2

*صلح و مذاکرات یا جنگ و قتال*

  • نیوز کوڈ : 2861
  • 24 April 2026 - 18:07
*صلح و مذاکرات یا جنگ و قتال*

*صلح و مذاکرات یا جنگ و قتال*

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔

سید جہانزیب عابدی

اسلامی فکر میں دشمن کے ساتھ سفارتکاری، مذاکرات اور گفت و شنید کوئی کمزوری یا اصولی پسپائی نہیں بلکہ ایک جائز اور بسا اوقات ضروری راستہ ہے، بشرطیکہ اس کا مقصد ظلم کو روکنا، حق کو محفوظ رکھنا اور فساد کو کم کرنا ہو۔ قرآن مجید خود اس اصول کی بنیاد رکھتا ہے کہ اگر دشمن صلح کی طرف مائل ہو تو اسے قبول کیا جائے، جیسا کہ سورۂ انفال میں ارشاد ہوتا ہے کہ اگر وہ صلح کی طرف جھکیں تو تم بھی جھک جاؤ۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اصل ہدف جنگ نہیں بلکہ عدل اور امن کا قیام ہے۔ لیکن یہی قرآن ایک دوسری طرف یہ بھی واضح کرتا ہے کہ جب ظلم حد سے بڑھ جائے اور مذاکرات محض دھوکہ یا وقت حاصل کرنے کا ذریعہ بن جائیں تو پھر سختی اور قوت کا استعمال لازم ہو جاتا ہے۔

محض ظاہری عمل۔ اگر مذاکرات کے ذریعے ظلم کم ہو رہا ہو، مظلوم کو ریلیف مل رہا ہو اور حق کے لیے کوئی راستہ نکل رہا ہو تو یہ ایک مثبت اور مطلوب عمل ہے۔ لیکن اگر مذاکرات کا نتیجہ صرف یہ ہو کہ ظالم کو مزید مہلت ملے، وہ اپنی طاقت کو منظم کرے اور ظلم کو مزید بڑھا دے، تو پھر یہی مذاکرات بے معنی بلکہ نقصان دہ ہو جاتے ہیں۔ قرآن نے ایسے منافقانہ رویوں کی نشاندہی کی ہے جہاں دشمن بظاہر امن کی بات کرتا ہے مگر دل میں دھوکہ اور فساد رکھتا ہے۔ ایسی صورتحال میں صرف الفاظ پر اعتماد کرنا سادہ لوحی بن جاتا ہے۔

رسول اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی سیرت اس توازن کی بہترین مثال ہے۔ مکہ کے دور میں آپ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے شدید ظلم کے باوجود صبر اور حکمت کا راستہ اختیار کیا، کیونکہ اس وقت کھلی جنگ مسلمانوں کے مکمل خاتمے کا سبب بن سکتی تھی۔ لیکن مدینہ میں جب ایک منظم معاشرہ قائم ہو گیا تو بدر، احد اور خندق جیسے معرکوں میں آپ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے واضح طور پر دفاعی جنگ لڑی۔ اسی طرح صلح حدیبیہ ایک عظیم مثال ہے جہاں بظاہر سخت شرائط قبول کی گئیں، مگر اس کے نتیجے میں اسلام کو پھیلنے کا موقع ملا۔ لیکن جب قریش نے اس معاہدے کو توڑا تو پھر رسول صل اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے مکہ کی فتح کے ذریعے واضح پیغام دیا کہ معاہدے کی خلاف ورزی کے بعد طاقت کا استعمال ناگزیر ہو جاتا ہے۔

امام علی ع نے اپنے دورِ خلافت میں حتی الامکان مذاکرات اور دلائل کے ذریعے مسائل حل کرنے کی کوشش کی، لیکن جب بغاوت اور فساد نے سر اٹھایا تو انہوں نے جمل اور صفین جیسے معرکوں میں عملی اقدام کیا۔ ان کا اصول یہ تھا کہ جب تک بات چیت سے حق واضح ہو سکتا ہے اور خونریزی سے بچا جا سکتا ہے، اس وقت تک جنگ سے گریز کیا جائے، لیکن جب باطل اپنی سرکشی پر قائم رہے اور امن کو تباہ کرے تو پھر طاقت کا استعمال ناگزیر ہو جاتا ہے۔

