1

امام رضا علیہ السلام اور ہماری نئی نسل / تربیتِ اولاد کا ایک فراموش شدہ پہلو

  • نیوز کوڈ : 3250
  • 15 August 2026 - 1:55
امام رضا علیہ السلام اور ہماری نئی نسل / تربیتِ اولاد کا ایک فراموش شدہ پہلو

امام رضا علیہ السلام اور ہماری نئی نسل / تربیتِ اولاد کا ایک فراموش شدہ پہلو

 تحریر: مولانا سید عمار حیدر زیدی قم

آج ہم امام رضا علیہ السلام کی شہادت کو یاد کرتے ہیں۔ شہادتِ امام رضا علیہ السلام صرف ایک تاریخی واقعے کی یاد نہیں، بلکہ یہ ہماری فکری اور تربیتی ذمہ داریوں پر غور کرنے کا بھی موقع ہے۔

ہم اپنے بچوں کی تربیت کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے عموماً نماز، روزہ، حجاب، ادب، احترامِ والدین اور دیگر دینی احکام کا ذکر کرتے ہیں۔ بلاشبہ یہ سب تربیت کے بنیادی اجزاء ہیں، لیکن ایک سوال آج ہمارے سامنے پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت کے ساتھ کھڑا ہے:

کیا ہم اپنے بچوں کو صرف دیندار بنا رہے ہیں یا انہیں باشعور دیندار بھی بنا رہے ہیں؟

 یہ فرق معمولی نہیں۔

آج کا بچہ ایک ایسے ماحول میں پرورش پا رہا ہے جہاں معلومات کی فراوانی ہے، مگر صحیح اور غلط معلومات میں امتیاز کی صلاحیت کمزور ہو سکتی ہے۔ سوشل میڈیا، مختصر ویڈیوز، مختلف فکری رجحانات اور بے شمار شبہات نے بچے کے سامنے ایسے سوالات رکھ دیے ہیں جن کا سامنا گزشتہ نسلوں کو اس سطح پر نہیں تھا۔

ایسے ماحول میں محض یہ کہنا کہ “یہ بات صحیح ہے کیونکہ ہمارے بڑوں نے ہمیں یہی بتایا ہے” کافی نہیں۔

بچے کو دین سے محبت کے ساتھ دین کی معرفت بھی چاہیے، اور عقیدے کے ساتھ عقلی بنیاد بھی۔

 امام رضا علیہ السلام کی سیرت: تربیت کا ایک علمی نمونہ

امام رضا علیہ السلام کی زندگی کا نمایاں پہلو علمی مکالمہ اور مختلف افکار کے ساتھ گفتگو ہے۔ آپ علیہ السلام نے مختلف مذاہب و مکاتبِ فکر کے اہلِ علم کے ساتھ گفتگو فرمائی اور ان کے سوالات کا جواب دلیل، حکمت اور علمی استدلال کے ذریعے دیا۔

یہ سیرت ہمیں تربیت کا ایک بنیادی اصول سمجھاتی ہے:

سوال کو دبانا نہیں، سوال کو صحیح سمت دینا چاہیے۔

بچے کے ذہن میں جب کوئی سوال پیدا ہو تو والدین کا کام صرف اسے خاموش کرانا نہیں، بلکہ اس سوال کو سمجھنا اور مناسب انداز میں جواب دینا ہے۔

 اگر بچہ پوچھے:

“اللہ کو ہم دیکھ کیوں نہیں سکتے؟”

“ہم امام کی ضرورت کیوں محسوس کرتے ہیں؟”

“اگر اللہ سب کچھ جانتا ہے تو انسان کو اختیار کیوں دیا؟”

“دوسرے لوگ ہمارے عقیدے سے مختلف کیوں ہیں؟”

تو یہ سوالات بدتمیزی یا کم دینی کی علامت نہیں۔ یہ ایک ذہن کے بیدار ہونے کی علامت بھی ہو سکتے ہیں۔

اصل خطرہ سوال نہیں؛ بے جواب سوال ہے۔

بچے کو جواب نہیں، سوچنے کا طریقہ بھی دیں

تربیت کا ایک کمزور طریقہ یہ ہے کہ ہم بچے کو ہر سوال کا ایک تیار شدہ جملہ یاد کرا دیں۔

اس کے مقابلے میں مضبوط تربیت یہ ہے کہ بچے کو یہ سکھایا جائے کہ وہ دلیل کو کیسے سمجھے، معلومات کو کیسے پرکھے، شبہے اور دلیل میں کیا فرق ہے اور ہر مقبول بات کو حقیقت سمجھ لینا کیوں درست نہیں۔

قرآن مجید بھی انسان کو بار بار غور و فکر، تدبر اور تعقل کی دعوت دیتا ہے۔

اس لیے دینی تربیت کا مقصد صرف ایک ایسا بچہ پیدا کرنا نہیں ہونا چاہیے جو والدین کے سامنے دینی جملے دہرا سکے، بلکہ ایسا نوجوان تیار کرنا چاہیے جو فتنوں کے دور میں اپنے ایمان کی حفاظت دلیل اور شعور کے ساتھ کر سکے۔

