*جون ایلیاء اور استعماری مفادات*
*فکریات اسد اللہ خاں غالب اور اسلامی منظومہ فکری*
*خدائی منصوبہ اور طاغوتی چالیں*
*عبادت کے بغیر انقلاب: ایک خود فریبی*
امن یا فریب؟ حق و باطل کی پوشیدہ جنگ
*صلح و مذاکرات یا جنگ و قتال*
حدود کی غلط فہمیاں اور تعلقات کا توازن
*پیشہ ورانہ زندگی میں وقار، حدود اور اختیار*
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کی اپیل پر شیعہ علماء کونسل پاکستان، جعفریہ اسٹودنٹس آرگنائزیشن پاکستان سمیت دیگر مذہبی تنظیموں اور شہریوں نے چاروں صوبوں پنجاب، سندھ، بلوچستان، خیبر پختونخواہ، کشمیر، گلگت و بلتستان سمیت ملک بھر کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں جمعہ کے روز بعد از نماز جمعہ برادر ملک جمہوری اسلامی ایران پر صہیونی حملوں کے خلاف احتجاج کیا گیا
حضرت علیؑ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اسی دن دین کو مکمل کیا، نبیؐ کی آنکھیں ٹھنڈی کیں، اور مؤمنین کو خوشی دی۔ یہ وہی دن (غدیر) ہے جس کے کچھ گواہ تم میں موجود ہیں اور کچھ کو اس کی خبر دی گئی۔ یہ عہد و پیمان، دین کی تکمیل اور واضح قیادت کے اعلان کا دن ہے
نجف اشرف کے بزرگ مرجع تقلید آیت اللہ العظمٰی شیخ بشیر حسین نجفی دام ظلہ نے ایران پر صیہونی حکومت کے اس حملے کو بین الاقوامی قوانین، انسانی اصولوں اور اسلامی حرمت کے خلاف سنگین جرم قرار دیا ہے
جب ایران نے صیہونی ریاست پر اپنے دفاع میں میزائلوں کی بارش کی، تو دنیا نے صرف ایک عسکری کارروائی نہیں دیکھی—بلکہ ایک صدیوں پرانی للکار کو مجسم ہوتے دیکھا۔ یہ صرف ایک “ملک” کا ردعمل نہیں تھا، یہ “علی والوں” کا “خیبر والوں” پر ایک نظریاتی حملہ تھا۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے غاصب صیہونی حملے کے بعد شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اعلیٰ فوجی کمانڈروں اور جوہری سائنسدانوں کی شہادت کا صیہونی حکومت سے سخت انتقام لیا جائے گا۔
اگر غدیر کے پیغام کو بھلایا نہ جاتا تو کربلا کا دلخراش واقعہ نہ ہوتا، اور امت گمراہی و اختلاف کی بھینٹ نہ چڑھتی
اگر انسانیت کا ذرہ برابر بھی احساس کسی کے دل میں موجود ہو، تو وہ خاموش نہیں بیٹھ سکتا۔ آج ہر مسلمان، ہر آزاد انسان، ہر باضمیر فرد کے سامنے ایک سوال ہے:تمہاری راہ کیا ہے؟
ایرانی قوم تعلیماتِ اہلبیت علیہم السّلام کی پیروی کرنے والی ہے، لہٰذا اسے شکست دینا دشمن کی بھول ہوگی
اَلْحَمْدُ للهِ الّذى جَعَلَ كَمالَ دينِهِ وَتَمامَ نِعْمَتِهِ بِوِلايَةِ أميرِ الْمُؤمِنينَ عَليِّ بْنِ أبى طالِب عَلَيْهِ السَّلامُ
مکہ و مدینہ کی سر زمین، جسے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے شرک، فحاشی، شراب و جوا سے پاک کیا تھا، آج وہاں دوبارہ انہی خرافات کو رائج کیا جا رہا ہے