بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔
تحریر : سید جہانزیب عابدی
بچے کی تعلیم کا مقصد صرف یہ نہیں کہ وہ کتاب کا سبق یاد کر لے، سوال کا درست جواب لکھ دے اور امتحان میں اچھے نمبر حاصل کر لے۔ حقیقی تعلیم وہاں شروع ہوتی ہے جہاں بچہ اپنے علم کو استعمال کرنا، سوال کرنا، دوسروں کے ساتھ مل کر رہنا، اپنی بات کہنا، دوسروں کی بات سننا، مشکل حالات کا سامنا کرنا اور اپنے اندر اعتماد پیدا کرنا سیکھتا ہے۔ اس لیے اگر کسی بچے کے بارے میں یہ معلوم ہو کہ وہ کلاس میں سوال نہیں کرتا، اپنی بات بیان کرنے سے گھبراتا ہے، گروپ میں گھل مل نہیں پاتا، دوسروں سے شکایات کرتا رہتا ہے، اپنا علم دوسروں کے ساتھ بانٹنے سے کتراتا ہے یا اسکول میں خوش نظر نہیں آتا تو والدین کو صرف یہ سوچ کر مطمئن نہیں ہو جانا چاہیے کہ اس کے نمبر اچھے ہیں۔ ایسے بچے کو محض مزید ٹیوشن نہیں بلکہ بہتر تربیت، مناسب توجہ اور محفوظ ماحول کی ضرورت ہوتی ہے۔
اگر بچہ کلاس میں سوال نہیں کرتا تو والدین کو فوراً یہ نتیجہ نہیں نکالنا چاہیے کہ وہ ذہین نہیں ہے یا سبق میں دلچسپی نہیں رکھتا۔ بعض بچے اس لیے سوال نہیں کرتے کہ انہیں غلط جواب دینے کا خوف ہوتا ہے، بعض استاد کے ردعمل سے گھبراتے ہیں، بعض ساتھی بچوں کے مذاق سے ڈرتے ہیں اور بعض کو یہ تربیت ہی نہیں ملی ہوتی کہ نہ سمجھ آنے والی بات پوچھنا کمزوری نہیں بلکہ سیکھنے کا بنیادی طریقہ ہے۔ ایسے بچے کو یہ احساس دلانا چاہیے کہ سوال کرنا اس کی عزت کم نہیں کرتا بلکہ اس کے شعور کو بڑھاتا ہے۔ والدین گھر میں بھی ایسا ماحول بنائیں جہاں بچہ بلاخوف کہہ سکے، ’’مجھے یہ بات سمجھ نہیں آئی۔‘‘ اس پر فوراً ڈانٹنے یا مذاق اڑانے کے بجائے اس سے کہیں، ’’اچھا ہوا تم نے بتا دیا، اب ہم اسے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔‘‘
استاد کا بھی کام صرف سبق پڑھا دینا نہیں بلکہ ایسا ماحول پیدا کرنا ہے جس میں بچہ سوال کرنے کو محفوظ سمجھے۔ اگر بچہ بار بار خاموش رہتا ہے تو استاد کو اس سے انفرادی طور پر بات کرنی چاہیے، اس سے آسان سوالات پوچھنے چاہییں، اس کے درست جوابات کو حوصلہ دینا چاہیے اور آہستہ آہستہ اسے کلاس میں اظہار کا موقع دینا چاہیے۔ جس بچے نے کبھی پوری کلاس کے سامنے بات نہیں کی، اس سے اچانک طویل تقریر کروانے کے بجائے پہلے اسے دو جملے بولنے دیں، پھر ایک منٹ، پھر تین منٹ۔ اعتماد بھی علم کی طرح تدریج سے پیدا ہوتا ہے۔
اگر بچہ اسٹیج پر آکر اپنی بات نہیں کہہ سکتا تو اسے شرمندہ کرنے کے بجائے اس کی مشق کروائی جانی چاہیے۔ والدین گھر میں اسے کوئی چھوٹا سا موضوع دیں، مثلاً ’’آج اسکول میں کیا اچھا لگا؟‘‘ اور کہیں کہ دو منٹ ہمیں بتاؤ۔ اگلے دن وہی بچہ کسی کتاب کے بارے میں بتائے، پھر کسی سائنسی حقیقت کے بارے میں، پھر کسی اخلاقی واقعے کے بارے میں۔ اگر وہ درمیان میں رک جائے تو فوراً اس کی بات مکمل نہ کریں۔ اسے سوچنے کا وقت دیں۔ اس طرح بچہ یہ سیکھتا ہے کہ بات بھول جانا یا رک جانا ناکامی نہیں، دوبارہ سوچ کر بات جاری رکھنا بھی اظہارِ خیال کا حصہ ہے۔
