23

حق و باطل کی پہچان، انسانیت کا امتحان

  • نیوز کوڈ : 1956
  • 14 June 2025 - 15:26
حق و باطل کی پہچان، انسانیت کا امتحان

اگر انسانیت کا ذرہ برابر بھی احساس کسی کے دل میں موجود ہو، تو وہ خاموش نہیں بیٹھ سکتا۔ آج ہر مسلمان، ہر آزاد انسان، ہر باضمیر فرد کے سامنے ایک سوال ہے:تمہاری راہ کیا ہے؟

مولانا سید عمار حیدر زیدی قم۔

آج دنیا ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑی ہے۔ آج پھر سے کربلا برپا ہے۔ اور تاریخ ایک بار پھر دہرا رہی ہے کہ کون حسینی ہے اور کون یزیدی۔

ایران نے جو قدم اٹھایا، وہ اپنے دفاع اپنے شہداء کے خون کے قصاص کے ساتھ ساتھ ان مظلوموں کی صدائے حق کی حمایت تھی۔ جنہیں اسرائیل نے غزہ کی گلیوں میں، اسپتالوں، یونیورسٹیوں اور گھروں میں بہایا۔ جو ایک واضح پیغام ہے کہ: “ظلم اگر ایک قدم آگے بڑھے گا، تو ہم خاموش نہیں رہیں گے!۔

۔”لیکن افسوس! وہ حکومتیں جو اپنے نام کے ساتھ “اسلامی” کا لیبل لگاتی ہیں، وہ جو قبلہ اول کی آزادی کے نعرے لگاتی تھیں، وہ آج اسرائیل کے تحفظ میں کھل کر میدان میں آ گئی ہیں۔ اُن کی زبانیں اسرائیل کے حق میں ہل رہی ہیں، اُن کے طیارے اسرائیل کو سپورٹ کر رہے ہیں، اور اُن کا ضمیر…؟ وہ تو شاید برسوں پہلے مر چکا ہے!۔

قرآن میں خداوند ارشاد فرماتا ہے:۔

إِنَّ شَرَّ الدَّوَابِّ عِندَ اللَّهِ الصُّمُّ الْبُكْمُ الَّذِينَ لَا يَعْقِلُونَ“(بدترین مخلوق وہ ہے جو نہ سنتی ہے نہ سمجھتی ہے۔)

اور دوسری طرف قرآن کہتا ہے:۔

“إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ”

اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ معزز وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔

تو آج فیصلہ ہم پر ہے۔ ہم انسان ہیں یا صرف نام کے مسلمان؟ ہم اُن لوگوں میں سے ہیں جو حق کو پہچان کر اس کا ساتھ دیتے ہیں، یا اُن منافقوں میں سے جو مفادات کی چمک میں باطل کا پرچم اٹھا لیتے ہیں؟

امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں:۔

“الناس صنفان: إمّا أخ لك في الدين أو نظير لك في الخلق

لوگ دو قسم کے ہیں: یا تو تمہارے دینی بھائی، یا تخلیق میں تمہارے جیسے انسان۔

اگر انسانیت کا ذرہ برابر بھی احساس کسی کے دل میں موجود ہو، تو وہ خاموش نہیں بیٹھ سکتا۔ آج ہر مسلمان، ہر آزاد انسان، ہر باضمیر فرد کے سامنے ایک سوال ہے:تمہاری راہ کیا ہے؟

حق یا باطل؟وقت آ چکا ہے کہ ہم مصلحتوں کا خول توڑیں۔ خاموشی جرم ہے۔ منافقت لعنت ہے۔ اور حق کا ساتھ دینا عزت، غیرت اور ایمان کی علامت ہے۔وہ لوگ جو اسرائیل کے دفاع میں کھڑے ہیں، چاہے وہ عرب ہوں یا عجم، وہ تاریخ میں رسوا ہوں گے۔ وہ انسان نہیں، مفاد پرست درندے ہیں۔

ایسے لوگو لیے ایک ہی جملہ کافی ہے:۔

“ڈوب مرو، کہ تم نے نہ اسلام کا حق ادا کیا، نہ انسانیت کا!”۔

ہمیں اب فیصلہ کرنا ہوگا!یا حسینؑ کے کارواں میں شامل ہو جاؤ، یا یزید کے لشکر میں گم ہو جاؤ!راستہ ایک ہے، لیکن وقت تھوڑا ہے۔

والسلام علی من اتبع الھدیٰ۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=1956

ٹیگز

تبصرے