پالیسی نے وقتی طور پر انہیں طاقتور بنا دیا، مگر وہ یہ نہ سمجھ سکے کہ اس تقسیم کے باوجود دونوں قوموں میں آزادی کی مشترکہ خواہش ایک دن ان کے خلاف متحد ہو جائے گی۔ 1857 کی جنگِ آزادی میں یہی ہوا — جن لوگوں کو وہ ایک دوسرے کا دشمن بنانے میں کامیاب ہو رہے تھے، وہ ایک وقت میں مل کر ان کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔ برطانیہ کے گمان میں یہ ممکن ہی نہیں تھا کہ اس کی اپنی بوئی ہوئی نفرت کے بیچ سے اتحاد کا پودا بھی پھوٹ سکتا ہے۔نیز برطانیہ کی سلطنتِ عظمیٰ نے برصغیر میں ریلوے، ٹیلی گراف، تعلیمی ادارے اور قانونی ڈھانچے قائم کیے تاکہ اپنے اقتدار کو مضبوط بنا سکیں۔ لیکن یہی نظام ایک دن آزادی کی تحریکوں کا سہارا بن گیا۔ ریلوے نے قوم پرستوں کو ایک دوسرے سے ملنے، جلسے کرنے اور تحریکوں کو منظم کرنے کا موقع دیا۔ چھاپہ خانوں نے اخبارات اور پمفلٹ کے ذریعے آزادی کا پیغام ہر کونے تک پہنچا دیا۔ برطانیہ نے کبھی یہ گمان نہ کیا تھا کہ جو انفراسٹرکچر وہ کنٹرول کے لیے بنا رہا ہے، وہی آزادی کے نعروں کو پھیلانے کا سب سے بڑا ذریعہ بن جائے گا۔
اسی طرح سوویت یونین نے افغانستان میں اپنی گرفت مضبوط کرنے کے لیے بڑی فوجی طاقت جھونکی، مگر وہ اس بات پر توجہ نہ دے سکا کہ مقامی آبادی کے مذہبی اور قبائلی اتحاد کو توڑنا آسان نہیں۔ انہوں نے یہ سمجھا کہ محض عسکری قوت ہی فیصلہ کرے گی، لیکن انہی وادیوں اور پہاڑوں نے جو ان کے لیے راستے کھولنے تھے، وقت آنے پر ان کی فوجوں کو قبرستان بنا دیا۔ سب سے بڑی خامی یہ تھی کہ وہ مقامی لوگوں کے ایمان اور غیرت کو ایک کمزور عنصر سمجھتے تھے، حالانکہ وہی ان کے زوال کا اصل ہتھیار ثابت ہوا۔
امریکہ کا حال بھی کچھ مختلف نہیں۔ سرد جنگ کے دوران اس نے طالبان کو اسلحہ، تربیت اور وسائل فراہم کیے تاکہ وہ سوویت یونین کو ختم کریں۔ وقتی طور پر یہ حکمتِ عملی کامیاب دکھائی دی، مگر وہ یہ نہ سمجھ سکے کہ جن گروہوں کو وہ اپنے مفاد کے لیے استعمال کر رہے ہیں، وہ نظریاتی طور پر آزاد اور امریکہ کے بھی مخالف ہو سکتے ہیں۔ یہی گروہ بعد میں ان کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن گئے۔ یہ وہ چال تھی جو امریکہ نے سوویت کے خلاف چلی، لیکن اس کا پھندا خود اس کے گلے میں پڑ گیا۔ وقت آیا کہ یہی گروہ امریکی پالیسی کے سب سے بڑے چیلنج میں بدل گئے۔ امریکی پالیسی سازوں نے یہ خلا کبھی نہیں دیکھا کہ اسلحہ اور عسکری تربیت حاصل کرنے والے گروہ ایک دن ان کے کنٹرول سے نکل کر آزاد ایجنڈا اپنا سکتے ہیں۔
