28

لوگ عقل سے نہیں بلکہ آنکھوں سے فیصلہ کرتے ہیں / علامہ تقی جعفری

  • نیوز کوڈ : 1493
  • 14 April 2025 - 13:35
لوگ عقل سے نہیں بلکہ آنکھوں سے فیصلہ کرتے ہیں / علامہ تقی جعفری

انقلاب سے قبل، میں نے ایک کتاب لکھی تھی جو اُس وقت کے بعض شبہات کے جواب میں تھی۔ شیخ محمد صالح مازندرانی نے اسے پڑھا اور پسند فرمایا۔ پیغام بھیجا کہ میرے شہر تشریف لائیں تاکہ آپ کے اعزاز کے بہانے ہم اسلامی مسائلِ روز پر تبلیغ کریں۔

🔴 علامہ تقی جعفری فرمایا کرتے تھے:۔

انقلاب سے قبل، میں نے ایک کتاب لکھی تھی جو اُس وقت کے بعض شبہات کے جواب میں تھی۔ شیخ محمد صالح مازندرانی نے اسے پڑھا اور پسند فرمایا۔ پیغام بھیجا کہ میرے شہر تشریف لائیں تاکہ آپ کے اعزاز کے بہانے ہم اسلامی مسائلِ روز پر تبلیغ کریں۔

میں نے ٹرین کا ٹکٹ خریدا اور سوار ہو گیا۔ دل میں ایک خیال آیا کہ کاش کوئی علم و کتاب کا ساتھی ہمسفر بن جائے تاکہ مباحثے سے سفر آسان ہو۔ دیکھا کہ ایک لمبا سا عمامہ باندھے ہوئے، خوبرو، خوش لباس اور مرتب عمامے والا سید میری طرف آ رہا ہے۔

میں نے دل میں کہا، اللہ کا شکر ہے، ایک عالم نصیب ہوا!۔
لیکن یہ خوشی زیادہ دیر نہ چلی۔ جب اس نے بات کی، تو اندازہ ہوا کہ چند گز عمامے کے سوا، علم کا کچھ حصہ بھی جناب نے نہیں پایا۔

جب ہم منزل کے اسٹیشن پر پہنچے، تو دیکھا کہ بڑی تعداد میں دیندار لوگ، خوش آمدیدی کے پلے کارڈز کے ساتھ پلیٹ فارم پر منتظر تھے۔
لوگوں نے ٹرین پر دھاوا بول دیا۔
دو مولویوں کو دیکھا — میں اور وہ خوش لباس سید!۔
بغیر کسی ہچکچاہٹ کے، لوگوں نے سید کو کندھوں پر اٹھایا اور درود و سلام کے نعرے لگاتے ہوئے گاڑیوں کی طرف دوڑ پڑے۔

میں نے ہر کسی سے منت سماجت کی کہ مجھے بھی شہر تک لے جائیں، مگر کسی نے قبول نہ کیا۔
کہنے لگے، “حضور، ہمیں ایک عالم دین کے استقبال کے لیے بھیجا گیا ہے، گاڑی میں جگہ نہیں، مسافر نہیں بٹھاتے۔”۔

خوبصورت گاڑی جس میں سید بیٹھا تھا، اور درجنوں دیگر گاڑیاں درود بھیجتے ہوئے جلوس کی شکل میں روانہ ہو گئی۔

بڑی مشقت سے کوئی سواری ملی، اور میں میزبان کے گھر پہنچا۔ کچھ ہی لمحے گزرے تھے کہ سید میزبان سے ملاقات کر چکا تھا اور دونوں کو اصل ماجرا سمجھ آ چکا تھا۔

میں نے اپنا تعارف کروایا۔
میزبان نے مجھے اپنے پاس جگہ دی اور عزت دی۔ پھر کان کے قریب آ کر ہنستے ہوئے کہا:۔

“آہ شیخ! لوگ اگر تمہیں غلط سمجھے تو ان کا کیا قصور؟ بھلا یہ کیا شکل و صورت اور لہجہ ہے جو تمہارے پاس ہے؟ مولوی تو دور، تم انسان بھی نہیں لگتے!”۔

علامہ جعفری یہ قصہ سناتے تھے اور خود بھی ہمارے ساتھ ہنستے تھے۔
جن ذلتوں کا سامنا کیا، ان کی یاد میں رتی برابر رنج نہ تھا؛ بلکہ وہ لطف لیتے تھے۔

اس چھوٹے سے کمرے میں، جو کتابوں سے بھرا ہوا تھا، اس سادہ اور پرانی چادر میں، ایک عظیم روح نے بسیرا کر رکھا تھا۔
اللہ ان کی قبر پر نور نازل فرمائے۔

استاد نے اُس دن ہمیں یہ سبق دیا کہ:۔
“لوگ عقل سے نہیں، آنکھوں سے فیصلہ کرتے ہیں۔”

📚 کتاب: جاودان اندیشہ، صفحہ ۲۳۹

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=1493

ٹیگز

تبصرے