1

*ظہورِ امام عج اور اُمت کی آمادگی*

  • نیوز کوڈ : 3156
  • 11 July 2026 - 4:01
*ظہورِ امام عج اور اُمت کی آمادگی*

*ظہورِ امام عج اور اُمت کی آمادگی*

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔

سید جہانزیب عابدی

امتِ اسلامی کے خلاف سازشوں کے طوفان کو اگر صرف اس زاویے سے دیکھا جائے کہ اب امام کو قیام کر دینا چاہیے، تو یہ ایک نامکمل اور یک رخی تجزیہ ہوگا۔ قرآن مجید اور اہل بیتؑ کی تعلیمات سے معلوم ہوتا ہے کہ الٰہی قیادت کا ظہور اور عالمی عدل کا قیام صرف ظلم کی شدت پر منحصر نہیں بلکہ اس کے ساتھ انسانوں، بالخصوص امتِ مسلمہ کی فکری، اخلاقی، روحانی اور اجتماعی آمادگی بھی بنیادی شرط ہے۔ ظلم کا بڑھ جانا ایک حقیقت ہے، لیکن ظلم کے خاتمے کے لیے ایسے افراد، خاندان، معاشرے اور امت کا وجود بھی ضروری ہے جو عدل کے نظام کو سمجھنے، قبول کرنے، اس کا بوجھ اٹھانے اور اس کی حفاظت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی فکر میں انتظارِ فرج کا مفہوم محض کسی معجزانہ مداخلت کا انتظار نہیں بلکہ ایک مسلسل تعمیری اور آزمائشی عمل ہے جس میں امت اپنی اصلاح، تربیت اور آمادگی کے ذریعے ظہور کی راہ ہموار کرتی ہے۔ اگر خدا کو معجزہ ہی منظور ہوتا تو خدا کی قدرت ہر طاقت و قوت پر حاوی ہے مگر یہ مسئلہ خدا سے نہیں بلکہ امت کیلئے بطور امتحان ہے۔

تاریخ انبیاء اس حقیقت کی بہترین گواہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کو اس وقت مبعوث کیا جب ایک طرف فساد اپنے عروج پر تھا اور دوسری طرف ایسے افراد بھی موجود تھے جو حق کو قبول کرنے کی استعداد رکھتے تھے۔ اگر صرف ظلم ہی بعثت یا قیام کا معیار ہوتا تو حضرت نوحؑ، حضرت ابراہیمؑ، حضرت موسیٰؑ، حضرت عیسیٰؑ اور خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانوں میں انبیاء کی دعوت کا نتیجہ بہت مختلف ہونا چاہیے تھا، مگر ہر دور میں حق کے ماننے والوں کی ایک جماعت تیار کی گئی، ان کی تربیت کی گئی، ان کے ایمان کو آزمائشوں سے گزارا گیا اور پھر ان کے ذریعے الٰہی منصوبہ آگے بڑھا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ الٰہی سنت میں صرف دشمن کی طاقت نہیں دیکھی جاتی بلکہ اہلِ حق کی تیاری بھی دیکھی جاتی ہے۔

امام مہدیؑ کے ظہور کے بارے میں بھی یہی اصول کارفرما دکھائی دیتا ہے۔ اگر دنیا میں ظلم کا بڑھ جانا ہی واحد شرط ہوتی تو گزشتہ کئی صدیوں میں ایسے بے شمار مواقع آ چکے ہیں جب کروڑوں انسان جنگوں، غلامی، نوآبادیاتی نظام، نسل کشی، استحصال اور ظلم کا شکار ہوئے۔ تاریخ میں منگولوں کی تباہ کاریاں، صلیبی جنگیں، استعماری دور، دو عالمی جنگیں، فلسطین، عراق، افغانستان، شام، یمن اور دیگر علاقوں کی تباہیاں اس حقیقت کا اظہار کرتی ہیں کہ ظلم کی شدت کئی مرتبہ اپنی انتہاؤں کو چھو چکی ہے۔ لیکن اس کے باوجود ظہور نہ ہونا اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ مسئلہ صرف ظلم کی مقدار نہیں بلکہ امت کی داخلی کیفیت بھی ہے۔

