تحریر : مولانا سید عمار حیدر زیدی
بعض اوقات انسان اپنی اولاد کی تعلیم، ذہانت، لباس، اسکول یا دینی معلومات کو دوسروں کے بچوں کے مقابلے میں پیش کرنے لگتا ہے۔ بظاہر یہ فخرِ اولاد محسوس ہوتا ہے، لیکن اگر اس کے نتیجے میں کسی دوسرے بچے کو کمتر، کم علم یا شرمندہ محسوس کرایا جائے تو یہ تربیت نہیں، مقابلے کی ذہنیت ہے۔
اسلام ہمیں اپنی اولاد کو دوسروں سے بہتر ثابت کرنے کے بجائے انہیں بہتر انسان بنانے کی تعلیم دیتا ہے۔ بچے کا کسی سوال کا جواب دے دینا اس کی حقیقی کامیابی نہیں؛ اصل کامیابی یہ ہے کہ وہ علم کے ساتھ تواضع، اخلاق، احترام اور دوسروں کے لیے خیرخواہی بھی سیکھے۔
اسی طرح دینی علم کا مقصد یہ نہیں کہ ہم محفل میں دوسروں کی غلطیاں تلاش کرکے اپنی برتری ثابت کریں۔ امیرالمؤمنین امام علیؑ فرماتے ہیں:
ثَمَرَةُ الْعِلْمِ الْعَمَلُ بِهِ.
“علم کا پھل اس پر عمل کرنا ہے۔”
لہٰذا اگر ہمارا علم ہمیں زیادہ متواضع، زیادہ بردبار اور دوسروں کی عزت کرنے والا نہیں بناتا تو ہمیں اپنے علم سے پہلے اپنے اخلاق کا محاسبہ کرنا چاہیے۔
اور والدین کے لیے شاید سب سے خوبصورت اصول یہ ہے:
اپنے بچے کو دوسروں کے بچوں سے آگے نکالنے سے پہلے، اسے کل کے اپنے آپ سے بہتر بنانے کی کوشش کریں۔
کیونکہ بہترین تربیت وہ نہیں جسے دیکھ کر لوگ کہیں:
“اس کا بچہ سب سے زیادہ ذہین ہے۔”
بلکہ وہ ہے جسے دیکھ کر لوگ کہیں:
“اس بچے میں علم بھی ہے، ادب بھی ہے اور دوسروں کے لیے احترام بھی۔”
