3

*عبادت کے بغیر انقلاب: ایک خود فریبی*

  • نیوز کوڈ : 2867
  • 28 April 2026 - 22:48
*عبادت کے بغیر انقلاب: ایک خود فریبی*

*عبادت کے بغیر انقلاب: ایک خود فریبی*

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔

سید جہانزیب عابدی

نماز، روزے تلاوت کے بغیر ظلم کی مخالفت و حق کے فروغ کی خواہش دراصل ہمارے زمانے کی ایک گہری فکری اور عملی بیماری کو بے نقاب کرتی ہے۔ ہم نے دین کو ایک زندہ، متحرک اور انقلابی نظامِ حیات کے بجائے ایک جذباتی، نمائشی اور جزوی تجربہ بنا دیا ہے۔ اس میں کچھ رسومات رہ گئی ہیں، کچھ جذباتی وابستگیاں باقی ہیں، مگر وہ روح، وہ حرکت، وہ ذمہ داری اور وہ تقاضا جسے قرآن اور معصومینؑ نے انسان کے کندھوں پر رکھا تھا، وہ کہیں پیچھے رہ گیا ہے۔

اگر کوئی شخص نماز، روزہ، دعا اور توسل جیسے بنیادی اعمال کو نظر انداز کر کے صرف شاعری پر واہ واہ کرے، مجالس میں جذباتی ہو جائے، یا تبرک کو ثواب کی نیت سے زیادہ سے زیادہ کھانے کو ہی دین سمجھ لے، تو حقیقت میں وہ دین کے ظاہر کے چند ذوقی پہلوؤں سے تو وابستہ ہو سکتا ہے، مگر دین کے مقصد سے نہیں۔ قرآن انسان کو محض ایک جذباتی مخلوق نہیں بناتا بلکہ اسے ایک ذمہ دار، بیدار اور مجاہد شخصیت بناتا ہے۔ یہ مجاہدہ صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں بلکہ نفس، معاشرہ، ظلم، فکری انحراف اور باطل نظام کے خلاف ایک مسلسل جدوجہد ہے۔

نماز اور روزہ جیسے اعمال کو اگر ہم صرف عبادات سمجھ کر ان کی حقیقت سے غافل ہو جائیں تو یہ بھی ایک غلطی ہے، کیونکہ قرآن کی نگاہ میں نماز انسان کو فحشاء اور منکر سے روکتی ہے، یعنی اس کا اصل اثر یہ ہونا چاہیے کہ انسان ظلم کے خلاف کھڑا ہو اور حق کے ساتھ وابستہ ہو۔ روزہ انسان میں تقویٰ پیدا کرتا ہے، اور تقویٰ صرف پرہیزگاری کا نام نہیں بلکہ ایک ایسی باطنی قوت ہے جو انسان کو ہر اس مقام پر ثابت قدم رکھتی ہے جہاں حق اور باطل کا ٹکراؤ ہو۔ اگر یہ عبادات ہی نہ ہوں تو وہ باطنی طاقت کہاں سے آئے گی جو انسان کو خطرات کے باوجود حق پر قائم رکھے؟

دوسری طرف، شاعری، مرثیہ، نوحہ اور تبرک اپنی اصل میں بری چیزیں نہیں ہیں۔ یہ سب محبتِ اہل بیتؑ کے اظہار کے ذرائع ہو سکتے ہیں، اور اگر صحیح نیت اور شعور کے ساتھ ہوں تو انسان کے دل کو نرم کرتے ہیں، اسے ایک بڑے مقصد سے جوڑتے ہیں۔ مگر جب یہی چیزیں دین کا متبادل بن جائیں، جب عمل کی جگہ جذبات لے لیں، جب ذمہ داری کی جگہ محض وابستگی آ جائے، تو یہی چیزیں انسان کو دھوکے میں بھی ڈال سکتی ہیں۔ پھر انسان یہ سمجھنے لگتا ہے کہ وہ حق کے ساتھ ہے، حالانکہ اس نے حق کے تقاضے پورے ہی نہیں کیے۔

