بچوں کے نمبرز پر نہیں، شخصیت پر توجہ دیں
علم، اولاد اور مقابلے کا رویہ
امامیہ نوجوان؛ شناخت، کردار اور عصرِ حاضر کے تقاضے
ایرانی عوام شہداء کے خون کا بدلہ لینے کے لیے پرعزم ہیں: آیت اللہ سعیدی
سعودی عرب نے یمن میں 1200 سے زائد مساجد مسمار کر دیں
*مجمعِ طلابِ شگر کے زیرِ اہتمام جشنِ صادقین کی پُروقار محفلِ میلاد*
*مبلغِ دینِ حق مولانا قاضی سید حسین رضا نقوی سرسویؒ — حیات و خدمات*
ایرانی عوام کے اتحاد نے امریکہ اور اسرائیل کو شکست سے دوچار کیا: حزب اللہ کے سربراہ
“شہیدہ آمنہ صرف ایک ادیبہ یا خطیبہ نہیں تھیں بلکہ وہ ایک مکمل انقلابی خاتون تھیں۔ ان کی حیات سے ہمیں یہ سیکھنا چاہیے کہ دین کی خدمت ہر میدان میں ممکن ہے، چاہے وہ تعلیم ہو، ادب ہو یا سیاسی شعور۔”
دل کبھی بہار جیسا ہوتا ہے اور کبھی خزاں جیسا، تو جب دل خزاں کی حالت میں ہو، اُسے اذیت نہ دو، اُسے رنجیدہ نہ کرو، اور واجبات پر اکتفا کرو
علم انسان کی حقیقی قیمت اور روحانی مقام کا معیار ہے۔جاہل اور عالم کبھی برابر نہیں ہو سکتے۔یہ قرآن کا اصول ہے کہ فضیلت کا دارومدار تقویٰ اور علم پر ہے، نہ کہ مال، نسل یا ظاہری حیثیت پر۔
انسان کی اصل قدر و قیمت اس کے علم، کردار اور مہارت میں ہے نہ کہ اس کے مال، حسب یا نسب میں۔
تقیہ فقط جان بچانے کا عمل نہیں، بلکہ ایک وسیع المعنٰی الٰہی حکمت ہے جس کے ذریعے اہلِ حق اپنی بقاء، اپنے دین، اور قیادت کی حفاظت کرتے ہوئے آنے والے وقت کے لیے راہ ہموار کرتے ہیں۔ یہ ظاہری کمزوری نہیں بلکہ باطنی بصیرت کا اظہار ہے
یہ وقت ہے کہ ہم امام حسینؑ کی قربانی کو ایک جذباتی واقعہ نہیں، بلکہ ایک “نظامِ مزاحمت” کے طور پر اپنائیں۔
دنیا ایک بار پھر ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں ظلم و بربریت نے انسانیت کو روند ڈالا ہے۔ معصوم چہروں پر بموں کی راکھ، ماؤں کی آہوں سے لرزتا آسمان، اور خاموش تماشائی بنتی انسانیت… یہ سب کچھ گواہ ہے کہ ہم ایک عظیم امتحان سے گزر رہے ہیں۔
آیتاللہ حائری شیرازی کی یہ تعلیمات ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ ترقی، شعور اور ہدایت کا راستہ ہمیشہ اپنے اندر بہتری کی تلاش، عاجزی، اور مستقبل کی فکر سے جُڑا ہوا ہے۔ جو انسان رکا نہیں، وہی منزل پر پہنچتا ہے۔
اس مومن کی کامیابی اس کے عمل میں بھی ظاہر ہوتی ہے۔ وہ علم حاصل کرتا ہے تاکہ بصیرت پیدا ہو، وہ زبان اور قلم سے حق کی بات کرتا ہے، لوگوں میں امید، اخلاص، اور انتظار کا شعور بیدار کرتا ہے۔