نجف اشرف کی روحانی فضا سے سیراب ہوکر واپس آنے کے بعد، مفسر قرآن و نہجالبلاغہ حضرت آیتالله جوادی آملی نے اپنے پہلے درس میں زیارتِ بارگاہِ اہلبیت علیہمالسلام اور آیتالله العظمی سیستانی سے ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے نجف کی مرجعیت کے کردار پر روشنی ڈالی۔
صراط ٹائمز کو موصولہ رپورٹ کے مطابق، آیتالله جوادی آملی نے فرمایا: “فضلِ خداوندی سے، عتبات عالیات کی زیارت کا شرف حاصل ہوا۔ اس سفر میں ہم نے اپنے تمام مرحومین، احباب اور مؤمنین کو یاد رکھا اور ان کی طرف سے بھی اہلبیت علیہمالسلام کی بارگاہ میں سلام پیش کیا۔ امید ہے کہ یہ عرضِ ارادت، ان مقدس ہستیوں کے کرم سے خالی نہ رہے گی۔
انہوں نے آیتالله العظمی سیستانی کے ساتھ اپنی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: “حضرت آیتالله سیستانی کی وجودی برکات نجف اشرف کی علمی و دینی فضا میں نمایاں ہیں۔ وہ نہ صرف دینی رہنمائی کا محور ہیں، بلکہ عراق کے استقلال و خودمختاری کے تحفظ میں بھی ان کا کردار بے مثال ہے۔
آیتالله جوادی آملی نے اس موقع پر اپنی تصنیف تفسیر تسنیم بھی آیت الله سیستانی کی خدمت میں پیش کی، جس پر آیت الله سیستانی نے قرآن فہمی کی اہمیت پر زور دیا اور علمی حلقوں میں تفسیر قرآن کی ضرورت کو اجاگر کیا۔
یہ گفتگو اس بات کا غماز ہے کہ مرجعیتِ نجف، محض علمی و فقہی مرکز نہیں بلکہ امت مسلمہ کی اجتماعی رہنمائی اور تحفظ کا مؤثر ذریعہ بھی ہے۔