قرآن اور معصومینؑ کی تعلیمات میں حق پرستی اور ظلم کے خلاف قیام کا تصور ایک مکمل نظام کے طور پر سامنے آتا ہے۔ اس میں معرفت ہے، عبادت ہے، اخلاق ہے، اور اجتماعی ذمہ داری بھی ہے۔ یہ ممکن نہیں کہ انسان اس نظام کے ایک یا دو حصے لے کر باقی کو چھوڑ دے اور پھر بھی وہی نتائج حاصل کرے جو ایک کامل مومن کے لیے وعدہ کیے گئے ہیں۔ اگر عبادت نہ ہو تو روح کمزور ہو جاتی ہے، اگر معرفت نہ ہو تو راستہ واضح نہیں رہتا، اور اگر عملی اقدام نہ ہو تو سارا شعور بے اثر ہو جاتا ہے۔

تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جن لوگوں نے ظلم کے خلاف حقیقی کردار ادا کیا، وہ صرف جذباتی وابستگی رکھنے والے نہیں تھے بلکہ وہ عبادت گزار بھی تھے، صاحبِ بصیرت بھی تھے، اور عمل کے میدان میں ثابت قدم بھی تھے۔ ان کے لیے دین ایک مکمل حقیقت تھا، نہ کہ چند منتخب رسومات یا جذباتی تجربات۔

اس لیے یہ خیال کہ صرف شاعری پر واہ واہ کر کے یا تبرک کھا کر ایک مذہبی، سیاسی اور انقلابی زندگی گزاری جا سکتی ہے، حقیقت سے بہت دور ہے۔ یہ ایک طرح کا خود فریبی ہے جو انسان کو وقتی تسکین تو دے سکتی ہے مگر اسے اس مقام تک نہیں پہنچا سکتی جہاں وہ حق کے لیے قربانی دینے، ظلم کے سامنے کھڑے ہونے اور ایک صالح معاشرہ بنانے کے قابل ہو۔

یہ بحث دراصل دین کے اُس باطنی ربط کو سمجھنے کی کوشش ہے جسے ہم اکثر توڑ دیتے ہیں۔ ہم عبادات کو ایک طرف رکھ دیتے ہیں اور انقلاب، عدالت، مزاحمت اور حق پرستی کو دوسری طرف، حالانکہ قرآن اور اہل بیتؑ کی تعلیمات میں یہ سب ایک ہی زنجیر کے حلقے ہیں۔ اگر ان میں سے ایک بھی ٹوٹ جائے تو پوری ساخت کمزور ہو جاتی ہے۔

نماز، روزہ، تلاوتِ قرآن، دعا اور توسل انسان کے اندر وہ داخلی ڈھانچہ تعمیر کرتے ہیں جس کے بغیر کوئی بھی انقلابی یا مزاحمتی کردار زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتا۔ سب سے پہلے انسان کی نفسیات کو دیکھیں تو وہ فطری طور پر خوف، خواہش، تھکن، لالچ، انا اور سماجی دباؤ سے متاثر ہوتی ہے۔ جب تک ان عوامل پر قابو نہ پایا جائے، انسان وقتی جوش میں تو ظلم کے خلاف بول سکتا ہے مگر مستقل مزاحمت نہیں کر سکتا۔ نماز یہاں ایک بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ یہ انسان کو دن میں بار بار ایک اعلیٰ حقیقت کے سامنے کھڑا کرتی ہے، اسے یاد دلاتی ہے کہ اصل طاقت کسی ظالم کے پاس نہیں بلکہ خدا کے پاس ہے۔ یہ احساس آہستہ آہستہ انسان کے اندر خوفِ غیر کو توڑتا ہے اور جرأتِ حق پیدا کرتا ہے۔ جب ایک شخص حقیقی معنوں میں سجدہ کرنا سیکھ لیتا ہے تو پھر وہ کسی باطل طاقت کے سامنے جھکنے کو اپنی توہین سمجھتا ہے۔