اسی طرح اگر بچہ دوسرے بچوں کے ساتھ بیٹھنے اور کام کرنے میں دشواری محسوس کرتا ہے تو اسے ’’یہ تو بہت شرمیلا ہے‘‘ کہہ کر اس کی شخصیت پر مہر نہیں لگا دینی چاہیے۔ بچے کی سماجی صلاحیت بھی ایک قابلِ تربیت صلاحیت ہے۔ اسے چھوٹے گروپ کے کام دیے جا سکتے ہیں۔ مثلاً چار بچے مل کر ایک چارٹ بنائیں اور ہر بچے کو ایک ذمہ داری دی جائے۔ کسی کو لکھنے کا، کسی کو معلومات جمع کرنے کا، کسی کو تصویر بنانے کا اور کسی کو پوری جماعت کے سامنے نتیجہ بیان کرنے کا۔ اس طرح بچہ آہستہ آہستہ یہ سیکھتا ہے کہ دوسروں کے ساتھ مل کر کام کرنا صرف دوستی کرنا نہیں بلکہ ایک اجتماعی ذمہ داری نبھانا بھی ہے۔
والدین کو یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ ہر بچہ ہر وقت بہت سے دوستوں کے درمیان بیٹھنے والا نہیں ہوتا۔ خاموش یا کم گو ہونا بذاتِ خود مسئلہ نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا بچہ تنہائی میں بھی مطمئن ہے یا وہ دوسروں سے تعلق قائم کرنا چاہتا ہے مگر خوف، عدم اعتماد یا کسی منفی تجربے کی وجہ سے نہیں کر پا رہا؟ اگر بچہ گھر آکر بار بار کہے کہ ’’کوئی میرے ساتھ نہیں بیٹھتا‘‘، ’’وہ میرا مذاق اڑاتے ہیں‘‘ یا ’’میں اسکول نہیں جانا چاہتا‘‘ تو اسے معمولی شکایت سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
خاص طور پر اگر کسی بچے کو مسلسل تنگ کیا جا رہا ہو، اس کا مذاق اڑایا جاتا ہو، اسے دھمکایا جاتا ہو، اس کی چیزیں چھینی جاتی ہوں یا اسے جان بوجھ کر گروپ سے الگ رکھا جاتا ہو تو والدین کو بچے کو یہ نہیں کہنا چاہیے کہ ’’خود مضبوط بنو اور جواب دو‘‘ اور معاملہ ختم سمجھ لینا چاہیے۔ پہلے بچے کو یقین دلانا ضروری ہے کہ ’’ہم تمہاری بات سن رہے ہیں اور تم اکیلے نہیں ہو۔‘‘ پھر والدین کو استاد اور اسکول کے ذمہ دار فرد سے سنجیدگی سے بات کرنی چاہیے۔ بچے کو یہ احساس نہیں ہونا چاہیے کہ شکایت کرنے سے مسئلہ مزید بڑھ جائے گا۔ اسی طرح بچے کو ہر معمولی اختلاف کو ’’بلی‘‘ سمجھنے کی عادت بھی نہیں ڈالنی چاہیے۔ والدین اور استاد کو مل کر یہ فرق سمجھنا ہوگا کہ معمول کا باہمی اختلاف کیا ہے اور مسلسل اذیت، تحقیر یا خوف پیدا کرنا کیا ہے۔
اگر بچہ استاد کے پاس بار بار اپنے ساتھیوں کی شکایت لے کر آتا ہے تو صرف شکایتیں بند کروانے کے بجائے اس کے پیچھے موجود مسئلہ سمجھنا چاہیے۔ ممکن ہے بچہ خود بھی کسی سماجی مہارت میں کمزور ہو۔ ممکن ہے وہ ہر اختلاف کو اپنے خلاف سمجھتا ہو۔ ممکن ہے کوئی واقعی اسے تنگ کر رہا ہو۔ ممکن ہے وہ دوسروں کے ساتھ تعلق قائم کرنے کا طریقہ نہیں جانتا۔ اس لیے استاد کا مناسب جواب صرف ’’شکایت مت کرو‘‘ نہیں بلکہ ’’مجھے بتاؤ کیا ہوا، تم نے کیا کیا، دوسرے بچے نے کیا کیا اور اگلی مرتبہ تم اس صورتِ حال کو کس طرح بہتر طریقے سے سنبھال سکتے ہو؟‘‘ ہونا چاہیے۔ اس طرح شکایت ایک تربیتی موقع بن سکتی ہے۔
