صراط ٹائمز / علامہ طباطبائی اپنی کتاب تفسیر المیزان میں اس آیت کی تفسیر اس طرح ذکر کرتے ہیں۔
وَمَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ الَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْ هَٰذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ أَهْلُهَا وَاجْعَل لَّنَا مِن لَّدُنكَ وَلِيًّا وَاجْعَل لَّنَا مِن لَّدُنكَ نَصِيرًا
ترجمہ : اور تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں اور ان کمزور مردوں، عورتوں اور بچوں (کی مدد کے لیے) نہیں لڑتے، جو دعا کر رہے ہیں: اے ہمارے رب! ہمیں اس بستی سے نکال، جس کے رہنے والے ظالم ہیں، اور ہمارے لیے اپنی طرف سے کوئی حمایتی مقرر کر دے، اور ہمارے لیے اپنی جانب سے کوئی مددگار بنا دے۔
تفسیر المیزان کے مطابق تشریح:۔
یہ آیت مسلمانوں کو ظلم کے خلاف جہاد اور مظلوموں کی حمایت کا حکم دیتی ہے۔ علامہ طباطبائیؒ نے اس کی درج ذیل تشریح کی ہے:۔
جہاد کی اصل غرض:۔
یہ صرف فتح حاصل کرنے کے لیے نہیں بلکہ کمزور اور بےبس لوگوں کو ظلم سے نجات دلانے کے لیے فرض کیا گیا ہے۔ مسلمان صرف اپنی بھلائی کے لیے نہیں بلکہ دوسروں کے حقوق کی حفاظت کے لیے بھی لڑنے کے پابند ہیں۔
مظلوموں کی فریاد:۔
یہ وہ افراد ہیں جو ظلم کے بوجھ تلے دبے ہیں اور اللہ سے مدد کی دعا کر رہے ہیں۔ ان کی بے بسی ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ اگر ہم طاقت رکھتے ہیں، تو ان کی مدد کے لیے کھڑا ہونا ہمارا دینی فریضہ ہے۔
ظلم کے خلاف قیام:۔
ظلم کے خلاف خاموشی برتنا ناپسندیدہ ہے۔ یہ آیت مومنین کو حکم دیتی ہے کہ وہ ظالموں کے خلاف اقدام کریں اور انصاف کی بالادستی کے لیے کوشش کریں، چاہے وہ سماجی ہو، سیاسی ہو یا کسی اور شکل میں ہو۔
اللہ کی مدد اور نصرت:۔
مظلومین اللہ سے دعا کر رہے ہیں کہ وہ ان کے لیےایک ولی (رہنما) پیدا کرےایک نصیر (مددگار) فراہم کرےاس سے معلوم ہوتا ہے کہ جب کوئی خود سے ظلم کے خلاف کچھ نہ کر سکے، تو اسے اللہ سے مدد مانگنی چاہیے۔
یہ آیت ہمیں ایک واضح پیغام دیتی ہے کہ ظلم کے خلاف خاموشی اختیار کرنا ایمان کے منافی ہے۔ جو بھی ظالم کے خلاف کھڑا ہوتا ہے اور مظلوم کی حمایت کرتا ہے، وہ اللہ کے راستے پر ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم عملی اقدام کریں، مظلوموں کے لیے آواز اٹھائیں، اور جہاں ممکن ہو، ظلم کے خاتمے کے لیے اپنی توانائیاں صرف کریں۔
اللہ ہمیں حق پر قائم رہنے اور مظلوموں کی مدد کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!