امت کی آمادگی کا پہلا مرحلہ فکری بیداری ہے۔ جب تک مسلمان قرآن کو صرف تلاوت کی کتاب اور دین کو صرف رسوم و عبادات کا مجموعہ سمجھتے رہیں گے، وہ اس عالمی انقلاب کے حقیقی مقصد کو نہیں سمجھ سکیں گے جس کا وعدہ کیا گیا ہے۔ ظہور کا تعلق ایک ایسے معاشرے سے ہے جو توحید، عدل، انسانی کرامت، ذمہ داری اور اجتماعی شعور کو اپنی زندگی کا حصہ بنا چکا ہو۔ اگر امت خود فرقہ واریت، تعصب، جہالت، شخصیت پرستی، قومی عصبیت اور مادہ پرستی میں گرفتار ہو تو وہ عدلِ الٰہی کے عالمی نظام کی محافظ کیسے بن سکتی ہے؟

اس کے ساتھ اخلاقی آمادگی بھی ضروری ہے۔ ظلم کے خلاف نعرہ لگانا آسان ہے لیکن اپنے نفس کے ظلم، اپنی خواہشات، اپنی ناانصافیوں اور اپنی بدعنوانیوں سے لڑنا کہیں زیادہ مشکل ہے۔ جو فرد اپنے خاندان، کاروبار، سیاست، تعلیم اور معاشرت میں عدل قائم نہیں کر سکتا، وہ عالمی عدل کے قیام کا حقیقی سپاہی نہیں بن سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ روایات میں منتظر کو صرف انتظار کرنے والا نہیں بلکہ بہترین اخلاق، تقویٰ، دیانت، صبر اور استقامت کا حامل انسان قرار دیا گیا ہے۔

روحانی آمادگی بھی اسی قدر اہم ہے۔ امام کی معرفت، اللہ پر کامل اعتماد، آزمائشوں میں ثابت قدمی اور دنیاوی مفادات پر حق کو ترجیح دینا وہ اوصاف ہیں جو ایک حقیقی منتظر میں پیدا ہونے چاہییں۔ اگر امت دنیا پرستی، خوف، لالچ اور ذاتی مفاد کے سامنے ہر بار جھک جائے تو وہ کسی بھی عالمی الٰہی تحریک کا ساتھ نہیں دے سکتی۔ تاریخ میں بارہا ایسا ہوا کہ لوگوں نے حق کو پہچاننے کے باوجود دنیاوی مفادات کی وجہ سے اس کا ساتھ نہیں دیا۔ اس لیے صرف حق کا علم کافی نہیں بلکہ حق پر قربانی دینے کی صلاحیت بھی ضروری ہے۔

اجتماعی آمادگی اس سے بھی آگے کا مرحلہ ہے۔ ظہور کے بعد صرف چند افراد نے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک نئے تمدنی نظام نے قائم ہونا ہے۔ اس کے لیے ایسے افراد درکار ہیں جو علم، معیشت، سیاست، قانون، تعلیم، میڈیا، دفاع، ٹیکنالوجی اور سماجی نظم کے میدانوں میں عدل کے اصولوں کے مطابق کردار ادا کر سکیں۔ اگر امت نے ان میدانوں کو چھوڑ دیا ہو اور صرف دعاؤں اور جذبات پر اکتفا کیا ہو تو وہ عالمی تبدیلی کے عملی تقاضوں کو پورا نہیں کر سکے گی۔

یہ بھی قابلِ غور حقیقت ہے کہ امت کے خلاف سازشیں بعض اوقات صرف تباہی کے لیے نہیں ہوتیں بلکہ وہ امت کی آزمائش، تطہیر اور بیداری کا ذریعہ بھی بنتی ہیں۔ جب دشمن اپنی تمام قوت کے ساتھ حملہ آور ہوتا ہے تو اس سے منافقت اور اخلاص میں فرق واضح ہوتا ہے، کمزور ایمان رکھنے والے الگ ہو جاتے ہیں اور ثابت قدم افراد نمایاں ہو جاتے ہیں۔ قرآن نے بھی بارہا آزمائشوں کو ایمان کے خالص ہونے کا ذریعہ قرار دیا ہے۔ اس اعتبار سے بیرونی سازشیں صرف دشمن کی کامیابی کی علامت نہیں بلکہ اہلِ ایمان کے لیے اپنی اصلاح اور تنظیمِ نو کا موقع بھی ہوتی ہیں۔

