📅 تاریخ اشاعت: 16 جولائی 2025
رپورٹ: صراط ٹائمز
تہران — رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہای (مدظلہ العالی) نے آج صبح عدلیہ کے اعلیٰ حکام سے ملاقات کے دوران حالیہ جرائم کے تناظر میں نہایت اہم اور فیصلہ کن نکات بیان کیے، جن میں داخلی و بین الاقوامی سطح پر قانونی پیروی کو “واجبی اور ناگزیر” قرار دیا۔
رہبر انقلاب نے زور دیتے ہوئے فرمایا:۔
عدلیہ کو حالیہ انجام پانے والے جرائم کی پیروی داخلی عدالتوں اور بین الاقوامی قانونی اداروں میں ضرور کرنی چاہیے۔ یہ کام نہایت ضروری اور اہم ہے۔
انہوں نے ماضی کی کمزوریوں کا اعتراف کرتے ہوئے واضح کیا کہ:۔
ہم نے ماضی میں کئی مواقع پر اس حوالے سے کوتاہی کی ہے، مگر اب کی بار ہرگز غفلت نہیں ہونی چاہیے۔
*قانونی پیروی وقت طلب سہی، مگر لازم ہے*
رہبر معظم نے عدلیہ پر واضح کیا کہ اس قسم کے مقدمات میں وقت کا طولانی ہونا باعث رکاوٹ نہیں ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا:۔
اگر ان جرائم کی پیروی اور بین الاقوامی یا داخلی عدالتوں میں مقدمہ دائر کرنے میں بیس سال بھی لگ جائیں تو کوئی حرج نہیں — یہ کام جاری رہنا چاہیے۔
*انصاف کی راہ میں رکاوٹیں مگر امید باقی ہے*
بین الاقوامی عدالتوں کے غیرجانبدار رویے پر رہبر انقلاب نے حقیقت پسندانہ انداز اختیار کرتے ہوئے فرمایا:۔
ممکن ہے کسی بین الاقوامی عدالت کو ہم متہم کریں کہ وہ کسی طاقت کے زیرِ اثر ہے، اور یہ بات حقیقت بھی ہو، لیکن ہر وقت ایسا نہیں رہتا — کبھی کبھار کوئی آزاد و منصف قاضی بھی وہاں بیٹھا ہوتا ہے۔
*عدلیہ سے سنجیدگی، ہمت اور ہوشیاری کا مطالبہ*
اپنے خطاب کے آخر میں، آیت اللہ خامنہای نے عدلیہ کو تاکید کی کہ وہ اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی، قوت اور مکمل ہوشیاری کے ساتھ آگے بڑھائے، اور تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھے، اِنشاءاللّٰہ
انہوں نے جنایتکار کے انجام کی وضاحت کرتے ہوئے تاکید کی کہ جنایتکار کی گردن پکڑنا ضروری ہے۔