روزہ انسان کی خواہشات کو منظم کرتا ہے۔ ایک انقلابی زندگی صرف نعروں سے نہیں چلتی بلکہ اس کے لیے ضبطِ نفس ضروری ہے۔ بھوک، پیاس اور دیگر خواہشات پر قابو پانے کی مشق انسان کو یہ سکھاتی ہے کہ وہ وقتی لذت یا خوف کی بنیاد پر اپنے اصول نہ بدلے۔ یہی وہ نفسیاتی قوت ہے جو اسے رشوت، مفاد پرستی، یا دباؤ کے سامنے جھکنے سے بچاتی ہے۔ تقویٰ، جو روزے کا مقصد بتایا گیا ہے، دراصل ایک مسلسل بیداری ہے کہ انسان ہر حال میں خدا کی نگاہ میں ہے۔ یہ احساس اسے تنہائی میں بھی حق پر قائم رکھتا ہے، جہاں کوئی قانون یا معاشرہ اسے دیکھ نہیں رہا ہوتا۔

تلاوتِ قرآن انسان کی فکری اور نظریاتی تشکیل کرتی ہے۔ اگر کسی کے پاس واضح فکری معیار نہ ہو تو وہ جذبات میں بہہ کر کبھی اِدھر اور کبھی اُدھر کھڑا ہو جاتا ہے۔ قرآن انسان کو حق و باطل کی پہچان دیتا ہے، تاریخ کے تجربات سے روشناس کراتا ہے، اور اسے بتاتا ہے کہ ظلم ہمیشہ کس طرح کام کرتا ہے اور حق والے کس طرح کامیاب ہوتے ہیں۔ اس سے انسان کے اندر ایک نظریاتی استحکام پیدا ہوتا ہے، جس کے بغیر کوئی بھی تحریک یا مزاحمت وقتی اور کمزور رہتی ہے۔

دعا انسان کے اندر امید، تعلق اور باطنی طاقت کو زندہ رکھتی ہے۔ ایک ایسا شخص جو مسلسل جدوجہد میں ہو، اسے بار بار ناکامیوں، رکاوٹوں اور تنہائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگر اس کے پاس کوئی ایسا ذریعہ نہ ہو جہاں وہ اپنے دل کا بوجھ اتار سکے اور نئی توانائی حاصل کر سکے تو وہ تھک کر بیٹھ جاتا ہے یا مایوسی کا شکار ہو جاتا ہے۔ دعا انسان کو خدا کے ساتھ ایک زندہ تعلق دیتی ہے، جس سے وہ اپنی کمزوریوں کو تسلیم کر کے بھی ٹوٹتا نہیں بلکہ مزید مضبوط ہو جاتا ہے۔ یہی تعلق اسے اس یقین تک لے جاتا ہے کہ اس کی جدوجہد بے نتیجہ نہیں ہے، چاہے ظاہری نتائج فوری نظر نہ آئیں۔

توسل انسان کو ایک زندہ نمونہ اور تعلق فراہم کرتا ہے۔ جب انسان اہل بیتؑ کی طرف رجوع کرتا ہے تو وہ صرف ایک روحانی وسیلہ نہیں اختیار کر رہا ہوتا بلکہ وہ ایک عملی نمونے سے جڑ رہا ہوتا ہے۔ یہ وہ ہستیاں ہیں جنہوں نے ظلم کے خلاف عملی جدوجہد کی اعلیٰ ترین مثالیں قائم کیں۔ ان سے تعلق انسان کے اندر محبت کو بیدار کرتا ہے، اور محبت ایک ایسی طاقت ہے جو انسان کو وہ کام بھی کروا دیتی ہے جو محض عقل یا قانون نہیں کروا سکتے۔ یہی محبت انسان کو قربانی کے لیے آمادہ کرتی ہے اور اسے ایک بڑے مقصد کے ساتھ جوڑتی ہے۔

جب یہ سب عناصر مل جاتے ہیں تو انسان کے اندر ایک متوازن اور مضبوط شخصیت بنتی ہے۔ اس کی نفسیات میں استحکام آتا ہے، اس کے اندر خوف کم ہوتا ہے، خواہشات قابو میں آتی ہیں، فکر واضح ہوتی ہے، اور دل میں ایک زندہ تعلق اور محبت پیدا ہوتی ہے۔ پھر یہی سب چیزیں اس کے عمل میں ظاہر ہوتی ہیں۔ وہ صرف باتیں نہیں کرتا بلکہ مشکل حالات میں بھی حق کا ساتھ دیتا ہے، اپنے مفاد کے خلاف جا کر بھی انصاف کا انتخاب کرتا ہے، اور ظلم کے خلاف کھڑا ہونے کی قیمت ادا کرنے کے لیے تیار ہوتا ہے۔

