صراط ٹائمز
جناب ابو حمزہ ثمالی رحمۃ اللہ علیہ، امام محمد باقر علیہ السلام سے ایک عظیم وصیت نقل کرتے ہیں۔ امامؑ فرماتے ہیں:”میرے والد گرامی امام سجاد علیہ السلام نے اپنی وفات کے وقت مجھے سینے سے لگایا اور فرمایا:میں تمہیں وہی وصیت کر رہا ہوں جو میرے والد حسین ابنِ علیؑ نے اپنی شہادت کے وقت مجھ سے کی تھی:۔
“یَا بُنَیَّ، إِیَّاکَ وَ ظُلْمَ مَنْ لَا یَجِدُ عَلَیْکَ نَاصِراً إِلَّا اللهَ“
ترجمہ: اے میرے بیٹے! اس شخص پر کبھی ظلم نہ کرنا جس کا خدا کے سوا کوئی مددگار نہ ہو۔
یہ ایک ایسا جملہ ہے جو انسانیت، عدل، اور الٰہی خوف کا گہرا درس اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ مولا حسینؑ نے کربلا کے میدان میں صرف ایک قیام نہیں کیا بلکہ ایک دائمی منشورِ نجات چھوڑا — کہ ظالم کا ساتھ مت دو، اور مظلوم کے ساتھ کھڑے ہو جاؤ، چاہے تمہیں تنہا ہی کیوں نہ ہونا پڑے۔
مولا حسینؑ کی کنیت “ابوعبداللّٰه” — یعنی “بندگانِ خدا کے سرپرست” — خود اس بات کی گواہی ہے کہ وہ صرف ایک خانوادے یا قوم کے نہیں بلکہ تمام مظلوموں کے امام ہیں۔
آج اگر ہم خود کو ان کے پیروکار اور عقیدت مند کہتے ہیں، تو یہ وصیت ہمارا آئینہ ہے —
ہم کہاں کھڑے ہیں؟
بدقسمتی سے آج کی مسلم دنیا میں ایسے عناصر کو امن کا پیامبر کہا جا رہا ہے، جن کے ہاتھ خونِ مظلوم سے رنگے ہوئے ہیں۔ شمر و یزید کی روحانی اولاد کو ایوارڈ دیے جا رہے ہیں اور مظلوموں کی صدائیں عالمی ایوانوں میں دبائی جا رہی ہیں۔ حیف صد حیف!
کیا ظلم کرنے والا کبھی مظلوم کی آواز بن سکتا ہے؟ ہرگز نہیں!مظلوم کا درد صرف وہی محسوس کر سکتا ہے جو دل میں حسینؑ کا نور رکھتا ہو، اور ضمیر کو یزیدیت سے پاک کر چکا ہو۔
آئیے!ہم سب اس وصیت کو اپنی زندگی کا منشور بنائیں۔ ظلم کے خلاف، مظلوم کے ساتھ کھڑے ہونے کا عہد کریں۔ اپنی زبان، قلم، موقف اور عمل سے ظالموں کو بے نقاب کریں، اور مظلوموں کی ڈھال بنیں۔
یہی ہے حسینیت کا راستہ… یہی ہے نجات کا راستہ!۔
ان شاء اللّٰه
