*جون ایلیاء اور استعماری مفادات*
*فکریات اسد اللہ خاں غالب اور اسلامی منظومہ فکری*
*خدائی منصوبہ اور طاغوتی چالیں*
*عبادت کے بغیر انقلاب: ایک خود فریبی*
امن یا فریب؟ حق و باطل کی پوشیدہ جنگ
*صلح و مذاکرات یا جنگ و قتال*
حدود کی غلط فہمیاں اور تعلقات کا توازن
*پیشہ ورانہ زندگی میں وقار، حدود اور اختیار*
انتظار صرف آنکھ اٹھا کر راہ تکنے کا نام نہیں…بلکہ قدم اٹھا کر کربلا کی طرف بڑھنے کا نام ہے
اربعین روکی نہیں جا سکتی… کیونکہ عشق کو سرحدوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ راستہ وہی ہے… جو ظہور تک جائے گا۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ہم مزاحمت کو شعار بنائیں، مظلومین کے ساتھ کھڑے ہوں، اور ہر اس حکمران کو پہچانیں جو ظالم کے ساتھ کھڑا ہے — چاہے وہ کتنا ہی “اسلامی چہرہ” کیوں نہ بنائے
کیا ظلم کرنے والا کبھی مظلوم کی آواز بن سکتا ہے؟ ہرگز نہیں!مظلوم کا درد صرف وہی محسوس کر سکتا ہے جو دل میں حسینؑ کا نور رکھتا ہو، اور ضمیر کو یزیدیت سے پاک کر چکا ہو۔
السلام، وہ مظلومہ ہاشمی خاتون ہیں جن کا ذکر مجالس عزائے سید الشہداءؑ میں بہت کم ہوتا ہے۔وہ حضرت قاسمؑ اور حضرت عبد اللہ بن حسنؑ کی بہن تھیں
آیت اللہ خامنہای نے عدلیہ کو تاکید کی کہ وہ اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی، قوت اور مکمل ہوشیاری کے ساتھ آگے بڑھائے، اور تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھے
امام حسین علیہ السلام کی مجالس عزاء، مقاومت کے جذبے، توحیدی ثقافت، شہادت کی ثقافت اور سیرت علوی و حسینی کے فروغ کے بہترین مواقع ہیں
یہ فتح ایران کے نظریاتی ماڈل ‘گفتمان مقاومت’ کی عالمی سطح پر ایک نمایاں تقویت ہے، جس نے اسلامی دنیا کے جوانوں اور حریت پسند اقوام کو ایک فکری مشعل دکھائی ہے
ایران کی مسلح افواج اور عوام نے جس ہمت، شجاعت اور استقامت کے ساتھ دفاع کیا ہے، وہ تاریخِ انقلاب اسلامی میں ایک نمایاں موڑ (نقطۂ عطف) کی حیثیت رکھتا ہے
یہ عظیم کامیابی نہ صرف ایران کی عسکری قوت اور حکیمانہ حکمت عملی کا مظہر ہے، بلکہ پوری امتِ مسلمہ کے لیے فخر، استقامت اور امید کا نشان بھی ہے