بچے کے علم کو دوسروں کے ساتھ بانٹنے کے معاملے میں بھی والدین کو محتاط رہنا چاہیے۔ اگر بچہ کسی دوسرے بچے کو سمجھانے میں خوشی محسوس کرتا ہے تو یہ صرف سخاوت نہیں بلکہ اس کے اپنے علم کو مضبوط کرنے کا بہترین ذریعہ بھی ہے۔ اور اگر وہ ہر چیز چھپاتا ہے، دوسرے کو بتانا پسند نہیں کرتا یا دوسرے کے اچھے کرنے پر پریشان ہوتا ہے تو اسے صرف ’’حسد کرتا ہے‘‘ کہہ دینا کافی نہیں۔ اسے یہ سمجھانا ہوگا کہ علم کوئی ایسی چیز نہیں جسے بانٹنے سے کم کیا جا سکے۔ اگر تم اپنے دوست کو ریاضی کا سوال سمجھاتے ہو تو تمہارا جواب کم نہیں ہوتا بلکہ تمہاری سمجھ مزید پختہ ہوتی ہے۔
مثلاً اگر ایک بچہ سائنس کا کوئی تصور اچھی طرح سمجھ گیا ہے اور اس کا دوست نہیں سمجھ پایا تو استاد اسے کہہ سکتا ہے، ’’تم اپنے دوست کو یہ بات اپنے الفاظ میں سمجھاؤ۔‘‘ اگر وہ کامیابی سے سمجھا دیتا ہے تو اس کی تعریف صرف اس لیے نہ کی جائے کہ اس نے دوست کی مدد کی بلکہ اس لیے بھی کہ اس نے اپنے علم کو منتقل کرنا سیکھا۔ یہی صلاحیت آگے چل کر استاد، منتظم، محقق اور قائد بننے میں کام آتی ہے۔
لیکن شاید سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ والدین یہ جاننے کی کوشش کریں کہ بچہ اسکول میں خوش ہے یا نہیں۔ خوشی سے مراد یہ نہیں کہ بچہ ہر روز کھیلتا رہے یا کبھی مشکل محسوس نہ کرے۔ تعلیم میں محنت، امتحان کا دباؤ، ناکامی، اصلاح اور ذمہ داری سب آتے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ ان سب کے باوجود بچے کے اندر سیکھنے کی رغبت باقی ہے یا نہیں۔ کیا وہ نئی چیز جاننے پر خوش ہوتا ہے؟ کیا وہ اپنی کامیابی گھر آکر بتاتا ہے؟ کیا وہ استاد کی کسی بات کا ذکر کرتا ہے؟ کیا وہ کسی موضوع پر خود سوال اٹھاتا ہے؟ یا وہ مسلسل تھکا ہوا، خوف زدہ، بے زار اور تعلیم سے بھاگنے والا ہوتا جا رہا ہے؟
اگر بچہ تعلیم کو بوجھ سمجھنے لگے تو ہر مرتبہ مزید ٹیوشن لگا دینا مسئلے کا حل نہیں۔ کبھی مسئلہ مضمون نہیں ہوتا، طریقۂ تعلیم ہوتا ہے۔ کبھی مسئلہ بچے کی صلاحیت نہیں بلکہ اس کا خوف ہوتا ہے۔ کبھی مسئلہ سستی نہیں بلکہ مسلسل ناکامی کا تجربہ ہوتا ہے۔ ایک بچہ بار بار ریاضی میں ناکام ہو تو ممکن ہے وہ آہستہ آہستہ یہ یقین بنا لے کہ ’’میں ریاضی میں کمزور ہوں‘‘۔ اس کے بعد سوال دیکھتے ہی اس کا ذہن بند ہونے لگتا ہے۔ ایسے بچے کو صرف مزید سوال حل کروانے کے بجائے پہلے کامیابی کے چھوٹے تجربات دینے چاہییں۔ آسان سوال سے شروع کرکے اسے یہ احساس دلانا چاہیے کہ ’’میں کر سکتا ہوں۔‘‘
والدین کو یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ بچہ اپنی غلطیوں سے کیا سیکھ رہا ہے۔ اگر غلط جواب پر اس کی عزت مجروح ہوتی ہے تو وہ اگلی مرتبہ جواب دینے سے ہی گریز کرے گا۔ لیکن اگر اسے بتایا جائے کہ ’’غلط جواب نے ہمیں یہ بتایا کہ یہاں تمہاری سمجھ میں ایک خلا ہے، اب ہم اسے پُر کرتے ہیں‘‘ تو ناکامی سیکھنے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ اسی طرح استاد اگر بچے کے غلط جواب پر پوری کلاس کے سامنے اسے شرمندہ کرے گا تو ممکن ہے وہ ہمیشہ کے لیے سوال کرنے سے ڈر جائے۔ ایک اچھا تعلیمی ماحول غلطی کو چھپانے کے بجائے اسے درست کرنے کا موقع بناتا ہے۔