امام حسن ع کا صلح کرنا اور امام حسین ع کا قیام اسی اصول کے دو مختلف مظاہر ہیں۔ امام حسنؑ نے اس وقت صلح کو ترجیح دی جب جنگ جاری رکھنے سے اہلِ حق کی مکمل تباہی کا خطرہ تھا اور کوئی مثبت نتیجہ سامنے نہیں آ رہا تھا۔ اس کے برعکس امام حسینؑ نے اس وقت قیام کیا جب مذاکرات اور بیعت کا تقاضا دراصل باطل کی مکمل توثیق بن چکا تھا، اور خاموشی دین کی بنیاد کو ختم کر دیتی۔ اس لیے انہوں نے واضح کیا کہ ایک حد کے بعد بات چیت بے معنی ہو جاتی ہے اور پھر حق کے اظہار کے لیے قربانی ہی واحد راستہ رہ جاتا ہے۔

صلح و جنگ کا فیصلہ اسلام میں محض ایک عسکری یا جذباتی ردِ عمل نہیں بلکہ ایک جامع اور گہرا عمل ہے جس میں امت کی آمادگی، قیادت کی بصیرت اور دشمن کے حملے کی نوعیت سب مل کر کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں صرف نعرے یا وقتی جوش کافی نہیں ہوتے بلکہ ایک زندہ امت اور بصیر قیادت کی ہم آہنگی درکار ہوتی ہے، کیونکہ غلط وقت پر جنگ اور غلط وقت پر صلح—دونوں ہی حق کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

اسلامی تعلیمات میں قیادت کو محور کی حیثیت حاصل ہے، مگر یہ قیادت اس وقت مؤثر ہوتی ہے جب امت اس کے ساتھ کھڑی ہو۔ اگر قیادت بصیرت رکھتی ہو مگر امت تیار نہ ہو تو کھلا تصادم اکثر تباہی کا سبب بنتا ہے۔ اسی حقیقت کو امام حسن مجتبی ع کی صلح میں دیکھا جا سکتا ہے، جہاں قیادت حق پر تھی مگر امت کی داخلی کمزوری، نفاق اور تھکن اس حد تک بڑھ چکی تھی کہ جنگ جاری رکھنا اہلِ حق کے مکمل خاتمے کا باعث بن سکتا تھا۔ اس کے برعکس امام حسین سید الشہدا ع کے قیام میں امت کا ایک مختصر مگر خالص طبقہ موجود تھا جو حق کے لیے قربانی دینے کو تیار تھا، اور قیادت نے اسی محدود مگر باکیفیت آمادگی کو بنیاد بنا کر ایک ایسا اقدام کیا جس نے تاریخ کا رخ بدل دیا۔

یہاں یہ نکتہ بھی اہم ہے کہ امت کی “تعداد” سے زیادہ اس کی “کیفیت” اہم ہوتی ہے۔ ایک بڑی مگر بے شعور اور منتشر امت کسی بھی قیادت کے لیے بوجھ بن سکتی ہے، جبکہ ایک چھوٹی مگر با بصیرت جماعت حق کے قیام میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہے۔ امیر المومنین علی ابن ابی طالب ع کے دور میں ہمیں یہی تضاد نظر آتا ہے کہ بظاہر ایک بڑی امت موجود تھی مگر اس میں داخلی اختلافات اور دنیا طلبی نے اسے کمزور کر دیا، جس کے باعث مسلسل جنگوں کے باوجود مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہو سکے۔

دوسری طرف اگر امت تیار ہو مگر قیادت میں بصیرت یا استقامت نہ ہو تو بھی نقصان ہوتا ہے۔ ایک جذباتی امت اگر غیر بصیر قیادت کے پیچھے چل پڑے تو وہ آسانی سے ایسے تصادم میں داخل ہو سکتی ہے جو اس کے لیے تباہ کن ہو۔ اس لیے اسلام میں قیادت کا معیار صرف مقبولیت نہیں بلکہ علم، عدل اور حکمت ہے۔

اب اگر دشمن کے حملوں کی نوعیت کو دیکھا جائے تو اس سے صلح و جنگ کے فیصلے کی نوعیت مزید واضح ہوتی ہے۔ اگر حملہ براہِ راست عسکری ہو، یعنی جان و مال پر فوری خطرہ ہو، تو دفاع اور مزاحمت ناگزیر ہو جاتی ہے۔ قرآن بھی ظلم کے خلاف دفاع کی اجازت دیتا ہے، مگر ساتھ ہی حد سے تجاوز نہ کرنے کی تاکید بھی کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جنگ بھی اصول کے تحت ہو، نہ کہ انتقام یا جذبات کے تحت۔