اگر ان عبادات کو نکال دیا جائے تو انسان کے پاس کچھ جذبات اور نظریات تو رہ سکتے ہیں، مگر وہ داخلی قوت نہیں رہتی جو ان نظریات کو عملی میدان میں قائم رکھ سکے۔ پھر انسان یا تو مصلحت کا شکار ہو جاتا ہے، یا تھک کر پیچھے ہٹ جاتا ہے، یا وقتی فائدے کے لیے اپنے اصولوں سے سمجھوتہ کر لیتا ہے۔ اس کے برعکس جب عبادت، فکر اور عمل ایک ساتھ ہوں تو ایک ایسا انسان وجود میں آتا ہے جو نہ صرف خود حق پر قائم رہتا ہے بلکہ دوسروں کے لیے بھی امید اور استقامت کا ذریعہ بنتا ہے۔ یہی وہ شخصیت ہے جسے قرآن ایک زندہ اور مؤثر مومن کے طور پر پیش کرتا ہے، اور یہی وہ بنیاد ہے جس پر کوئی بھی حقیقی اسلامی اور انقلابی معاشرہ کھڑا ہو سکتا ہے۔

قرآن نماز کو محض ایک رسم نہیں بلکہ ایک تربیتی عمل قرار دیتا ہے جو انسان کے اندر تقویٰ اور شعوری بیداری پیدا کرتا ہے؛ اسی لیے کہا گیا: “إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ” (سورہ عنکبوت 29:45)، یعنی نماز انسان کو برائی اور انحراف سے روکتی ہے، اور یہی روک تھام دراصل حق و باطل میں فرق کی عملی صلاحیت کو جنم دیتی ہے۔ ایک اور مقام پر “وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ” (سورہ بقرہ 2:45) میں نماز کو داخلی استقامت اور صحیح فیصلے کے لیے سہارا بتایا گیا ہے، جبکہ “يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَيَجْعَل لَّكُمْ فُرْقَانًا” (سورہ انفال 8:29) واضح کرتا ہے کہ تقویٰ انسان کو “فرقان” یعنی حق و باطل میں امتیاز کی بصیرت عطا کرتا ہے، اور نماز اسی تقویٰ کی مسلسل تربیت ہے۔ نفسیاتی اعتبار سے نماز انسان میں self-regulation، attentional control اور moral awareness پیدا کرتی ہے، جس سے اس کی خواہشات اور تعصبات قابو میں آتے ہیں اور وہ زیادہ معروضی فیصلے کر پاتا ہے۔ اس کے برعکس جو شخص نماز سے محروم رہتا ہے وہ آہستہ آہستہ impulsivity، cognitive bias اور moral disengagement کا شکار ہو جاتا ہے؛ اس کی خواہشات اس کے فیصلوں پر غالب آتی ہیں، وہ اپنے مفاد کو حق سمجھنے لگتا ہے اور بیرونی دباؤ یا جذباتی بیانیوں کے زیر اثر آ جاتا ہے۔ یوں نماز کا ترک صرف ایک عبادت کا چھوڑنا نہیں بلکہ اس باطنی نظام کو کمزور کرنا ہے جو انسان کو حق اور باطل کے درمیان واضح اور ثابت قدم انتخاب کے قابل بناتا ہے۔

لہذا اصل سوال یہ نہیں کہ کون سی چیزیں چھوڑ دی جائیں اور کون سی رکھ لی جائیں، بلکہ یہ ہے کہ دین کو اس کی مکمل صورت میں کیسے اپنایا جائے۔ جب عبادت، معرفت، محبت اور عمل ایک ساتھ جمع ہو جائیں، تب ایک ایسی شخصیت بنتی ہے جو نہ صرف خود ہدایت پر ہوتی ہے بلکہ دوسروں کے لیے بھی ہدایت کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جسے قرآن اور معصومینؑ نے انسان کے لیے منتخب کیا ہے، اور اسی میں فرد اور معاشرے کی حقیقی نجات پوشیدہ ہے۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=2867

ٹیگز

تبصرے