*جون ایلیاء اور استعماری مفادات*
*فکریات اسد اللہ خاں غالب اور اسلامی منظومہ فکری*
*خدائی منصوبہ اور طاغوتی چالیں*
*عبادت کے بغیر انقلاب: ایک خود فریبی*
امن یا فریب؟ حق و باطل کی پوشیدہ جنگ
*صلح و مذاکرات یا جنگ و قتال*
حدود کی غلط فہمیاں اور تعلقات کا توازن
*پیشہ ورانہ زندگی میں وقار، حدود اور اختیار*
مرجعیتِ نجف، محض علمی و فقہی مرکز نہیں بلکہ امت مسلمہ کی اجتماعی رہنمائی اور تحفظ کا مؤثر ذریعہ بھی ہے
تین صفات انسان کو ہلاکت کی طرف لے جاتی ہیں اور اسے خود فریبی میں مبتلا کر دیتی ہیں۔نجات اسی کے لیے ہے جو عمل کرے، یاد رکھے، اور عاجزی اپنائے۔
حجت الاسلام والمسلمین محسن قرائتی نے امام زمانہ (عجلاللهتعالیفرجهالشریف) کے انتظار کے مفہوم پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ “انتظار” کا مطلب ہرگز خاموشی یا بے عملی نہیں ہے
روایت میں آیا ہے کہ آخرالزمان میں جب فتنے پھیل جائیں گے تو قم کی طرف ہجرت اور پناہ کی سفارش کی گئی ہے تاکہ لوگ فتنوں سے محفوظ رہ سکیں
دل کبھی بہار جیسا ہوتا ہے اور کبھی خزاں جیسا، تو جب دل خزاں کی حالت میں ہو، اُسے اذیت نہ دو، اُسے رنجیدہ نہ کرو، اور واجبات پر اکتفا کرو
علم انسان کی حقیقی قیمت اور روحانی مقام کا معیار ہے۔جاہل اور عالم کبھی برابر نہیں ہو سکتے۔یہ قرآن کا اصول ہے کہ فضیلت کا دارومدار تقویٰ اور علم پر ہے، نہ کہ مال، نسل یا ظاہری حیثیت پر۔
انسان کی اصل قدر و قیمت اس کے علم، کردار اور مہارت میں ہے نہ کہ اس کے مال، حسب یا نسب میں۔
چار مصیبتیں ایسی ہیں جن سے یا ان میں سے کسی ایک سے کوئی مؤمن بچ نہیں سکتا:۔
انقلاب سے قبل، میں نے ایک کتاب لکھی تھی جو اُس وقت کے بعض شبہات کے جواب میں تھی۔ شیخ محمد صالح مازندرانی نے اسے پڑھا اور پسند فرمایا۔ پیغام بھیجا کہ میرے شہر تشریف لائیں تاکہ آپ کے اعزاز کے بہانے ہم اسلامی مسائلِ روز پر تبلیغ کریں۔
حضرت عبدالعظیم حسنی علیہ السلام، جنہیں ایران میں “شاہ عبدالعظیم” اور “سیدالکریم (ع)” کے نام سے جانا جاتا ہے، اہلِ بیت (ع) کے خالص پیروکار، حدیث کے ثقہ راوی اور شیعہ معارف کے عظیم محافظ تھے۔