انتظار کا حقیقی مفہوم یہی ہے کہ ہر شخص اپنے آپ سے یہ سوال کرے کہ اگر آج امامؑ ظہور فرمائیں تو کیا میں صرف جذباتی نعروں کے ذریعے ان کا ساتھ دوں گا یا علمی، اخلاقی، روحانی اور عملی اعتبار سے ان کے مشن کا حصہ بننے کی صلاحیت بھی رکھتا ہوں؟ کیا ہمارا گھر، ہمارا تعلیمی نظام، ہماری معیشت، ہماری سیاست، ہماری ثقافت اور ہماری اجتماعی زندگی عدل کے لیے تیار ہے یا ہم بھی انہی بیماریوں میں مبتلا ہیں جن کے خلاف ہم دوسروں پر تنقید کرتے ہیں؟

یہ نظریہ کہ صرف سازشوں اور مظالم کے بڑھ جانے سے قیام کا وقت آ جانا چاہیے، دراصل انسانی ذمہ داری کو کم کر دیتا ہے، جبکہ قرآن اور اہل بیتؑ کی تعلیمات انسان کو فعال کردار عطا کرتی ہیں۔ ان تعلیمات کے مطابق ظہور کی راہ میں دعا بھی ضروری ہے، معرفت بھی ضروری ہے، اصلاحِ نفس بھی ضروری ہے، صالح معاشرہ بھی ضروری ہے اور ایسی امت کی تشکیل بھی ضروری ہے جو امام کے عالمی عدل کے منصوبے کو سنبھالنے کی اہلیت رکھتی ہو۔ اس لیے امت کے خلاف سازشوں کا طوفان یقیناً ایک اہم علامت اور آزمائش ہے، لیکن اس کے ساتھ امت کی داخلی آمادگی، فکری پختگی، اخلاقی پاکیزگی، روحانی استقامت اور اجتماعی صلاحیت بھی اسی قدر اہم ہے۔ جب یہ دونوں پہلو اپنے مطلوبہ مقام پر پہنچیں گے تو الٰہی وعدہ اپنے کامل ترین ظہور کے ساتھ سامنے آئے گا، اور زمین عدل و انصاف سے اسی طرح بھر جائے گی جس طرح وہ ظلم و جور سے بھر چکی ہوگی۔

اس آمادگی کا تصور اگر صرف ایک نظری بحث بن کر رہ جائے تو اس کا عملی فائدہ محدود ہو جاتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ یہ سمجھا جائے کہ امت اور مستضعفین آخر کس طرح اس مرحلے تک پہنچ سکتے ہیں جہاں وہ امامِ زمانہؑ کے عالمی عدل کے انقلاب کا حقیقی سرمایہ بن جائیں۔ قرآن مجید بار بار اس حقیقت کو بیان کرتا ہے کہ اللہ کسی قوم کی حالت اس وقت تک تبدیل نہیں کرتا جب تک وہ خود اپنی حالت کو تبدیل نہ کرے۔ اس الٰہی اصول کا مطلب یہی ہے کہ ظہور کی راہ میں امت کو اپنی فکری، اخلاقی، روحانی اور تمدنی تعمیر کا عمل خود اختیار کرنا ہوگا۔

قرآن مجید اور سیرتِ نبویؐ کی روشنی میں دیکھا جائے تو مکی مرحلہ درحقیقت ہر الٰہی انقلاب کی ناگزیر تمہید اور تیاری کا دور ہے۔ رسول اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ میں تقریباً تیرہ سال تک کوئی ریاست قائم نہیں کی، کوئی فوج تیار نہیں کی اور نہ ہی سیاسی اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کی، بلکہ اس پورے عرصے میں انسان سازی، ایمان سازی، کردار سازی، بصیرت، صبر، استقامت، توحید، آخرت کے یقین اور ولایتِ الٰہی پر مبنی ایک ایسی جماعت تیار کی جو بعد میں مدینہ میں اسلامی ریاست اور عالمی دعوت کی بنیاد بنی۔ اگر مدنی مرحلہ انقلاب کا مرحلہ تھا تو مکی مرحلہ انقلاب کے انسان تیار کرنے کا مرحلہ تھا۔

