♥0

*مجمعِ طلابِ شگر کے زیرِ اہتمام جشنِ صادقین کی پُروقار محفلِ میلاد*

  • نیوز کوڈ : 3262
  • 01 September 2026 - 13:17
*مجمعِ طلابِ شگر کے زیرِ اہتمام جشنِ صادقین کی پُروقار محفلِ میلاد*

*مجمعِ طلابِ شگر کے زیرِ اہتمام جشنِ صادقین کی پُروقار محفلِ میلاد*

 *ڈاکٹر غلام مصطفیٰ حلیمی کا خطاب؛ «اتحادِ امت میں رہبرِ شہید انقلاب کا کردار، سیرتِ صادقین کی روشنی میں» کے موضوع پر اہم گفتگو*

 *صراط ٹائمز | رپورٹ*

مجمعِ طلابِ شگر کے زیرِ اہتمام جشنِ صادقین کے پُرمسرت موقع پر ایک پُروقار اور پُرجوش محفلِ میلاد کا انعقاد کیا گیا، جس میں علماء، طلبہ، دینی و علمی شخصیات اور محبانِ اہلِ بیتؑ نے شرکت کی۔

محفل سے معروف علمی و فکری شخصیت جناب ڈاکٹر غلام مصطفیٰ حلیمی صاحب نے خطاب کیا۔ ان کی گفتگو کا مرکزی موضوع «اتحادِ امت میں رہبرِ شہید انقلاب کا کردار، سیرتِ صادقینؑ کی روشنی میں» تھا۔

ڈاکٹر غلام مصطفیٰ حلیمی نے اپنے خطاب میں قرآنِ کریم کی آیتِ مبارکہ:

 *«﴿وَأَطِيعُواْ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَلَا تَنَٰزَعُواْ فَتَفْشَلُواْ وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْۖ وَٱصْبِرُواْۚ إِنَّ ٱللَّهَ مَعَ ٱلصَّـٰبِرِينَ﴾*

(سورۂ انفال، آیت 46)»

پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ باہمی نزاع اور اختلاف امت کی قوت کو کمزور کر دیتا ہے، جبکہ صبر، اتحاد اور اطاعتِ الٰہی مسلمانوں کی اجتماعی طاقت کا ذریعہ ہیں۔

انہوں نے ابتدائی طور پر رسولِ اکرم ﷺ اور پنجتنِ پاکؑ کی خلقتِ بدنی کی تاریخ کے حوالے سے 12 اور 17 ربیع الاول کی روایات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ خلقتِ نوری کا تعلق تمام ممکنات سے پہلے کے مرحلے سے ہے۔

ڈاکٹر حلیمی نے اپنی گفتگو کو تین بنیادی حصوں میں تقسیم کیا:

رسولِ اکرم ﷺ کی سیرت میں اتحادِ امت کے نمونے

انہوں نے کہا کہ امتِ مسلمہ کے اتحاد کے لیے رسولِ اکرم ﷺ کی سیرت ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے اور اس حوالے سے چار اہم اقدامات قابلِ توجہ ہیں۔

1۔ *مہاجرین و انصار کے درمیان عقدِ اخوت*

رسولِ اکرم ﷺ نے مدینہ منورہ ہجرت کے بعد مہاجرین و انصار کے درمیان عقدِ اخوت قائم فرمایا۔ اس اقدام کے ذریعے قومی، قبائلی اور معاشی اختلافات کو ایمانی اخوت میں تبدیل کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اسلامی اتحاد اس وقت حقیقی شکل اختیار کرتا ہے جب مسلمان قومی، قبائلی اور علاقائی تعصبات کے مقابلے میں ایمانی شناخت اور اسلامی اخوت کو ترجیح دیں۔

2۔ *میثاقِ مدینہ اور مشترکہ معاشرے کا قیام*

ڈاکٹر حلیمی نے میثاقِ مدینہ کو رسولِ اکرم ﷺ کی اتحاد پسند حکمتِ عملی کا ایک اہم نمونہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مختلف گروہوں کے درمیان باہمی تعلقات، تعاون، مشترکہ دفاع، حقوق کی رعایت اور اختلافات کے حل کے لیے اصول وضع کیے گئے۔

