بچوں کے نمبرز پر نہیں، شخصیت پر توجہ دیں
علم، اولاد اور مقابلے کا رویہ
امامیہ نوجوان؛ شناخت، کردار اور عصرِ حاضر کے تقاضے
ایرانی عوام شہداء کے خون کا بدلہ لینے کے لیے پرعزم ہیں: آیت اللہ سعیدی
سعودی عرب نے یمن میں 1200 سے زائد مساجد مسمار کر دیں
*مجمعِ طلابِ شگر کے زیرِ اہتمام جشنِ صادقین کی پُروقار محفلِ میلاد*
*مبلغِ دینِ حق مولانا قاضی سید حسین رضا نقوی سرسویؒ — حیات و خدمات*
ایرانی عوام کے اتحاد نے امریکہ اور اسرائیل کو شکست سے دوچار کیا: حزب اللہ کے سربراہ
جس سوچ نے کل جنت البقیع کو منہدم کیا وہ آج معصوم بچوں، عورتوں اور بے گناہ شہریوں کا خون بہا رہی ہے
آیت اللہ العظمیٰ ناصر مکارم شیرازی نے دنیا بھر کے محبانِ اہل بیتؑ سے اپیل کی ہے کہ وہ یوم انہدام قبورِ ائمہ بقیع پر سوگ منائیں اور اس عظیم سانحے کی یاد کو زندہ رکھیں۔
اہل بیت علیہم السلام کی قبور، محض یادگاریں نہیں بلکہ روحانی ارتقاء کے مراکز ہیں۔ ان کی زیارت ایک زندہ عمل ہے جو مؤمن کو اللہ کی طرف بڑھاتا ہے
صراط ٹائمز / علامہ طباطبائی سورہ مبارکہ حج کی آیت 32 کی تفسیر اپنی کتاب تفسیر المیزان میں اس طرح فرماتے ہیں۔
اگر کسی قوم کے عقائد، نظریات اور افکار درست بنیادوں پر استوار ہوں، تو وہ ہر قسم کے چیلنجز کا سامنا کر سکتی ہے
اگر نماز کو محض ایک رسمی عمل سمجھا جائے تو اس کی روح ختم ہو جاتی ہے، لیکن اگر اسے اس کی حقیقی روح کے ساتھ سمجھا جائے تو یہ ایک مکمل نظریہ بن جاتا ہے
فلسفۂ عید الفطرعید الفطر اسلامی تقویم میں ایک اہم دن ہے، جو رمضان المبارک کے اختتام پر شکرگزاری، روحانی پاکیزگی، اور سماجی مساوات کے اظہار کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یہ دن نہ صرف اللہ کی رحمتوں کا جشن ہے بلکہ اس میں اسلامی معاشرت کے بنیادی اصولوں کی عکاسی بھی ہوتی ہے۔
علامہ حافظ سیف اللہ جعفری اعلی اللہ مقامہ پاکستان کے معروف و مشہور مناظر اور عظیم واعظ و مبلغ تھے۔
یوم القدس—ایک ایسا دن جو تاریخ کے تمام اصولوں کو توڑ کر، روایتوں کے تمام سانچوں سے نکل کر، ایک نئی روح، ایک نئی صدا، ایک نئی تحریک کے طور پر نمودار ہوا۔ جہاں ہر انقلاب اور ہر تحریک کسی خاص دن، کسی مخصوص تاریخ سے جڑی ہوتی ہے، وہاں امام خمینیؒ نے یوم القدس کو کسی معین شمسی یا قمری تاریخ میں مقید نہیں کیا۔ بلکہ اسے ایک ایسے دن سے منسوب کیا جو خود بھی اسرار و رموز سے بھرپور ہے—رمضان المبارک کا آخری جمعہ، جو شب قدر کے نور میں لپٹا ہوا، امتِ مسلمہ کی بیداری اور آزادی کی نوید لے کر آتا ہے۔
صراط ٹائمز / علامہ طباطبائی اپنی کتاب تفسیر المیزان میں اس آیت کی تفسیر اس طرح ذکر کرتے ہیں۔ وَمَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ الَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْ هَٰذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ أَهْلُهَا وَاجْعَل لَّنَا مِن لَّدُنكَ وَلِيًّا وَاجْعَل لَّنَا مِن لَّدُنكَ نَصِيرًا ترجمہ : اور تمہیں کیا […]