ایک اور مثال صدام حسین کی ہے، جسے مغربی طاقتوں نے ایران کے اسلامی انقلاب کے خلاف استعمال کیا۔ اسے اسلحہ، مالی وسائل اور سیاسی حمایت دی گئی، مگر وہی صدام بعد میں انہی طاقتوں کے لیے دردِ سر بن گیا۔ اس نے کویت پر حملہ کیا اور عالمی طاقتوں کو براہِ راست مداخلت پر مجبور کر دیا، جس کے نتیجے میں اس کا اقتدار تباہ ہوا۔ مغربی دنیا نے یہ سوچا بھی نہیں تھا کہ ان کا تراشیدہ آلہ کار ایک دن ان کے خلاف بغاوت کرے گا۔
مغربی سائنس اور ٹیکنالوجی میں جو غیر معمولی ترقی پچھلی چند صدیوں میں ہوئی، اس نے مغرب کو یہ یقین دلا دیا کہ وہ فطرت کے تمام راز کھول چکے ہیں اور انسان کی تقدیر کے مالک بن بیٹھے ہیں۔ صنعتی انقلاب سے شروع ہونے والا یہ سفر خلائی تسخیر، ایٹمی توانائی، بایوٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت تک پہنچا، اور اس کے ساتھ ہی ایک ایسا فکری تکبر پیدا ہوا جس میں انسان کو اپنے خالق سے بے نیاز سمجھا جانے لگا۔ یہ تکبر صرف علمی برتری کا دعویٰ نہیں بلکہ ایک تہذیبی رویہ بن گیا، جس میں اخلاقیات، روحانیت اور الٰہی ہدایت کو سائنس کے نام پر کم تر یا غیر متعلق قرار دیا گیا۔ لیکن فطرت کا قانون یہاں بھی خاموش نہیں رہا۔ وہی سائنسی ترقی جس پر مغرب کو ناز تھا، اس کے اندر ایسے دراڑیں پیدا ہوئیں جو آج اس کے اپنے لیے خطرہ بن چکی ہیں۔
مثال کے طور پر، جدید مواصلاتی ٹیکنالوجی جسے مغرب نے اپنی عالمی غلبے اور بیانیے کے فروغ کے لیے استعمال کیا، وہی سوشل میڈیا کے ذریعے اس کے کنٹرول سے باہر نکلنے لگی۔ اطلاعات کا بہاؤ، جو کبھی چند بڑے میڈیا ہاؤسز کے ہاتھ میں تھا، اب ہر فرد کے اسمارٹ فون سے براہِ راست دنیا تک پہنچنے لگا۔ وہ خبریں، حقائق اور متبادل بیانیے جنہیں مغربی طاقتیں دبانا چاہتی تھیں، انہی کے بنائے ہوئے پلیٹ فارمز پر پھیلنے لگے۔
اسی طرح، مغرب نے عسکری برتری کے لیے جو ہتھیار اور ٹیکنالوجی بنائی، وہی علم اور آلات اس کے مخالفین یا غیر متوقع گروہوں کے ہاتھ میں پہنچ کر اس کے خلاف استعمال ہونے لگے۔ سائبر سیکیورٹی کے شعبے میں مغربی ماہرین کو یہ یقین تھا کہ وہ اپنے ڈیٹا اور نظام کو محفوظ رکھ سکتے ہیں، لیکن انہی کے تیار کردہ انٹرنیٹ انفراسٹرکچر کے اندر ایسے نقائص تھے جن سے ہیکرز اور دشمن ریاستیں ان پر کاری ضرب لگانے لگیں۔
بایوٹیکنالوجی اور جینیاتی تحقیق بھی مغرب کے لیے فخر کا باعث رہی، لیکن اس میں اخلاقی اصولوں کو نظرانداز کرنے سے ایسے خطرات پیدا ہوئے جنہیں وہ خود کنٹرول کرنے میں مشکل محسوس کرنے لگے۔ مصنوعی ذہانت کی ترقی، جو مغرب کے لیے ایک عظیم سنگِ میل تھی، آج اس کے لیے بے قابو امکانات اور خطرات کا مجموعہ بن چکی ہے۔ روزگار کی تباہی، ڈیپ فیک پروپیگنڈا، اور خودکار جنگی نظام ایسے مسائل ہیں جو مغرب کے سماجی ڈھانچے کو اندر سے کھوکھلا کر سکتے ہیں۔
