♥1

*مبلغِ دینِ حق مولانا قاضی سید حسین رضا نقوی سرسویؒ — حیات و خدمات*

  • نیوز کوڈ : 3259
  • 31 August 2026 - 6:54
*مبلغِ دینِ حق مولانا قاضی سید حسین رضا نقوی سرسویؒ — حیات و خدمات*

*مبلغِ دینِ حق مولانا قاضی سید حسین رضا نقوی سرسویؒ — حیات و خدمات*

 *تحریر : سید قمر عباس قنبر نقوی*

سرسی سادات (ہندوستان): مولانا قاضی سید حسین رضا نقوی سرسویؒ ان اہلِ علم و تبلیغ میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی طویل زندگی دینِ اسلام کی ترویج، تعلیمِ قرآن، ذکرِ اہلِ بیتؑ اور عزاداریِ سیدالشہداء حضرت امام حسینؑ کے فروغ میں گزاری۔ آپ عالمِ دین، مدرسِ قرآن، خطیب اور بے باک مذہبی شخصیت کی حیثیت سے کئی دہائیوں تک سرسی سادات اور دیگر علاقوں میں دینی و ملی خدمات انجام دیتے رہے۔

 *علمی و خاندانی پس منظر*

مولانا قاضی سید حسین رضا نقویؒ کا تعلق ایک علمی و سادات خانوادے سے تھا۔ آپ کے خاندان کی نسبت قاضی سید عبدالرزاق تک پہنچتی ہے، جنہیں مغل بادشاہ جلال الدین محمد اکبر کے دور میں علمی و عدالتی صلاحیتوں کی بنا پر قاضی مقرر کیا گیا تھا۔ اسی نسبت سے خاندان کی نسلیں اپنے نام کے ساتھ ’’قاضی‘‘ لکھتی رہیں۔

آپ کی ولادت اترپردیش کے ضلع مرادآباد، جو اب ضلع سنبھل کا حصہ ہے، کے معروف قصبے سرسی سادات میں 2 محرم 1363ھ کو ہوئی۔ آپ کے والد کا نام قاضی سید ناظم حسین نقوی تھا۔ آپ کی ولادت کا دن محرم کی ایسی تاریخ تھی جو کربلائے حسینی کی یاد سے گہری نسبت رکھتی ہے، اور بعد کی زندگی میں بھی حسینیت، ذکرِ اہلِ بیتؑ اور عزائے سیدالشہداءؑ آپ کی شخصیت کا نمایاں پہلو بن گئے۔

 *حصولِ علم کا آغاز*

مولانا مرحوم نے ابتدائی تعلیم اپنے وطن سرسی میں حاصل کی۔ کم عمری میں ہی دینی علوم کے حصول کے لیے مولانا سید ایوب حسین نقوی سرسویؒ کے ہمراہ لکھنؤ تشریف لے گئے اور جامعہ ناظمیہ میں باقاعدہ علمی سفر کا آغاز کیا۔

جامعہ ناظمیہ میں مولانا ظل ابرارؒ، مولانا سید اجلالؒ، مولانا سید ایوب حسین نقوی سرسویؒ اور مولانا سید شاکر حسین نقوی امروہویؒ جیسے اساتذہ سے استفادہ کیا۔

بعد ازاں 1965ء میں سلطان المدارس، جامعہ سلطانیہ لکھنؤ میں داخل ہوئے، جہاں متعدد ممتاز علماء سے کسبِ فیض کیا۔ علمی تعلیم کے ساتھ انہوں نے طبِ یونانی کا ڈپلومہ بھی حاصل کیا اور عربی فارسی بورڈ الٰہ آباد سے عالم، فاضل اور کامل کی اسناد حاصل کیں۔ 1975ء میں صدرالافاضل کی سند حاصل کی۔

 *ملازمت کے ساتھ تبلیغِ دین*

1975ء میں تعلیمی مراحل مکمل کرنے کے بعد اترپردیش حکومت کے محکمۂ یونانی میں تقرری ہوئی۔ ابتدا میں کانپور میں تعیناتی ہوئی، جہاں سرکاری ذمہ داریوں کے ساتھ نمازِ جماعت اور تبلیغِ دین کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔

بعد ازاں اورنگ آباد، ضلع بلند شہر اور پھر 1980ء میں مرادآباد تبادلہ ہوا۔ اس کے بعد آپ نے اپنے آبائی وطن سرسی میں سکونت اختیار کی اور تقریباً 35 برس تک نمازِ پنجگانہ، نمازِ جمعہ و عیدین، دینی تعلیم اور اصلاحِ معاشرہ کے میدان میں خدمات انجام دیں۔

سرسی کی شیعہ جامع مسجد کے علاوہ مسجد کعبہ ثانی اور دیگر مساجد میں بھی طویل عرصے تک دینی فرائض انجام دیتے رہے۔

