3

*نظریہ اور نمائندگی کا فریب*

  • نیوز کوڈ : 2841
  • 21 April 2026 - 17:59
*نظریہ اور نمائندگی کا فریب*

*نظریہ اور نمائندگی کا فریب*

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔

سید جہانزیب عابدی

انسانی تاریخ میں یہ ایک مستقل فکری مغالطہ رہا ہے کہ کسی بھی نظریے، مذہب یا فکر کو اس کی اصل تعلیمات اور مستند ماخذ کے بجائے اس کے ماننے والوں کے رویّوں، کمزور نمائندوں یا بگڑی ہوئی عملی صورتوں کی بنیاد پر پرکھا جائے۔ یہ طرزِ فکر بظاہر سادہ اور مؤثر دکھائی دیتا ہے، لیکن درحقیقت علمی دیانت کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے، کیونکہ اس میں حقیقت اور اس کی ناقص تعبیر کو خلط ملط کر دیا جاتا ہے۔ جب کسی نظریے کو اس کے اصولی مصادر کے بجائے عوامی رسوم، جذباتی نعروں یا غیر ذمہ دار افراد کے کردار سے جوڑا جاتا ہے تو نتیجہ لازماً ایک مسخ شدہ تصویر کی صورت میں سامنے آتا ہے۔

اس بات کو اگر سادہ مثالوں میں سمجھیں تو یوں ہے کہ کسی چیز کو اس کی اصل شکل کے بجائے اس کی خراب یا کمزور مثالوں سے جانچنا غلط نتیجہ دیتا ہے۔

مثلاً ایک ڈاکٹر کا علم بہت اعلیٰ ہو سکتا ہے، لیکن اگر کوئی نیم پڑھے کمپاؤنڈر کی غلطی سے مریض کو نقصان ہو جائے تو کیا ہم پوری میڈیکل سائنس کو غلط کہہ دیں گے؟ ظاہر ہے نہیں۔ مسئلہ علم میں نہیں بلکہ اسے غلط استعمال کرنے والے میں ہے۔

اسی طرح اگر کسی اسکول کا نصاب اچھا ہو لیکن کچھ طالب علم پڑھائی میں کمزور ہوں یا شرارتیں کریں، تو کیا ہم کہیں گے کہ تعلیم ہی بےکار ہے؟ نہیں، کیونکہ نصاب اور طلبہ کے رویے دو الگ چیزیں ہیں۔

مذہب کے معاملے میں بھی یہی ہوتا ہے۔ اگر کچھ لوگ دین کے نام پر غلط رسمیں اپنائیں، عورتوں کے ساتھ زیادتی کریں یا شدت پسندی دکھائیں، تو یہ دین کی تعلیمات نہیں بلکہ لوگوں کی اپنی کمزوری یا غلط سمجھ ہے۔ جیسے کوئی ڈرائیور ٹریفک قوانین توڑے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ قوانین ہی خراب ہیں۔

آج کل سوشل میڈیا پر اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کسی ایک مولوی کی غلط بات یا کسی جاہل شخص کے رویے کو لے کر پورے مذہب کو تنقید کا نشانہ بنا دیا جاتا ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کسی ایک کرپٹ سیاستدان کو دیکھ کر کہا جائے کہ جمہوریت ہی ناکام نظام ہے، حالانکہ مسئلہ نظام کے بجائے اس کے استعمال میں ہوتا ہے۔

اسی طرح اگر کسی ملک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہو جائے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ “حقوقِ انسانی” کا نظریہ غلط ہے، بلکہ یہ کہ اس پر صحیح عمل نہیں ہو رہا۔

اصل بات یہ ہے کہ ہر نظریہ ایک کتاب، اصول یا فکر کی صورت میں ہوتا ہے، اور اس پر عمل کرنے والے انسان ہوتے ہیں۔ انسان غلطی کر سکتا ہے، لیکن اس کی غلطی کو نظریے کی غلطی سمجھ لینا انصاف نہیں۔

بالکل اسی طرح جیسے آئینہ صاف ہو لیکن دیکھنے والا دھندلی آنکھوں سے دیکھ رہا ہو، تو تصویر خراب نظر آئے گی۔ مسئلہ آئینے میں نہیں بلکہ دیکھنے والے کی نظر میں ہے۔

لہٰذا سمجھداری یہ ہے کہ ہم کسی بھی چیز کو اس کی اصل شکل میں دیکھیں، نہ کہ اس کی کمزور یا بگڑی ہوئی مثالوں کی بنیاد پر فیصلہ کریں۔ یہی انصاف بھی ہے اور یہی درست سوچ بھی۔

قرآن مجید اس فرق کو بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کرتا ہے کہ حق اور اس کی پہچان انسانوں کے عمل سے نہیں بلکہ خود حق کے معیار سے ہوتی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: “وَلَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ” یعنی حق کو باطل کے ساتھ نہ ملاؤ۔ یہ آیت دراصل اس ذہنی رویے کی نفی کرتی ہے جس میں حق کو اس کی خالص صورت میں دیکھنے کے بجائے اس کے ساتھ انسانی کمزوریوں کو ملا کر پیش کیا جاتا ہے۔ اسی طرح ایک اور مقام پر قرآن کہتا ہے: “لَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَىٰ أَلَّا تَعْدِلُوا، اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَىٰ” یعنی کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصاف چھوڑ دو۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ کسی بھی اختلاف یا مخالفت کے باوجود انصاف اور دیانت کو ترک کرنا درست نہیں۔

