قُلۡ ہَلۡ یَسۡتَوِی الَّذِیۡنَ یَعۡلَمُوۡنَ وَ الَّذِیۡنَ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ؕ اِنَّمَا یَتَذَکَّرُ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ
ترجمہ : کہدیجئے: کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے یکساں ہو سکتے ہیں؟ بے شک نصیحت تو صرف عقل والے ہی قبول کرتے ہیں۔
تفسیر المیزان (علامہ طباطبائی):۔
علامہ طباطبائیؒ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:۔
یہ آیت عقل، شعور، اور علم کی قدر و قیمت کو بیان کرتی ہے۔
علم وہ روشنی ہے جو انسان کو حق و باطل میں تمیز دینا سکھاتی ہے۔
اہلِ علم اپنی بصیرت، تقویٰ، اور معرفتِ الٰہی کے باعث دوسروں سے ممتاز ہوتے ہیں۔قرآن علم کو انسان کی روحانی بلندی کا ذریعہ قرار دیتا ہے۔
جو لوگ علم رکھتے ہیں، وہ اللہ کی قربت کے زیادہ حقدار ہوتے ہیں۔
خلاصہ:۔
علم انسان کی حقیقی قیمت اور روحانی مقام کا معیار ہے۔جاہل اور عالم کبھی برابر نہیں ہو سکتے۔یہ قرآن کا اصول ہے کہ فضیلت کا دارومدار تقویٰ اور علم پر ہے، نہ کہ مال، نسل یا ظاہری حیثیت پر۔
