مولانا سید عمار حیدر زیدی قم
صراط ٹائمز / جب مفاد پرستوں کو آگ قریب محسوس ہو…۔
♨️ اردوغان نے کہا:۔
“اسرائیل ایک وحشی ریاست ہے، اگر اسے فوری طور پر نہ روکا گیا تو یہ پورے خطے اور دنیا کو آگ میں جھونک دے گا۔
یہ بیان شاید کسی انقلابی، مزاحمتی یا اصول پسند قائد کا ہوتا تو قابلِ تحسین بھی ہوتا۔ مگر جب یہ جملے ان کے منہ سے نکلیں جن کے ماضی میں اسرائیل سے خفیہ تعلقات، نیٹو کے جنگی عزائم کی تائید، اور فلسطینی مزاحمت پر دوہرا معیار موجود ہو — تو پھر اس بیان کے پیچھے صرف ایک چیز دکھائی دیتی ہے: “خوف!”
ہاں!
آج طیب اردوغان کو خوف لاحق ہے۔
کیونکہ وہ سمجھ چکا ہے کہ جو آگ اسرائیل نے بھڑکائی، وہ صرف غزہ، لبنان یا عراق تک محدود نہیں رہے گی۔ وہ آگ اب ترکی کی سرحدوں تک آن پہنچی ہے۔ وہ دہشتگرد گروہ جنہیں “اسٹریٹجک اتحادی” بنا کر شام و عراق میں استعمال کیا گیا، آج خود ترکی کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔
یہ وہی ترکی ہے جو ایک جانب مظلوم فلسطینیوں کے لیے چند بیانات دیتا رہا، اور دوسری طرف اسرائیلی مصنوعات اور سفارتی تعلقات کو بڑھاتا رہا۔ یہ وہی ترکی ہے جس نے ناتو کے قیادت میں شام کی ریاست کو توڑنے کی کوشش کی، اور امت مسلمہ کی وحدت کو صرف اپنی خلافتی خواہشات کی بھینٹ چڑھایا۔
آج جب امریکہ کا بنایا ہوا اسرائیلی بت ٹوٹنے لگا، تو تمام مفاد پرست حکمرانوں کے چہرے بدل گئے۔
سعودی عرب، امارات، بحرین، ترکی — سب کے لبوں پر امن کی دہائی ہے، لیکن یہ امن مظلوموں کے لیے نہیں، بلکہ اپنی بادشاہتوں کے تحفظ کے لیے ہے۔
کیا ان حکمرانوں نے صدام حسین کا انجام نہیں دیکھا؟
کیا اسامہ بن لادن کو امریکہ کی گود میں پروان چڑھ کر مرنے والا سبق نہیں بنا؟
کیا قذافی کی دردناک موت، جو کبھی امریکہ سے گٹھ جوڑ رکھتا تھا، ان کے لیے نشانی نہیں؟
یہ سب وہ حکمران تھے جنہوں نے قرآن اور اہل بیتؑ کی تعلیمات کو چھوڑا، اور استعماری نظام کی غلامی کو فخر سمجھا۔
تو پھر ان کا انجام بھی عبرت بنا۔
آج کے طیب اردوغان، کل کے صدام اور قذافی سے کچھ مختلف نہیں۔
بس فرق اتنا ہے کہ ابھی آگ صرف دروازے تک پہنچی ہے، اندر آنے کی دیر ہے…
📢 امتِ مسلمہ کے لیے پیغام:۔
امت کو اب یہ سمجھ لینا چاہیے کہ کوئی بھی طاقت، جب تک وہ اہل بیتؑ کے نور اور قرآن کی روشنی سے جڑی نہ ہو، وقتی مفاد پرستی کی بنیاد پر کھڑی عمارت کی طرح ہے — جو گرنے کے لیے ہی بنی ہے۔
مفادات، سازباز اور دھوکے کی سیاست نے ہمیں کمزور کیا ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ہم مزاحمت کو شعار بنائیں، مظلومین کے ساتھ کھڑے ہوں، اور ہر اس حکمران کو پہچانیں جو ظالم کے ساتھ کھڑا ہے — چاہے وہ کتنا ہی “اسلامی چہرہ” کیوں نہ بنائے۔