ہماری تربیت میں ایک بڑا خلا

ہم بچوں کو امتحان کے لیے تیار کرتے ہیں۔

ہم انہیں دنیا میں کامیاب ہونے کے لیے مختلف مہارتیں سکھاتے ہیں۔

ہم ان کے مستقبل کے لیے زبانیں، سائنس، ٹیکنالوجی اور دیگر علوم سیکھنے کی ترغیب دیتے ہیں۔

 لیکن سوال یہ ہے:

کیا ہم انہیں ان سوالات کے لیے بھی تیار کر رہے ہیں جو ان کے ایمان کے بارے میں ان کے ذہن میں پیدا ہوں گے؟

ایک دن ہمارا بچہ گھر سے باہر نکلے گا۔

وہ یونیورسٹی جائے گا، مختلف لوگوں سے ملے گا، مختلف نظریات پڑھے گا، سوشل میڈیا استعمال کرے گا اور ایسے سوالات سنے گا جن کے بارے میں شاید اس نے گھر میں کبھی گفتگو ہی نہ کی ہو۔

اگر ہم نے اس کے ذہن میں سوال کرنے کی صحت مند صلاحیت، دلیل کو سمجھنے کا شعور اور اپنے عقیدے کی معرفت پیدا نہیں کی تو صرف یہ توقع رکھنا کہ وہ ہر فکری چیلنج سے خود بخود محفوظ رہے گا، شاید حقیقت پسندانہ نہیں۔

 محبت کے ساتھ معرفت

بچوں کو اہل بیت علیہم السلام سے محبت سکھانا ہماری دینی ذمہ داری ہے، لیکن محبت کو معرفت سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔

بچے کو صرف یہ نہ بتایا جائے کہ “ہم امام رضا علیہ السلام سے محبت کرتے ہیں” بلکہ یہ بھی بتایا جائے کہ امام رضا علیہ السلام کی شخصیت کیوں ہمارے لیے حجت، رہبر اور نمونۂ عمل ہے۔

ان کی سیرت، ان کا علم، ان کا حلم، ان کا اخلاق، ان کا علمی مقام اور مختلف افکار کے ساتھ ان کا طرزِ گفتگو بچے کے سامنے رکھا جائے۔

تب محبت ایک جذباتی تعلق سے آگے بڑھ کر شعوری وابستگی بنے گی۔

والدین کے لیے امام رضا علیہ السلام کی شہادت کا پیغام

شہادت امام رضا علیہ السلام کے موقع پر شاید ہمیں صرف یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ ہم اپنے بچوں کو امام رضا علیہ السلام کے بارے میں کتنی معلومات دے رہے ہیں۔

 بلکہ ہمیں یہ سوچنا چاہیے:

کیا ہم اپنے بچوں کو امام رضا علیہ السلام کے مکتبِ فکر کا طالب علم بنا رہے ہیں؟

کیا ہم انہیں سوال کرنے دیتے ہیں؟

کیا ہم ان کے سوالات سننے کے لیے وقت نکالتے ہیں؟

کیا ہم خود اتنا مطالعہ کرتے ہیں کہ ان کے بنیادی دینی سوالات کا اطمینان بخش جواب دے سکیں؟

 اور سب سے اہم:

کیا ہمارا گھر ایسا علمی ماحول رکھتا ہے جہاں بچہ دین کو خوف سے نہیں، سمجھ اور محبت سے قبول کرے؟

امام رضا علیہ السلام کی شہادت ہمیں غم دیتی ہے، لیکن ان کی سیرت ہمیں ذمہ داری بھی دیتی ہے۔

وہ ذمہ داری یہ ہے کہ ہم ایک ایسی نسل تیار کریں جو صرف مذہبی شناخت رکھنے والی نسل نہ ہو، بلکہ معرفت، شعور، دلیل، اخلاق اور ایمان رکھنے والی نسل ہو۔

کیونکہ آنے والے زمانے میں ہماری اولاد کا سب سے بڑا امتحان شاید یہ نہیں ہوگا کہ اسے دین کا نام معلوم ہے یا نہیں؛

اصل امتحان یہ ہوگا کہ جب دین کے بارے میں سوال اٹھایا جائے تو کیا وہ اپنے ایمان کو سمجھنے، بیان کرنے اور دلیل کے ساتھ اس کی حفاظت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے؟

اور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں تربیتِ اولاد، سیرتِ امام رضا علیہ السلام سے ایک نیا سبق حاصل کرتی ہے۔

 شہادتِ امام رضا علیہ السلام کی مناسبت سے ہمیں اپنے گھروں میں صرف مجالسِ عزا ہی نہیں، مجالسِ معرفت بھی قائم کرنی چاہئیں۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=3250

ٹیگز

تبصرے