یہ سب اس اصول کی تازہ شکلیں ہیں کہ جب کوئی طاقت اپنی کامیابی کو مطلق سمجھ کر فطرت اور اخلاقیات کے توازن کو نظر انداز کر دیتی ہے، تو اس کی اپنی ایجادات اور پالیسیاں ہی اس کے زوال کے بیج بن جاتی ہیں۔ مغرب نے سائنس کو خدا کے بجائے اپنا سہارا بنایا، لیکن وہ بھول گیا کہ کائنات کا نظام صرف مادی اسباب سے نہیں چلتا۔ اسی لیے سزا کا کوڑا وہاں سے اٹھ رہا ہے جہاں ان کا گمان بھی نہ تھا — یعنی انہی کے بنائے ہوئے سسٹمز، ڈیٹا نیٹ ورکس، ہتھیار اور نظریات ان کے خلاف بغاوت کر رہے ہیں۔
مغربی اقتصادی ترقی کی کہانی بھی بظاہر فخر اور کامیابی کی داستان لگتی ہے، لیکن اس کے اندر وہی غرور اور تکبر پوشیدہ ہے جو ہر تہذیب کے زوال کا پیش خیمہ بنتا ہے۔ صنعتی انقلاب کے بعد مغرب نے پیداوار، تجارت اور مالیاتی نظام میں جو ڈھانچہ کھڑا کیا، وہ دنیا کو اپنی اقتصادی طاقت کے تابع کرنے کا ایک وسیع منصوبہ بن گیا۔ سرمایہ داری کو محض ایک معاشی نظام کے طور پر نہیں بلکہ ایک تہذیبی فلسفے کے طور پر پیش کیا گیا، جس میں منافع کو سب سے بڑی قدر اور ترقی کا واحد پیمانہ بنا دیا گیا۔ اس سوچ نے اخلاقی اصولوں، انسانی مساوات اور ماحولیاتی توازن کو پس پشت ڈال کر مادی کامیابی کو ہی سب کچھ قرار دے دیا۔
یہی سوچ آج مغرب کے لیے ایک بوجھ بن چکی ہے۔ وہی عالمی تجارتی ڈھانچے اور مالیاتی ادارے جو مغرب نے اپنے غلبے کو مستحکم کرنے کے لیے بنائے تھے، اب انہی کے لیے بحران کا سبب بن رہے ہیں۔ آزاد منڈی کے نظریے نے وقتی طور پر پیداوار اور دولت کو بڑھایا، لیکن اس کے ساتھ ہی دولت کا ارتکاز چند ہاتھوں میں ہونے لگا، اور عام آدمی کی زندگی مہنگائی، بے روزگاری اور قرضوں کے بوجھ تلے دب گئی۔ اس نظام میں ترقی کی دوڑ نے ریاستوں کو اس حد تک مجبور کیا کہ وہ اخلاقی اصولوں کو نظرانداز کر کے سرمایہ کاروں کی خوشنودی کو اولین ترجیح دینے لگیں، چاہے اس کے لیے مزدوروں کا استحصال ہو یا ماحولیاتی تباہی۔
عالمی سطح پر مغرب نے ڈالر اور اپنے مالیاتی اداروں کو طاقت کا ہتھیار بنایا۔ لیکن وقت نے ثابت کیا کہ یہ ہتھیار دوسروں کے لیے جتنا نقصان دہ ہو سکتا ہے، خود مغرب کے لیے بھی اتنا ہی خطرناک ہو سکتا ہے۔ جب دنیا کے کئی خطے متبادل مالیاتی نظام کی طرف جانے لگے، تو وہی معیشت جو ڈالر کی اجارہ داری پر کھڑی تھی، غیر یقینی کا شکار ہونے لگی۔ چین، روس اور دیگر ممالک کی جانب سے ڈی ڈالرائزیشن کی کوششیں اس نظام کے لیے وہی ضرب ہیں جو ایک مضبوط قلعے کی بنیادوں میں دراڑ ڈال دیتی ہیں۔
