تحریر: مولانا سید عمار حیدر زیدی، قم المقدسہ
ولایتِ اہلِ بیت علیہم السلام دینِ اسلام کی روح اور نجاتِ انسانیت کی ضمانت ہے۔ جس طرح انبیائے الٰہی نے توحید کی حفاظت کے لیے قربانیاں دیں، اسی طرح اہلِ بیت علیہم السلام نے ولایتِ الٰہی کے تحفظ کے لیے ہر طرح کی مشقت برداشت کی۔ تاریخِ اسلام کا مطالعہ اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ ولایت کی حفاظت صرف مردوں کی ذمہ داری نہیں رہی، بلکہ باایمان خواتین نے بھی ہر دور میں اس عظیم ذمہ داری کو نبھایا اور اپنے کردار سے ثابت کیا کہ حق کی نصرت میں مرد و عورت دونوں برابر کے شریک ہیں۔
رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے بعد جب امت ایک نازک دور سے گزر رہی تھی، اس وقت جنابِ فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا نے جس استقامت، بصیرت اور شجاعت کا مظاہرہ کیا، وہ رہتی دنیا تک خواتین کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ آپ نے یہ واضح کر دیا کہ جب امامت اور ولایت خطرے میں ہو تو خاموشی جرم بن جاتی ہے۔ آپ نے خطبۂ فدکیہ کے ذریعے امامت کی حقانیت کو دلائل کے ساتھ بیان کیا، مہاجرین و انصار کو ان کی ذمہ داری یاد دلائی، اور اپنے احتجاج سے تاریخ پر یہ حجت قائم کر دی کہ حق کا دفاع ہر صاحبِ ایمان کا فرض ہے۔
حضرت زہراء سلام اللہ علیہا کا گریہ بھی محض ایک بیٹی کا اپنے والد کے فراق میں رونا نہیں تھا، بلکہ ایک بامقصد احتجاج تھا۔ آپ کا ہر اشک امت کو یہ پیغام دے رہا تھا کہ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وصیت کو فراموش نہ کیا جائے اور ولایتِ امیرالمؤمنین علیہ السلام سے روگردانی کے نتائج کو سمجھا جائے۔ آپ کی قبرِ مبارک کا مخفی رہنا بھی تاریخ کے لیے ایک خاموش مگر ہمیشہ زندہ رہنے والا احتجاج ہے، جو ہر دور کے انسان کو غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔
کربلا کا میدان بھی اس حقیقت کا روشن ترین گواہ ہے کہ خواتین ولایت کی حفاظت میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔ اگر جنابِ زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا نہ ہوتیں تو کربلا کا پیغام شاید اسی طرح دنیا تک نہ پہنچتا۔ آپ نے اسیری کی حالت میں بھی یزید کے دربار میں حق کا پرچم بلند رکھا، ظلم کو بے نقاب کیا اور امام حسین علیہ السلام کی قربانی کو ہمیشہ کے لیے زندہ کر دیا۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ عاشورا کو امام حسین علیہ السلام نے زندہ کیا اور عاشورا کے پیغام کو حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا۔
ولایت کی حفاظت صرف میدانِ جنگ میں نہیں ہوتی بلکہ علم، تربیت، تبلیغ، حجاب، عفت، اخلاق اور نسل سازی کے ذریعے بھی ہوتی ہے۔ ایک مؤمنہ خاتون اگر اپنی اولاد کی تربیت ولایتِ اہلِ بیت علیہم السلام کے مطابق کرے، گھر کو مرکزِ دینی تعلیم بنائے، حق کی تبلیغ کرے اور معاشرے میں دینی اقدار کو فروغ دے تو وہ بھی ولایت کی عظیم محافظ ہے۔ تاریخ میں ایسی بے شمار خواتین گزری ہیں جنہوں نے اپنے ایمان، صبر اور بصیرت کے ذریعے ولایت کے چراغ کو روشن رکھا۔
آج عصرِ غیبت میں بھی خواتین کی ذمہ داری پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ فکری یلغار، اخلاقی انحراف اور دینی بے راہ روی کے اس دور میں خواتین اگر حضرت زہراء سلام اللہ علیہا اور حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی سیرت کو اپنا نمونۂ عمل بنا لیں تو وہ نئی نسل کو ولایتِ امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف سے جوڑ سکتی ہیں۔ گھروں میں اہلِ بیت علیہم السلام کی معرفت کو فروغ دینا، بچوں میں محبتِ اہلِ بیت پیدا کرنا، دینی تعلیم کو عام کرنا اور حق کی حمایت میں ثابت قدم رہنا، عصرِ غیبت میں دفاعِ ولایت کی بہترین صورتیں ہیں۔
ولایت کی حفاظت کا مطلب صرف جذباتی محبت کا اظہار نہیں بلکہ امامِ وقت کی اطاعت، دینی بصیرت، اخلاقِ اسلامی، اتحادِ امت اور حق کی حمایت ہے۔ حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا نے اپنی پوری زندگی سے یہ سبق دیا کہ اگر امامِ برحق کا دفاع کرنا پڑے تو انسان کو اپنی آسائش، اپنے آرام بلکہ اپنی جان تک قربان کرنے سے دریغ نہیں کرنا چاہیے۔
آج ہر مؤمنہ خاتون اگر اپنے آپ سے یہ عہد کرے کہ وہ اپنے گھر، اپنی اولاد، اپنے معاشرے اور اپنے کردار کے ذریعے ولایتِ اہلِ بیت علیہم السلام کی محافظ بنے گی تو یقیناً یہ حضرت زہراء سلام اللہ علیہا اور حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی حقیقی پیروی ہوگی۔ یہی وہ راستہ ہے جو امت کو ہدایت، عزت اور کامیابی کی طرف لے جاتا ہے، اور یہی ہر دور میں اہلِ ایمان کی ذمہ داری رہی ہے
