صراط ٹائمز
تحریر : مولانا سید عمار حیدر زیدی قم
خیبر والوں پر علی والوں کا حملہ
ایران کا اسرائیل پر حملہ… ایک نئی خیبر کا آغاز؟
جب ایران نے صیہونی ریاست پر اپنے دفاع میں میزائلوں کی بارش کی، تو دنیا نے صرف ایک عسکری کارروائی نہیں دیکھی—بلکہ ایک صدیوں پرانی للکار کو مجسم ہوتے دیکھا۔ یہ صرف ایک “ملک” کا ردعمل نہیں تھا، یہ “علی والوں” کا “خیبر والوں” پر ایک نظریاتی حملہ تھا۔
جیسے ہی دنیا بھر کے حریت پسندوں نے ایران کے حملے کی خبروں پر لبیک کہا، ذہن خودبخود خیبر کی سرزمین کی طرف پلٹ گیا—جہاں ایک قلعہ تھا، غرور کا، ظلم کا، یہودیت کے سیاسی فریب کا۔ اور اس قلعے کا دروازہ اُس وقت کھلا جب علیؑ نے زورِ بازو سے وہ دروازہ اکھاڑ کر زمین پر دے مارا۔
آج وہی علیؑ کے ماننے والے، جن کی فکری بنیاد امامت ہے، ظلم کے جدید قلعے پر للکار بن کر گرجے ہیں۔ اسرائیل کوئی قوم نہیں، کوئی مذہب نہیں—یہ ظلم کا استعارہ، نسل پرستی کا قلعہ، اور استکبارِ زمانہ کی نمائندگی ہے۔ وہی خیبر، نئے لباس میں۔ اور اُس کے سامنے کھڑا ہے علیؑ کا وارث، وہ نظام جو مکتبِ عاشورا و غدیر سے نکلا ہے۔
یہ حملہ میزائل سے زیادہ “پیغام” تھا۔
ایک پیغام، کہ ہم صرف زبان سے “مرگ بر اسرائیل” نہیں کہتے، ہم اس ظلم کے خلاف کھڑے بھی ہیں، لڑتے بھی ہیں، اور اگر وقت آیا تو خیبر کی طرح دروازے بھی اکھاڑ سکتے ہیں۔
یہ حملہ تشیع کی فکری روح کی عملی تصویر تھا۔
شیعہ مکتب میں “ظلم کے خلاف قیام” صرف نظریہ نہیں، فریضہ ہے۔ اور ایران، دنیا کا واحد ملک ہے جس نے اس فریضے کو سیاست، فوج، عقیدہ اور عوام کی روح میں سمو دیا ہے۔
یہ حملہ صرف اسرائیل پر نہیں،۔
بلکہ اُن مسلم ممالک پر بھی تازیانہ ہے جو اسرائیل کے ساتھ “ابراہیمی معاہدے” کے نام پر حلفِ وفاداری لے چکے ہیں۔ جو خیبر کی دیواروں کو بچانے والے بن گئے ہیں۔
آج کا علی والا…
“ایران” ہو یا “یمن”
“لبنان” ہو یا “عراق”
یا وہ جوان جو فلسطین کے کیمپوں میں پتھر ہاتھ میں لیے کھڑا ہے…
یہ سب “خیبر” کے دروازے کی طرف بڑھ رہے ہیں
اور زمانہ ایک بار پھر گواہ بنے گا
کہ جب علی کے ماننے والے اٹھتے ہیں
تو خیبر والے چھپنے کی جگہ ڈھونڈتے ہیں۔
