1

امن یا فریب؟ حق و باطل کی پوشیدہ جنگ

  • نیوز کوڈ : 2864
  • 24 April 2026 - 18:11
امن یا فریب؟ حق و باطل کی پوشیدہ جنگ

امن یا فریب؟ حق و باطل کی پوشیدہ جنگ

 بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔

سید جہانزیب عابدی

حق و باطل کی کشمکش میں ایک نہایت نازک اور فیصلہ کن لمحہ وہ ہوتا ہے جب باطل، شکست یا دباؤ کے بعد، اچانک “امن” اور “مذاکرات” کی زبان اختیار کر لیتا ہے۔ بظاہر یہ لمحہ خونریزی کے خاتمے، استحکام اور انسانی ہمدردی کی ایک امید بن کر سامنے آتا ہے، لیکن تاریخ، وحی اور معصومینؑ کی سیرت اس حقیقت کو کھولتی ہے کہ ہر امن، امن نہیں ہوتا؛ بعض اوقات یہ محض ایک “tactical pause” ہوتا ہے، ایک وقفہ، جس کے پیچھے باطل اپنی سانس بحال کرتا ہے، اپنی صفیں دوبارہ منظم کرتا ہے، اور پھر پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ حملہ آور ہونے کی تیاری کرتا ہے۔ اور بعض اوقات یہی “امن” ایک اور بھی خطرناک صورت اختیار کر لیتا ہے، یعنی باطل اپنی شکست کو ایک سیاسی معاہدے کے ذریعے “legitimate” بنا لیتا ہے، یوں حق کے مقابل اپنی باطل حیثیت کو ایک قابلِ قبول حقیقت میں بدل دیتا ہے۔

یہاں بنیادی سوال یہ نہیں کہ امن اچھا ہے یا جنگ بری؛ بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ امن کس کے حق میں جا رہا ہے، اور اس کا انجام کیا ہے۔ جدید سیاسیات میں امن اور جنگ کو عموماً طاقت کے توازن، مفادات کے حصول اور ریاستی بقا کے زاویے سے دیکھا جاتا ہے۔ اس تناظر میں اگر کوئی ریاست وقتی طور پر کمزور ہو جائے تو وہ مذاکرات کا سہارا لیتی ہے، معاہدے کرتی ہے، اور جیسے ہی اسے دوبارہ قوت حاصل ہوتی ہے، وہ انہی معاہدوں کو توڑنے یا ان سے نکلنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتی۔ یہاں اخلاق، صداقت یا حقانیت کوئی مستقل معیار نہیں بلکہ محض ایک آلہ ہوتا ہے جسے ضرورت کے مطابق استعمال کیا جاتا ہے۔ اسی لیے جدید عالمی نظام میں ہم بارہا دیکھتے ہیں کہ طاقتور ریاستیں جنگ کے بعد امن کی بات کرتی ہیں، مگر وہ امن درحقیقت ایک ایسا جال ہوتا ہے جس میں کمزور فریق کو اس کی مزاحمتی قوت سے محروم کر دیا جاتا ہے۔

اس کے برعکس معصومینؑ کا سیاسی فلسفہ محض طاقت کے کھیل پر مبنی نہیں بلکہ حق، عدل اور ہدایت کے اصولوں پر قائم ہے۔ یہاں جنگ بھی مقصد نہیں اور امن بھی بذاتِ خود کوئی مطلق قدر نہیں، بلکہ دونوں کو ایک اعلیٰ مقصد یعنی اقامۂ حق کے تابع سمجھا جاتا ہے۔ اسی لیے ہمیں سیرت میں بظاہر متضاد رویے نظر آتے ہیں، لیکن درحقیقت وہ ایک ہی اصول کے مختلف مظاہر ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر صلح حدیبیہ میں رسولِ خدا ﷺ نے ایک ایسا معاہدہ قبول کیا جس کی ظاہری شرائط مسلمانوں کے حق میں نہیں تھیں، لیکن حقیقت میں اس نے باطل کے بیانیے کو توڑ دیا اور اسلام کے پھیلاؤ کے لیے ایک وسیع میدان فراہم کیا۔ یہاں امن کو قبول کرنا دراصل باطل کو مہلت دینا نہیں بلکہ حق کو پھیلانے کا ایک حکیمانہ ذریعہ تھا۔