انہوں نے زور دیا کہ عقیدے میں اختلاف اور سماجی تفاوت، عمومی مصلحتوں کے حصول، باہمی تعاون اور ظلم و تجاوز کے مقابلے میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہونے میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔

3۔ *قومی و نسلی تعصبات کے خلاف جدوجہد*

انہوں نے قرآنِ کریم کی آیت:

 *﴿إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ﴾*

پیش کرتے ہوئے کہا کہ اسلام میں انسانی فضیلت کا معیار قوم، نسل، زبان یا قبیلہ نہیں بلکہ تقویٰ ہے۔

انہوں نے حضرت بلال حبشیؓ، حضرت سلمان فارسیؓ اور حضرت ابوذر غفاریؓ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ رسولِ اکرم ﷺ نے مختلف قوموں اور نسلوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو ایک امت کا حصہ بنایا۔

4۔ *دشمن کے مقابلے میں مشترکہ محاذ*

ڈاکٹر حلیمی نے کہا کہ رسولِ اکرم ﷺ نے مسلمانوں کو داخلی نزاع سے روکا اور دشمن کے مقابلے میں باہمی تعاون اور مشترکہ دفاع کی تعلیم دی۔ تفرقہ امت کی قوت کو ختم کر دیتا ہے، اس لیے مشترکہ خطرات کے مقابلے میں مسلمانوں کا متحد ہونا ضروری ہے۔

 *امام جعفر صادقؑ کی سیرت اور اتحادِ امت*

خطاب کے دوسرے حصے میں ڈاکٹر غلام مصطفیٰ حلیمی نے امام جعفر صادقؑ کی سیرتِ مبارکہ کو اتحادِ امت کے حوالے سے بیان کیا۔

انہوں نے کہا کہ امام جعفر صادقؑ نے اپنے پیروکاروں کو صرف نظریاتی طور پر نہیں بلکہ عملی طور پر بھی اسلامی معاشرے کے ساتھ جڑے رہنے کی تعلیم دی۔

1۔ *مسلمانوں کی مساجد میں نماز کی تاکید*

امام جعفر صادقؑ سے منقول روایت:

 *صَلُّوا فِي عَشَائِرِكُمْ*

کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امامؑ نے مسلمانوں کے اجتماعی اجتماعات میں شرکت اور ان کے ساتھ نماز پڑھنے کی ترغیب دی۔

2۔ *مریضوں کی عیادت اور جنازوں میں شرکت*

انہوں نے امام جعفر صادقؑ کا یہ فرمان بھی بیان کیا:

 *عُودُوا مَرْضَاهُمْ، وَاشْهَدُوا جَنَائِزَهُمْ*

یعنی ان کے مریضوں کی عیادت کرو اور ان کے جنازوں میں شرکت کرو۔

انہوں نے کہا کہ باہمی سماجی تعلقات، ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہونا اور معاشرے کے ساتھ جڑے رہنا اسلامی اتحاد کی مضبوط بنیاد ہے۔

3۔ *مسلمانوں کے حقوق کی ادائیگی*

امام صادقؑ کے فرمان:

 *وَأَدُّوا حُقُوقَهُمْ*

کا حوالہ دیتے ہوئے ڈاکٹر حلیمی نے کہا کہ اسلامی اتحاد صرف نعروں سے قائم نہیں ہوتا بلکہ عدل، امانت داری اور دوسروں کے حقوق کی ادائیگی بھی اس کا لازمی حصہ ہے۔

4۔ *حسنِ اخلاق اور مکتبِ اہلِ بیتؑ کی نمائندگی*

انہوں نے امام جعفر صادقؑ کے معروف فرمان:

 *كُونُوا لَنَا زَيْنًا وَلَا تَكُونُوا عَلَيْنَا شَيْنًا*

کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ شیعہ اپنے کردار، سچائی، امانت داری، حسنِ ہمسائیگی اور اچھے اخلاق کے ذریعے مکتبِ اہلِ بیتؑ کی خوبصورتی کو ظاہر کریں۔