معاصر دنیا میں اس رویے کی بے شمار مثالیں دیکھی جا سکتی ہیں۔ سوشل میڈیا پر اکثر مذہب یا کسی نظریے پر تنقید کرتے ہوئے چند انتہا پسند افراد کے اعمال کو بنیاد بنا کر پورے عقیدے کو موردِ الزام ٹھہرا دیا جاتا ہے۔ اگر کسی معاشرے میں مذہب کے نام پر جاہلانہ رسوم رائج ہوں، خواتین کے ساتھ ناانصافی ہو یا کسی نیم تعلیم یافتہ شخص کی غلط بات سامنے آ جائے، تو اسے فوری طور پر پورے مذہب کی نمائندگی بنا دیا جاتا ہے۔ اسی طرح سیاسی میدان میں بھی جمہوریت یا آزادی جیسے بلند نعروں کے حامل ممالک جب اپنی عملی پالیسیوں میں تضاد کا شکار ہوتے ہیں تو ان کے نظریے پر سوال کم اٹھایا جاتا ہے، لیکن مذہبی معاشروں میں کسی بھی عملی کمزوری کو براہِ راست عقیدے کی ناکامی قرار دے دیا جاتا ہے۔ یہ دوہرا معیار اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مسئلہ محض تنقید نہیں بلکہ تنقید کا غیر منصفانہ زاویہ ہے۔

اہلِ بیت علیہم السلام کی تعلیمات میں بھی اس اصول پر خاص زور دیا گیا ہے کہ حق کو افراد کے ذریعے نہیں بلکہ معیار کے ذریعے پہچانا جائے۔ امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کا مشہور قول ہے: “حق کو پہچانو، اہلِ حق خود پہچان میں آ جائیں گے۔” یہ جملہ ایک بنیادی فکری اصول فراہم کرتا ہے کہ کسی نظریے کی صداقت کا انحصار اس کے ماننے والوں کے طرزِ عمل پر نہیں بلکہ اس کے اپنے اصولی ڈھانچے پر ہے۔ اگر کوئی فرد یا گروہ ان اصولوں سے انحراف کرے تو اس کا قصور نظریے پر نہیں ڈالا جا سکتا۔

اسی طرح تاریخ میں ہمیں ایسے واقعات بھی ملتے ہیں جہاں دین کی حقیقی روح کو نظر انداز کر کے اس کی ظاہری یا مسخ شدہ شکل کو بنیاد بنایا گیا۔ واقعہ کربلا اس کی ایک نمایاں مثال ہے جہاں ایک طرف دین کے نام پر اقتدار کو جائز قرار دیا جا رہا تھا اور دوسری طرف امام حسین علیہ السلام دین کی اصل روح، یعنی عدل، حق اور انسانی کرامت کے لیے کھڑے تھے۔ اگر کوئی شخص صرف ظاہری دعوؤں کو دیکھتا تو شاید اسے یزیدی نظام بھی دینی نظر آتا، لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس تھی۔ اس واقعے سے یہ سبق ملتا ہے کہ حق کو پہچاننے کے لیے ظاہری نمائندگی کافی نہیں بلکہ اصولی بنیادوں کو سمجھنا ضروری ہے۔

آج کے دور میں جب معلومات کی فراوانی ہے، فکری سطحیت بھی اسی قدر بڑھ گئی ہے۔ لوگ تحقیق کے بجائے فوری تاثر کو اہمیت دیتے ہیں، اور پیچیدہ نظریات کو چند جذباتی مثالوں میں سمیٹ دیتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نہ صرف غلط فہمیاں جنم لیتی ہیں بلکہ معاشرتی تقسیم اور شدت پسندی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ جب ایک گروہ دوسرے کے نظریے کو اس کی کمزور ترین شکل میں پیش کرتا ہے تو ردعمل میں دوسرا گروہ بھی اسی طرزِ عمل کو اختیار کرتا ہے، اور یوں مکالمہ ختم ہو کر محض الزام تراشی باقی رہ جاتی ہے۔

اسلامی تعلیمات اس کے برعکس اعتدال، توازن اور انصاف کی دعوت دیتی ہیں۔ قرآن “وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا” کہہ کر امتِ مسلمہ کو اعتدال کی راہ دکھاتا ہے، اور یہی اصول ہر فکری و علمی گفتگو پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ کسی بھی نظریے کو سمجھنے اور اس پر تنقید کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے اصل مصادر، مستند نمائندوں اور عقلی بنیادوں کو پیشِ نظر رکھا جائے، نہ کہ اس کی کمزور اور بگڑی ہوئی صورتوں کو۔

آخرکار مسئلہ نظریات کا کم اور انسانی رویّوں کا زیادہ ہے۔ جب انسان تعصب، جلد بازی اور جذباتیت کا شکار ہو جاتا ہے تو وہ ہر چیز کو اسی عینک سے دیکھتا ہے، چاہے وہ مذہب ہو یا کوئی جدید نظریہ۔ اس کا حل صرف یہی ہے کہ ہم علمی دیانت، انصاف اور اعتدال کو اپنا اصول بنائیں، حق کو اس کے اپنے معیار سے پہچانیں، اور کسی بھی فکر کو اس کی اصل شکل میں سمجھنے کی کوشش کریں۔ یہی وہ راستہ ہے جو نہ صرف فکری وضاحت پیدا کرتا ہے بلکہ معاشرتی ہم آہنگی اور حقیقی مکالمے کی بنیاد بھی فراہم کرتا ہے۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=2841

ٹیگز

تبصرے