والدین کو ہر پیرنٹ ٹیچر میٹنگ میں یہ بھی جاننے کی کوشش کرنی چاہیے کہ ان کا بچہ صرف استاد کی ہدایات پر چلتا ہے یا خود بھی پہل کرتا ہے۔ کیا وہ کسی کام کے لیے رضاکار بنتا ہے؟ کیا وہ کسی نئے خیال کا اظہار کرتا ہے؟ کیا وہ کسی مسئلے کا حل خود تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہے؟ اگر بچے کو ہر کام بتانا پڑتا ہے تو اس کی خود انحصاری پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر وہ کسی کام میں ناکام ہو کر فوراً دوسروں سے مدد مانگ لیتا ہے تو اسے کچھ دیر خود کوشش کرنے کی تربیت دینی چاہیے۔ اور اگر وہ ضرورت پڑنے پر مدد مانگنے سے بھی ڈرتا ہے تو اسے یہ سمجھانا چاہیے کہ مدد طلب کرنا بھی ایک ذہین اور ذمہ دارانہ عمل ہے۔
اس پورے عمل میں والدین اور استاد کو ایک دوسرے کا حریف نہیں بلکہ ایک ہی تربیتی سفر کے ساتھی بننا چاہیے۔ والدین اگر صرف یہ پوچھیں کہ ’’میرے بچے کے نمبر کیوں کم ہیں؟‘‘ تو استاد بھی زیادہ تر نمبروں کے دائرے میں جواب دے گا۔ لیکن اگر والدین پوچھیں، ’’وہ سوال کرتا ہے؟ اپنی بات کہتا ہے؟ دوسروں کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے؟ کسی بچے سے خوف زدہ تو نہیں؟ دوسروں کی مدد کرتا ہے؟ ناکامی کے بعد دوبارہ کوشش کرتا ہے؟ خوش رہتا ہے؟‘‘ تو گفتگو بھی بچے کی مکمل شخصیت کی طرف منتقل ہو جائے گی۔
اور اگر استاد ان سوالات کے جواب میں کہے کہ ’’نہیں، وہ سوال نہیں کرتا، اعتماد سے بات نہیں کرتا، گروپ میں شامل نہیں ہوتا، اپنا علم شیئر نہیں کرتا اور اکثر پریشان نظر آتا ہے‘‘ تو والدین کو دفاعی انداز اختیار نہیں کرنا چاہیے۔ انہیں یہ نہیں کہنا چاہیے کہ ’’لیکن اس کے نمبر تو اچھے ہیں۔‘‘ انہیں یہ کہنا چاہیے کہ ’’پھر ہمیں مل کر اس کی ان صلاحیتوں پر کام کرنا ہوگا۔ آپ اسکول میں کیا کریں گے اور ہم گھر میں کیا کریں؟‘‘ یہی وہ مقام ہے جہاں پیرنٹ ٹیچر میٹنگ واقعی تربیتی میٹنگ بن جاتی ہے۔
ایک بچے کو اچھے نمبر دلوانا نسبتاً آسان ہدف ہے؛ اسے ایسا انسان بنانا جو جانتا بھی ہو، سوچتا بھی ہو، سوال بھی کرتا ہو، اپنی بات بھی کہہ سکتا ہو، دوسروں کو بھی سن سکتا ہو، اختلاف کو برداشت بھی کر سکتا ہو، مشکل میں مدد بھی مانگ سکتا ہو، دوسروں کی مدد بھی کر سکتا ہو اور ناکامی کے بعد دوبارہ کھڑا بھی ہو سکتا ہو، کہیں زیادہ بڑا کام ہے۔
اس لیے والدین کو اپنے بچے کی رپورٹ صرف نمبروں میں نہیں پڑھنی چاہیے۔ اس کی اصل رپورٹ اس کے رویے، اعتماد، تعلقات، تجسس، خوشی، ذمہ داری، تعاون، خود اعتمادی اور اخلاق میں بھی لکھی ہوتی ہے۔ امتحان یہ بتاتا ہے کہ بچے نے ایک خاص وقت میں کیا یاد رکھا؛ زندگی یہ ظاہر کرے گی کہ اس نے کیا سمجھا، کیا سیکھا اور وہ سیکھا ہوا انسان بننے میں کس طرح استعمال کرتا ہے۔
والدین کا اصل سوال صرف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ’’میرا بچہ کتنا پڑھ رہا ہے؟‘‘ بلکہ یہ بھی ہونا چاہیے کہ ’’وہ پڑھ کر کیا بن رہا ہے؟‘‘ کیونکہ تعلیم کا آخری مقصد صرف قابلِ امتحان طالب علم بنانا نہیں، بلکہ ایسا انسان بنانا ہے جو زندگی کے امتحان میں بھی علم، عقل، کردار، اعتماد اور انسانیت کے ساتھ کھڑا ہو سکے۔