انہوں نے زور دیا کہ اہلِ بیتؑ کے پیروکار کا کردار دوسروں کو اہلِ بیتؑ کے مکتب کے قریب کرنے والا ہونا چاہیے، نہ کہ نفرت اور اختلاف کا سبب بنے۔

 *رہبرِ شہید انقلاب اور اتحادِ امت*

ڈاکٹر غلام مصطفیٰ حلیمی نے خطاب کے تیسرے حصے میں رہبرِ شہید انقلاب اسلامی، سید علی خامنہ ای کے وحدت پسند گفتمان اور امتِ مسلمہ کے اتحاد کے حوالے سے ان کے کردار پر گفتگو کی۔

انہوں نے اتحادِ امت کے سلسلے میں رہبرِ شہید کے گفتمان کے چار اہم پہلو بیان کیے:

1۔ *مذہبی اختلاف کو اسلامی تعاون میں تبدیل کرنا*

انہوں نے کہا کہ اتحادِ امت کا مطلب یہ نہیں کہ مختلف اسلامی مذاہب اپنی مذہبی شناخت ترک کر دیں، بلکہ مسلمان اپنے اپنے عقائد اور فقہی تشخص پر قائم رہتے ہوئے مشترکات کی بنیاد پر ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کر سکتے ہیں۔

2۔ *مشترکہ اسلامی شناخت یعنی امتِ اسلامی پر تاکید*

ڈاکٹر حلیمی نے کہا کہ مسلمانوں کے لیے ایک بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ اپنی عظیم مشترکہ اسلامی شناخت کو فراموش کرکے صرف قومی، علاقائی یا مذہبی شناخت تک محدود ہو جائیں۔

ان کے مطابق مسلمان شیعہ یا سنی ہونے سے پہلے امتِ محمدی ﷺ کا حصہ ہیں اور اسی مشترکہ شناخت کو مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

3۔ *ہفتۂ وحدت؛ اختلاف کو اتحاد کے موقع میں تبدیل کرنا*

انہوں نے ہفتۂ وحدت کو اتحادِ امت کے عملی نمونے کے طور پر پیش کرتے ہوئے کہا کہ رسولِ اکرم ﷺ کی ولادتِ باسعادت کی تاریخ کے حوالے سے موجود اختلاف کو نزاع کا سبب بنانے کے بجائے اسے جشن، باہمی تعارف، اتحاد اور تعاون کا موقع بنایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ایک وحدت پسند قیادت تاریخی اختلاف کے ایک نقطے کو بھی اتحاد کے موقع میں تبدیل کر سکتی ہے۔

4۔ *توہین اور مذہبی اشتعال انگیزی کے خلاف جدوجہد*

ڈاکٹر حلیمی نے کہا کہ مسلمانوں کے مقدسات کی توہین اور مذہبی اختلافات کو ہوا دینا امتِ اسلامی کے مفاد کے خلاف ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ اپنے عقیدے کا دفاع اپنی جگہ، لیکن مذہبی جذبات کو مشتعل کرکے مسلمانوں کے درمیان نفرت، دشمنی اور تفرقہ پیدا کرنا اتحادِ امت کے منافی ہے۔

 *شہادت بھی اتحاد کا ذریعہ بنی*

اپنے خطاب کے اختتام پر ڈاکٹر غلام مصطفیٰ حلیمی نے اس امر کی طرف بھی توجہ دلائی کہ رہبرِ شہید انقلاب کی زندگی اور جدوجہد نے اتحاد و وحدت کے پیغام کو تقویت دی اور ان کی عظیم شہادت بھی امت میں اتفاق و اتحاد کے جذبات کو مزید مضبوط کرنے کا سبب بنی۔

محفلِ جشنِ صادقین میں سیرتِ رسول اکرم ﷺ اور امام جعفر صادقؑ کی روشنی میں اتحادِ امت، حسنِ اخلاق، باہمی احترام اور مسلمانوں کے مشترکہ مفادات کے تحفظ پر زور دیا گیا۔

محفل کے اختتام پر شرکاء نے جشنِ صادقین کی مناسبت سے ایک دوسرے کو مبارک باد پیش کی اور امتِ مسلمہ کے اتحاد، سربلندی اور اسلامی اخوت کے فروغ کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=3262

ٹیگز

تبصرے