یوم القدس :یعنی سجدۂ شبِ قدر کے بعد حریت کا قیام
تحریر : مولانا تصور حسین
صراط ٹائمز: یوم القدس—ایک ایسا دن جو تاریخ کے تمام اصولوں کو توڑ کر، روایتوں کے تمام سانچوں سے نکل کر، ایک نئی روح، ایک نئی صدا، ایک نئی تحریک کے طور پر نمودار ہوا۔ جہاں ہر انقلاب اور ہر تحریک کسی خاص دن، کسی مخصوص تاریخ سے جڑی ہوتی ہے، وہاں امام خمینیؒ نے یوم القدس کو کسی معین شمسی یا قمری تاریخ میں مقید نہیں کیا۔ بلکہ اسے ایک ایسے دن سے منسوب کیا جو خود بھی اسرار و رموز سے بھرپور ہے—رمضان المبارک کا آخری جمعہ، جو شب قدر کے نور میں لپٹا ہوا، امتِ مسلمہ کی بیداری اور آزادی کی نوید لے کر آتا ہے۔
یہ انتخاب محض ایک تقویمی فیصلہ نہیں، بلکہ ایک حکمتِ عمیق کا مظہر ہے۔ شب قدر، جس میں مقدرات کے فیصلے صادر ہوتے ہیں، جس میں کاتبِ تقدیر انسان کی قسمت کے اوراق مرتب کرتا ہے، وہ شب جہاں توبہ کے آنسو گواہ بنتے ہیں کہ بندہ ابھرنے کے لیے تیار ہے—اسی شب کے سائے میں یوم القدس کا اعلان کیا گیا، تاکہ امت مسلمہ بھی اپنی اجتماعی غفلتوں سے توبہ کرے، اپنے مقدرات اپنے ہاتھ میں لے، اور آزادی کی تقدیر خود لکھنے کے لیے اٹھ کھڑی ہو۔
یہ وہ دن ہے جہاں امت کو اپنے ماضی کے زخموں کو دیکھنا ہے، اپنی نادانیوں پر اشک بہانا ہے، اور پھر عزم و ہمت کے ساتھ کھڑا ہونا ہے۔ یہ وہ دن ہے جہاں غلامی کے طوق توڑنے کا عہد کیا جاتا ہے، جہاں سامراج کی زنجیریں کاٹنے کی قسم کھائی جاتی ہے، جہاں ایمان کے ہتھیار سے ظالم کے قلعوں کو زمین بوس کرنے کی للکار بلند ہوتی ہے۔
جس طرح شب قدر میں ایک ایک لمحہ قیمتی ہوتا ہے، جس طرح اس رات کی بیداری ہزار مہینوں سے افضل قرار پاتی ہے، اسی طرح یوم القدس کا ہر لمحہ امت کی بیداری کا لمحہ ہے، اس کا ہر نعرہ، ہر قدم، ہر احتجاج، ہزاروں سال کی خاموشی اور بے بسی کو توڑنے کے مترادف ہے۔ یہ وہ دن ہے جب امت مسلمہ اپنی خوابیدہ روح کو جھنجھوڑتی ہے، اپنے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے انہیں دشمن کے خلاف تلوار بناتی ہے، اپنے سجدوں کو فریاد میں ڈھالتی ہے، اور اپنے ہاتھوں کو فقط دعا کے لیے نہیں، بلکہ قیام کے لیے بلند کرتی ہے۔
یوم القدس، فقط ایک دن نہیں، بلکہ ایک صدائے انقلاب ہے، ایک للکار ہے جو تاریخ کے صفحات میں ہمیشہ زندہ رہے گی۔ یہ وہ دن ہے جب امت اپنی کھوئی ہوئی میراث کو یاد کرتی ہے، اپنے چھینے گئے قبلۂ اول کو دیکھتی ہے، اور اس کی واپسی کے لیے اپنا سب کچھ قربان کرنے پر آمادہ ہوتی ہے۔
یہ دن ہمیں بتاتا ہے کہ بیت المقدس کی آزادی فقط ایک جغرافیائی معرکہ نہیں، بلکہ ایک روحانی و فکری معرکہ ہے۔ یہ دن ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ہم بیدار ہوں، اپنی صفوں کو درست کریں، اپنے ایمان کو تازہ کریں، اور اس دن کو فقط ریلیوں تک محدود نہ رکھیں، بلکہ اسے اپنی زندگی کا منشور بنائیں۔
سپیدۂ صبح جب آخری جمعہ کے سورج کو اپنی بانہوں میں لیتا ہے، تو یہ دن ہم سے مطالبہ کرتا ہے کہ ہم اس عہد کو دہرائیں، اس پیغام کو عام کریں، اور اس مقدس زمین کی آزادی کے لیے اپنی جان، اپنا مال، اپنا سب کچھ قربان کرنے کو تیار رہیں۔
یہی یوم القدس کا پیغام ہے—یہی شب قدر کا راز ہے—یہی وہ لمحہ ہے جب امت کے مقدرات کا فیصلہ ہوتا ہے۔ اور یہی وہ دن ہے جب ہم فیصلہ کرتے ہیں کہ ہم غلام رہیں گے یا آزاد ہوں گے!۔
