تحریر : خانم ام فروہ
یومِ شہادت حضرت عبدالعظیم حسنی علیہ السلام ساداتِ حسنی کے عظیم عالم و راویِ حدیث
آج اُس با فضیلت ہستی کی شہادت ہے، جن کا تعلق ساداتِ حسنی سے تھا، اور جن کی روحانی عظمت اور اخلاقی بلندی اہلِ بیت علیہم السلام کے چاہنے والوں کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہے گی۔
حضرت عبدالعظیم حسنی علیہ السلام، جنہیں ایران میں “شاہ عبدالعظیم” اور “سیدالکریم (ع)” کے نام سے جانا جاتا ہے، اہلِ بیت (ع) کے خالص پیروکار، حدیث کے ثقہ راوی اور شیعہ معارف کے عظیم محافظ تھے۔
ان کا نسب صرف چار واسطوں سے امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام تک پہنچتا ہے، اور یہی نسب ان کی منزلت کو مزید بلند کرتا ہے۔حضرت عبدالعظیم (ع) نے امام رضا (ع)، امام محمد تقی (ع) اور امام علی نقی (ع) کے ادوار کا مشاہدہ کیا، اور امام ہادی (ع) کے سامنے اپنے عقائد کا اظہار کیا۔ امام ہادی (ع) نے انہیں نہ صرف اپنے نزدیک بٹھایا بلکہ ان کے ایمان کی تصدیق بھی فرمائی۔ یہی واقعہ حدیثِ عرضِ دین کے نام سے مشہور ہے، جس میں امام (ع) نے فرمایا:”اے ابوالقاسم! تم واقعی ہمارے ولی ہو… تم نے وہ دین اختیار کیا ہے جو اللہ کو پسند ہے… خدا تمہیں دنیا و آخرت میں قولِ ثابت عطا کرے”۔
امامانِ معصومین (ع) کی طرف سے ان کی تائید اور محبت، ان کی روحانی عظمت کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ روایت ہے کہ جب وہ امام کی مجلس میں داخل ہوتے تو انتہائی ادب، انکساری اور حیا کے ساتھ آتے، اور امام ان کا پرتپاک استقبال فرماتے۔
حضرت عبدالعظیم حسنی (ع) کا مزار شریف ایران کے شہر “ری” میں واقع ہے، جو آج اہل بیت (ع) کے محبّین کے لیے ایک اہم زیارت گاہ ہے۔ بعض روایات میں ان کی زیارت کا ثواب زیارتِ امام حسین علیہ السلام کے برابر قرار دیا گیا ہے۔شیخ صدوق نے ان کی روایات کو “جامع اخبار عبدالعظیم” کے عنوان سے جمع کیا، جو آج بھی علمِ حدیث و فقہ میں ایک معتبر ذخیرہ شمار ہوتا ہے۔ ان کی فقاہت، زہد، حلم، اور دینی خدمات رہتی دنیا تک باقی رہیں گی۔
حضرت عبدالعظیم (ع) کی شہادت کے موقع پر ہم تمام مؤمنین کی خدمت میں تعزیت پیش کرتے ہیں۔ ان کے مقام کو خراجِ عقیدت پیش کرنا ہماری دینی ذمہ داری بھی ہے اور روحانی سعادت بھی۔
خداوندِ متعال ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے، اور ان کے فیوض و برکات سے مستفید ہونے والا بنا دے۔
