خواہر طاہرہ فاضلی(پرنسپل جامعہ الزہرا کراچی)
صراط ٹائمز / جامعہ الزہراء کراچی کی پرنسپل خواہر طاہرہ فاضلی نے شہیدہ آمنہ بنت الہدیٰ کی سیرت اور افکار پر ایک خصوصی نشست میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شہیدہ کی علمی و ادبی خدمات ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں، اور ان کی عملی زندگی ہر خاتون کے لیے ایک مکمل درسِ اخلاق ہے۔
انہوں نے کہا کہ:
“آمنہ بنت الہدیٰ نے اپنی ہنرمندی سے عرب دنیا میں جس تیزی سے کام کیا، شاید حوزہ علمیہ یہ کام کئی سالوں میں بھی نہ کرسکتا۔ کیونکہ حوزہ محدود ہے، مگر کہانیوں اور ادب کے ذریعے وہ گھروں تک پہنچ گئیں۔”
ان کا کہنا تھا کہ شہیدہ نے ادبی انداز میں معاشرے کے دل و دماغ کو مخاطب کیا۔ ان کی تحریریں مذہبی فکر رکھنے والوں کے ساتھ ساتھ ان افراد کو بھی متاثر کرتی تھیں جو مذہب سے دور تھے۔
:مزید گفتگو میں انہوں نے موجودہ دور کے چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے کہا
“آج کے دور میں میڈیا، فلم، ڈرامہ اور سوشل میڈیا جیسے ذرائع کو صرف منفی مواد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، حالانکہ خود یہ ذرائع برے نہیں، اصل مسئلہ ان میں موجود مواد کا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ان ذرائع کو مثبت اور تربیتی مواد کے لیے استعمال کریں، جیسا کہ شہیدہ آمنہ بنت الہدیٰ نے ادب کے میدان میں کیا۔”
انہوں نے نوجوان لڑکیوں کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ:
“شہیدہ آمنہ صرف ایک ادیبہ یا خطیبہ نہیں تھیں بلکہ وہ ایک مکمل انقلابی خاتون تھیں۔ ان کی حیات سے ہمیں یہ سیکھنا چاہیے کہ دین کی خدمت ہر میدان میں ممکن ہے، چاہے وہ تعلیم ہو، ادب ہو یا سیاسی شعور۔”
:نتیجہ
خواہر طاہرہ فاضلی نے اپنی گفتگو کے اختتام پر اس بات پر زور دیا کہ شہیدہ بنت الہدیٰ اور ان جیسی عظیم خواتین کو بطور آئیڈیل معاشرے میں متعارف کرانا اور ان کی سیرت کو تعلیمی نصاب اور تربیتی محافل میں شامل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