مغرب کی اقتصادی ترقی کا ایک اور پہلو قرض پر مبنی ترقی ہے۔ مغربی معیشتیں قرضوں کے پہاڑ پر کھڑی ہیں، اور یہ قرضے صرف ترقی پذیر دنیا کو غلام بنانے کا ذریعہ نہیں رہے بلکہ خود ان کے لیے معاشی غلامی کا پھندا بنتے جا رہے ہیں۔ بینکنگ اور سودی نظام پر انحصار نے ایک ایسا بوجھ پیدا کر دیا ہے جو بحران کی صورت میں پورے مالیاتی ڈھانچے کو زمین بوس کر سکتا ہے، جیسا کہ 2008 کا عالمی مالیاتی بحران اس کی جھلک دکھا چکا ہے۔
اس کے ساتھ ہی، مغربی اقتصادی ماڈل نے فطرت کو محض ایک خام مال کے ذخیرے کی طرح استعمال کیا۔ زمین، پانی اور معدنیات کو بے دریغ لوٹا گیا، جنگلات کاٹ دیے گئے، فضائی آلودگی اور کاربن اخراج کی شرح کو نظر انداز کیا گیا۔ آج ماحولیاتی بحران، موسمیاتی تبدیلی اور قدرتی آفات کی شدت مغرب کی اپنی اقتصادی پالیسیوں کا نتیجہ ہیں۔ جو ترقی ایک زمانے میں فخر کا باعث تھی، اب اپنے ساتھ بقا کا سوال لے کر آئی ہے۔
یہ سب اس اصول کی تازہ مثالیں ہیں کہ جب کوئی تہذیب مادی ترقی کو اخلاقی توازن اور روحانی شعور کے بغیر اپناتی ہے تو وہ ترقی دراصل زوال کا آغاز ہوتی ہے۔ مغرب نے معیشت کو انسانیت پر مقدم رکھا، لیکن وقت نے ثابت کیا کہ ایسی ترقی خود اپنے بوجھ تلے دب جاتی ہے۔ آج مغرب کی اقتصادی کامیابیاں اپنی کمزوریوں کے بوجھ تلے دھیرے دھیرے کرچیاں بن رہی ہیں، اور یہ انجام فطرت کا وہ انتقام ہے جو ہمیشہ غرور اور تکبر کے بعد آتا ہے۔ طاغوتی قوتیں جب اپنے منصوبے بناتی ہیں تو وہ اپنی نگاہ صرف اپنے فائدے پر مرکوز رکھتی ہیں۔ وہ سمجھتی ہیں کہ دنیا ان کی طاقت کے آگے سرنگوں ہے، اس لیے وہ ان چھوٹے چھوٹے عناصر کو نظر انداز کر دیتی ہیں جو بعد میں ان کے لیے طوفان بن جاتے ہیں۔ یہی وہ “loopholes” ہیں — عوام کے دلوں میں چھپی بغاوت، ایمان کی چنگاری، مظلوم کا صبر، یا اتحادیوں کی نظریاتی آزادی — جو ان کے گمان میں خطرہ نہیں ہوتے، لیکن خدا انہی کو ان کے خلاف اس انداز میں استعمال کرتا ہے کہ انجام وہ ہوتا ہے جس کا انہوں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا ہوتا۔ یہی خدائی قانون ہے کہ باطل اپنے خاتمے کے بیج خود بوتا ہے، اور سزا وہاں سے آتی ہے جہاں اس کا گمان بھی نہیں ہوتا۔ قدرت کا یہ اصول دراصل عدلِ الٰہی کی عملی شکل ہے، جس میں ظالم کے خلاف اس کے اپنے ہی ہاتھ کو استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ اس بات کا پیغام ہے کہ ظلم اور طغیان وقتی طور پر ناقابلِ تسخیر نظر آ سکتے ہیں، ان کے اندر ہی وہ دراڑ موجود ہوتی ہے جو وقت آنے پر ان کو گرا دیتی ہے۔ اس میں اہلِ حق کے لیے تسلی ہے کہ باطل اپنے انجام کا ساز و سامان خود تیار کرتا ہے، اور اہلِ باطل کے لیے انتباہ ہےکہ جو طاقت وہ سمجھ رہے ہیں کہ ان کی حفاظت کرے گی، وہی ایک دن ان کی قبر کا پتھر بن سکتی ہے۔