 *قرآن، اہلِ بیتؑ اور عزائے حسینی سے وابستگی*

مولانا قاضی سید حسین رضا نقویؒ کی زندگی کا ایک نمایاں پہلو درسِ قرآن، ذکرِ اہلِ بیتؑ اور عزائے سیدالشہداءؑ سے گہری وابستگی تھا۔

امام بارگاہ حضرت ابوالفضل العباسؑ میں بچوں کو قرآن مجید کی تعلیم دینے کا سلسلہ آپ نے اپنی زندگی کے آخری ایام تک جاری رکھا۔ یوں آپ کی شخصیت میں مدرسِ قرآن، مبلغِ دین اور خطیبِ منبرِ حسینی تینوں پہلو نمایاں نظر آتے تھے۔

سرسی کا شاید ہی کوئی ایسا عزا خانہ یا منبر ہو جہاں آپ نے ذکرِ سیدالشہداءؑ نہ کیا ہو۔ اس کے علاوہ مرادآباد، شکارپور، سری گنگا نگر راجستھان اور دیگر علاقوں میں بھی متعدد مجالسِ عزاء سے خطاب کیا۔

 *خطابت کا منفرد انداز*

مولانا مرحوم کی خطابت میں سادگی، اثر انگیزی اور دردِ دل نمایاں تھا۔ ان کا مقصد صرف مجلس سے خطاب کرنا نہیں بلکہ دین کے پیغام کو سامعین کے دلوں تک پہنچانا اور انہیں تعلیماتِ اہلِ بیتؑ سے وابستہ کرنا تھا۔

وہ خود بھی مجالس میں شرکت کرتے اور علماء و خطباء کی حوصلہ افزائی فرماتے تھے۔ دین و مذہب کے خلاف اٹھنے والے اعتراضات اور حملوں کا جواب بے باکی اور حکمت کے ساتھ دینا بھی ان کی شخصیت کا نمایاں وصف تھا۔

 *علمی و ملی شخصیات سے تعلق*

مولانا قاضی سید حسین رضا نقویؒ کے ہم عصر اور ہم درس علماء میں مولانا سید محمد اصغر زیدی پھنڈیرویؒ، مولانا ابنِ حسن املوی واعظؒ، مولانا محمد داؤد املویؒ، مولانا سید محمد مہدی عابدیؒ اور مولانا سید اسد رضا حسینیؒ جیسے اہلِ علم کے نام قابلِ ذکر ہیں۔

آپ علماء کے قدردان، علم دوست اور قوم و ملت کے ہمدرد تھے۔ علمی، قومی اور سماجی موضوعات پر اہلِ علم کے ساتھ نشستیں اور گفتگو آپ کی زندگی کا اہم حصہ تھیں۔

 *وفات اور تشییع جنازہ*

مولانا قاضی سید حسین رضا نقوی سرسویؒ کا انتقال یومِ اربعین، 20 صفر 1448ھ کو میرٹھ کے ایک نجی اسپتال میں تقریباً 85 برس کی عمر میں ہوا۔

رپورٹ کے مطابق وفات سے قبل انہوں نے سرسی کے جلوسِ چہلم کی آن لائن زیارت کی۔ خبرِ وفات پھیلتے ہی ملک و بیرونِ ملک سے تعزیت اور اظہارِ افسوس کا سلسلہ شروع ہوگیا۔

آپ کی نمازِ جنازہ امامِ جمعہ سرسی نے پڑھائی جبکہ تدفین امام بارگاہ کلاں، سرسی سادات کے صدر دروازے پر مقامِ سبیل میں ہوئی۔ جنازے اور تدفین میں علماء، خطباء، شعراء، ادباء، مرثیہ خواں، مدح خواں اور بڑی تعداد میں عقیدت مندوں نے شرکت کی۔

 *ایک دینی زندگی کا روشن ورثہ*

مولانا قاضی سید حسین رضا نقوی سرسویؒ کی زندگی قرآن فہمی، تبلیغِ دین، تعلیمِ نسلِ نو، محبتِ اہلِ بیتؑ اور عزائے حسینی سے عبارت تھی۔ ان کی وفات ایک ایسے دور کے خاتمے کی مانند ہے جس میں علماء نے محدود وسائل کے باوجود مساجد، امام بارگاہوں، مجالس اور دینی اجتماعات کے ذریعے دین و مذہب کی شمع روشن رکھی۔

آپ کی دینی، علمی، ملی اور سماجی خدمات آنے والی نسلوں کے لیے ایک قابلِ قدر ورثہ ہیں۔

اللہ تعالیٰ مولانا مرحوم کی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، درجات بلند فرمائے، انہیں علماء و صالحین کے ساتھ محشور فرمائے اور تمام پسماندگان و متعلقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔

 *اِنّا لِلّٰهِ وَاِنّا اِلَیْهِ راجِعُون۔*

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=3259

ٹیگز

تبصرے