لیکن اسی کے بالمقابل واقعہ کربلا میں امام حسین کے سامنے جو “امن” پیش کیا گیا، وہ درحقیقت ایک ایسا معاہدہ تھا جو باطل کو دینی جواز عطا کرتا تھا۔ یزید کی بیعت کا مطلب صرف ایک سیاسی سمجھوتہ نہیں تھا بلکہ دین کی روح کو ایک فاسق و جابر حکمران کے ہاتھ میں سونپ دینا تھا۔ یہاں اگر امامؑ امن قبول کر لیتے تو بظاہر خونریزی رک جاتی، مگر حقیقت میں حق ہمیشہ کے لیے دفن ہو جاتا۔ اس لیے یہاں جنگ کا انتخاب، چاہے وہ ظاہری شکست پر منتج ہوا، دراصل حق کی ابدی بقا کا سبب بنا۔ اس سے یہ اصول واضح ہوتا ہے کہ جب امن باطل کو legitimize کرنے لگے تو وہ امن نہیں بلکہ ایک مہلک فریب ہوتا ہے۔

اسی طرح حضرت موسیٰ اور فرعون کے واقعات میں بار بار یہ منظر سامنے آتا ہے کہ جب عذاب آتا ہے تو فرعون نرمی اختیار کرتا ہے، وعدے کرتا ہے، مگر جیسے ہی خطرہ ٹلتا ہے وہ اپنے سابقہ رویے پر لوٹ آتا ہے۔ یہ ایک کلاسیکی مثال ہے کہ باطل کس طرح “امن” کو ایک tactical pause کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ قرآن اس رویے کو محض ایک تاریخی واقعہ کے طور پر بیان نہیں کرتا بلکہ ایک دائمی سنت کے طور پر پیش کرتا ہے، جسے ہر دور میں پہچاننا ضروری ہے۔

یہی فرق جدید سیاسیات اور معصومینؑ کے سیاسی فلسفے کے درمیان بنیادی حدِ فاصل ہے۔ جدید نظام میں “امن” اکثر ایک اسٹریٹجک چال ہوتا ہے، جبکہ معصومینؑ کے نظام میں امن ایک اخلاقی اور ہدایت یافتہ انتخاب ہوتا ہے، جو صرف اسی وقت اختیار کیا جاتا ہے جب وہ حق کے مقصد کو تقویت دے۔ جدید دنیا میں legitimacy طاقت سے پیدا ہوتی ہے؛ جو جیت جائے وہی حق سمجھا جاتا ہے یا کم از کم قابلِ قبول قرار پاتا ہے۔ لیکن معصومینؑ کے ہاں legitimacy کا معیار صرف اور صرف حق ہے، چاہے اس کے حاملین ظاہری طور پر کمزور ہی کیوں نہ ہوں۔

چنانچہ جب باطل شکست کے بعد امن کی بات کرتا ہے تو حق کے لیے اصل امتحان شروع ہوتا ہے۔ اگر وہ اس امن کو بغیر غور کے قبول کر لے تو ممکن ہے کہ وہ اپنے ہی ہاتھوں باطل کو ایک نئی زندگی دے دے۔ اور اگر وہ ہر امن کو رد کر دے تو ممکن ہے کہ وہ ایک ایسے موقع کو ضائع کر دے جس سے حق کو تقویت مل سکتی تھی۔ یہی وہ مقام ہے جہاں بصیرت، حکمت اور الٰہی رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ معصومینؑ کی سیرت ہمیں یہی سکھاتی ہے کہ نہ ہر جنگ مقدس ہے اور نہ ہر امن خیر، بلکہ اصل معیار یہ ہے کہ اس کے نتیجے میں حق کی سر بلندی ہوتی ہے یا باطل کو دوام ملتا ہے۔

یوں دیکھا جائے تو “tactical pause” اور “legitimization” دو ایسے حربے ہیں جو باطل ہمیشہ استعمال کرتا آیا ہے، مگر حق کی کامیابی اس میں نہیں کہ وہ صرف دشمن کی چال کو پہچان لے، بلکہ اس میں ہے کہ وہ ہر موقع پر ایسا فیصلہ کرے جو تاریخ کے طویل تر تناظر میں حق کی حفاظت اور اس کے فروغ کا باعث بنے۔ یہی وہ زاویہ ہے جو معصومینؑ کے سیاسی فلسفے کو محض وقتی کامیابیوں سے بلند کر کے ایک ابدی اور آفاقی معیار بنا دیتا ہے۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=2864

ٹیگز

تبصرے