37

عصرِ حاضر کی مشکلات کا حل کربلا ہے

  • نیوز کوڈ : 1555
  • 19 April 2025 - 1:00
عصرِ حاضر کی مشکلات کا حل کربلا ہے

یہ وقت ہے کہ ہم امام حسینؑ کی قربانی کو ایک جذباتی واقعہ نہیں، بلکہ ایک “نظامِ مزاحمت” کے طور پر اپنائیں۔

عصرِ حاضر کی مشکلات کا حل کربلا ہے

مولانا سید عمار حیدر زیدی قم المقدسہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جس میں ظاہری طور پر ترقی، آزادی اور انصاف کے نعرے بلند ہو رہے ہیں، لیکن باطنی طور پر انسانیت ایک عظیم اخلاقی اور روحانی خلا کا شکار ہے۔ جدید دنیا نے سائنس کو خدا بنا لیا، نفس پرستی کو ترقی کا معیار اور سرمایہ کو حقیقت کا پیمانہ قرار دے دیا۔ ایسے ماحول میں نوجوان نسل، خصوصاً مسلمان نوجوان، شدید فکری الجھن کا شکار ہیں۔

جب وہ دیکھتے ہیں کہ فلسطین میں خون بہہ رہا ہے، یمن میں بھوک ہے، کشمیر اور افغانستان میں مظلومیت ہے، اور دنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے، تو ان کے دلوں میں یہ سوال ابھرتا ہے کہ “کیا واقعی خدا ہے؟ کیا اس کا کوئی منصوبہ ہے؟ کیا دین فقط ماضی کا قصہ ہے؟”

یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب صرف کتابوں سے نہیں، بلکہ “کربلا” سے ملتا ہے۔

امام حسینؑ کا پیغام آج کے انسان کے لیے سب سے روشن دلیل ہے کہ دین صرف عبادت یا فقہ کا مجموعہ نہیں، بلکہ ظلم کے خلاف کھڑا ہونا، حق کی خاطر سب کچھ قربان کر دینا، اور انسانیت کے ضمیر کو بیدار کرنا ہے۔

آج بھی اگر ہم خاموش ہو گئے، اگر ہم نے دین کو فقط مسلکی جھگڑوں میں محدود کر دیا، اگر ہم نے کربلا کو صرف گریہ تک محدود کر دیا تو ہم اس عظیم تحریک سے ناانصافی کریں گے۔

یاد رکھیں!
دین فطرت ہے، اور فطرت کبھی مر نہیں سکتی۔ اگر ہم سچائی سے جڑ جائیں، تو یہی قرآن، یہی امام حسینؑ، اور یہی امام علیؑ ہمیں اس دور کی تاریکیوں میں روشنی دکھائیں گے۔

یہ وقت ہے بیداری کا۔
یہ وقت ہے کہ ہم قرآن کو صرف حفظ نہ کریں، بلکہ سمجھیں، روایات کو صرف پڑھیں نہیں، بلکہ معاشرے پر نافذ کریں۔
یہ وقت ہے کہ ہم امام حسینؑ کی قربانی کو ایک جذباتی واقعہ نہیں، بلکہ ایک “نظامِ مزاحمت” کے طور پر اپنائیں۔

دنیا بدل رہی ہے، لیکن اصل چیلنج یہ ہے کہ ہم خود کو بدلیں بغیر اپنی حقیقت کھوئے۔

والسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=1555

ٹیگز

تبصرے