صراط ٹائمز/ آیت اللہ العظمیٰ جوادی آملی نے حجاب کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے ایک نہایت اہم اور بنیادی نکتے کی طرف توجہ دلائی۔ انہوں نے فرمایا کہ بعض لوگوں کے ذہنوں میں یہ شبہ پایا جاتا ہے کہ حجاب عورت کے لیے ایک قید و پابندی ہے، گویا یہ ایسا حصار ہے جو خاندان یا شوہر نے اس پر مسلط کر دیا ہو، اسی لیے کچھ لوگ اسے عورت کی کمزوری اور محدودیت کی علامت سمجھتے ہیں۔
انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ قرآنِ کریم کے نقطۂ نظر سے یہ تصور درست نہیں ہے۔ عورت کو یہ سمجھنا چاہیے کہ اس کا حجاب صرف اس کی ذاتی ملکیت نہیں ہے کہ وہ یہ کہہ سکے: “میں اپنے حق سے دستبردار ہو گئی ہوں۔”
اسی طرح یہ مرد کا حق بھی نہیں ہے کہ وہ کہے: “میں راضی ہوں کہ وہ بے حجاب رہے”، اور نہ ہی یہ خاندان یا رشتہ داروں کا معاملہ ہے کہ وہ یہ فیصلہ کریں کہ انہیں اس پر کوئی اعتراض نہیں۔
انہوں نے تاکید کی کہ حجاب درحقیقت عورت کا ذاتی یا خاندانی معاملہ نہیں بلکہ “حقُّ اللہ” ہے۔
انہوں نے مزید فرمایا کہ خدا کے نزدیک عورت کی حرمت اور عزت نہ صرف اس کی اپنی ملکیت ہے، نہ شوہر کی، اور نہ ہی والدین یا اولاد کی؛ بلکہ یہ ایک الٰہی امانت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر یہ سب بھی راضی ہو جائیں کہ عورت بے حجاب ہو، تب بھی قرآن راضی نہیں ہوتا، کیونکہ عورت کی عصمت و حرمت “حقُّ اللہ” ہے — اور یہ وہ حق ہے جو خدا نے عورت کے سپرد کیا ہے۔