لیکن ہر حملہ بندوق اور میزائل کا نہیں ہوتا۔ ثقافتی اور فکری حملے زیادہ گہرے اور دیرپا اثرات رکھتے ہیں۔ ایسی صورت میں فوری جنگ نہیں بلکہ علمی، تعلیمی اور تہذیبی مزاحمت درکار ہوتی ہے۔ اگر کوئی معاشرہ اپنی شناخت، اقدار اور فکری بنیادیں کھو دے تو وہ بغیر جنگ کے بھی شکست کھا جاتا ہے۔ اس لیے یہاں صلح کا مطلب خاموشی نہیں بلکہ ایک مختلف محاذ پر فعال مزاحمت ہے۔

معاشی حملے بھی اسی نوعیت کے ہیں۔ اگر کسی قوم کو اقتصادی طور پر مفلوج کر دیا جائے تو وہ اپنی آزادی کھو دیتی ہے۔ ایسی صورتحال میں براہِ راست جنگ کے بجائے اقتصادی خود انحصاری، صبر اور تدریجی حکمتِ عملی اختیار کی جاتی ہے۔ جلد بازی میں لیا گیا عسکری فیصلہ کبھی کبھی دشمن کے مقاصد کو ہی پورا کر دیتا ہے۔

سفارتی اور ابلاغی حملے ایک اور پیچیدہ میدان ہیں، جہاں دشمن بیانیہ (narrative) کے ذریعے اپنی برتری قائم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہاں صلح و جنگ کا مفہوم بدل جاتا ہے؛ یہ زبان، میڈیا اور رائے عامہ کی جنگ ہوتی ہے۔ اگر اس میدان کو نظر انداز کیا جائے تو عسکری کامیابی بھی بے معنی ہو سکتی ہے، کیونکہ عالمی سطح پر بیانیہ ہار جانا ایک بڑی شکست ہے۔

ان تمام صورتوں میں اصل سوال یہ نہیں کہ صلح کی جائے یا جنگ، بلکہ یہ کہ کس سطح پر، کس وقت اور کس انداز میں اقدام کیا جائے۔ کبھی خاموشی اور تدریج سب سے بڑی حکمت ہوتی ہے، اور کبھی فوری اقدام ہی حق کا تقاضا بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی تاریخ میں ہمیں ایک ہی مکتب سے مختلف طرزِ عمل نظر آتے ہیں—کہیں صلح، کہیں قیام، کہیں صبر اور کہیں جنگ۔

لہذا صلح و جنگ کا فیصلہ ایک زندہ اور بیدار شعور کا تقاضا کرتا ہے، جہاں امت کی آمادگی، قیادت کی بصیرت اور دشمن کی نوعیت کو ایک ساتھ دیکھا جائے۔ اگر ان تینوں عناصر میں توازن قائم ہو جائے تو فیصلے درست سمت میں جاتے ہیں، اور اگر ان میں سے کسی ایک کو نظر انداز کر دیا جائے تو یا تو غیر ضروری جنگ مسلط ہو جاتی ہے یا پھر ایسی صلح ہو جاتی ہے جو درحقیقت شکست کے مترادف ہوتی ہے۔ یہی وہ نازک توازن ہے جو اسلامی سیاسی فکر کو محض جذباتی ردِ عمل سے نکال کر ایک حکیمانہ اور اصولی نظام میں تبدیل کرتا ہے۔ اسلام میں نہ تو جنگ کو اصل قرار دیا گیا ہے اور نہ ہی مذاکرات کو مطلق حل سمجھا گیا ہے۔ اصل معیار یہ ہے کہ کون سا راستہ حق، عدل اور دین کی حفاظت کے لیے مؤثر ہے۔ جب مذاکرات حق کو مضبوط کریں تو وہ عین مطلوب ہیں، لیکن جب وہ ظلم کو تقویت دیں، حق کو کمزور کریں یا صرف وقت گزاری کا ذریعہ بن جائیں تو پھر ان کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہتی۔ اس مقام پر طاقت کا استعمال بھی ایک اخلاقی فریضہ بن جاتا ہے، کیونکہ ظلم کو روکنا اور عدل کو قائم کرنا صرف الفاظ سے ممکن نہ ہو تو عملی اقدام ناگزیر ہو جاتا ہے۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=2861

ٹیگز

تبصرے