قرآن مجید بھی اسی سنت کو بیان کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ پہلے افراد کی باطنی اصلاح کرتا ہے، پھر انہیں اجتماعی ذمہ داری دیتا ہے۔ اسی لیے مکی سورتوں میں زیادہ تر توجہ عقیدہ، تزکیۂ نفس، صبر، تقویٰ، عدل، آخرت، ظلم کے مقابلے میں استقامت اور اللہ پر توکل پیدا کرنے پر مرکوز رہی۔ گویا اللہ تعالیٰ نے پہلے ایسے افراد تیار کیے جو اقتدار ملنے کے بعد بھی اپنے اصولوں پر قائم رہ سکیں۔ اگر یہ تربیت نہ ہوتی تو مدینہ کی ریاست بھی اپنے مقاصد حاصل نہ کر سکتی۔

اسی اصول کو ظہورِ امام مہدیؑ کے تناظر میں دیکھا جائے تو موجودہ دور کو بھی ایک طرح کا “مکی مرحلہ” قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہ دور صرف ظالم نظاموں پر تنقید کا نہیں بلکہ ایسے مؤمن، باکردار، باعلم، بااخلاق، باصبر، منظم اور صاحبِ بصیرت افراد تیار کرنے کا دور ہے جو ظہور کے بعد عدلِ الٰہی کے عالمی نظام کو سنبھال سکیں۔ جس امت نے اپنا مکی مرحلہ کامیابی سے طے نہیں کیا، وہ اپنے مدنی مرحلے یا عالمی انقلاب کی ذمہ داری بھی ادا نہیں کر سکتی۔

تاریخِ انبیاء اور قرآن کی یہی مشترکہ سنت بتاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ پہلے افراد، پھر جماعت، پھر معاشرہ اور آخر میں تمدن بناتا ہے۔ اس لیے ظہور کی حقیقی تیاری بھی انسان سازی سے شروع ہوتی ہے، کیونکہ صالح انسانوں کے بغیر صالح نظام قائم نہیں رہ سکتا۔

اس کی پہلی مثال علمی اور فکری خودمختاری ہے۔ اگر کوئی امت اپنی تعلیم، میڈیا، ثقافت، معیشت اور سیاسی فکر میں دوسروں کی غلام بن جائے تو وہ ظاہری طور پر آزاد ہونے کے باوجود فکری طور پر محکوم رہتی ہے۔ آج اگر مسلمان نوجوان اپنی تاریخ، قرآن، سیرتِ اہل بیتؑ، اسلامی تہذیب اور اپنی علمی میراث سے ناواقف ہوں لیکن مغربی تہذیب، سرمایہ دارانہ اقدار اور صارفیت کے فلسفے سے پوری طرح متاثر ہوں تو وہ انجانے میں اسی نظام کے محافظ بن جاتے ہیں جس کے خاتمے کے لیے امامؑ ظہور فرمائیں گے۔ اس کے برعکس اگر نوجوان جدید علوم بھی حاصل کریں اور ان علوم کو قرآنی بصیرت اور اسلامی اقدار کے تابع کر دیں تو یہی علمی آمادگی مستقبل کے عدل پر مبنی تمدن کی بنیاد بن سکتی ہے۔

اس کی دوسری مثال اقتصادی خودمختاری ہے۔ اگر امت کا رزق، تجارت، صنعت، ٹیکنالوجی، مالیاتی نظام اور غذائی تحفظ دوسروں کے رحم و کرم پر ہو تو وہ کبھی حقیقی آزادی حاصل نہیں کر سکتی۔ مستضعفین کی آمادگی کا مطلب یہ بھی ہے کہ وہ محنت، دیانت، صنعت، ہنر، مقامی پیداوار، حلال معیشت، اسلامی مالی اصول اور باہمی تعاون کے ذریعے ایسے معاشرے تشکیل دیں جو دشمن کی اقتصادی پابندیوں اور استحصالی نظام کے سامنے جھکنے پر مجبور نہ ہوں۔ تاریخ گواہ ہے کہ معاشی غلامی اکثر سیاسی غلامی سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہوتی ہے۔

اسی طرح خاندانی نظام کی اصلاح بھی ظہور کی آمادگی کا بنیادی حصہ ہے۔ اگر گھروں میں اولاد کی تربیت صرف دنیاوی کامیابی، دولت، شہرت اور مقابلہ بازی پر ہو اور عدل، تقویٰ، ایثار، خدمت، شجاعت، صبر اور ولایتِ اہل بیتؑ کی محبت پیدا نہ کی جائے تو آنے والی نسلیں ظہور کی فوج نہیں بلکہ مادیت کے نظام کا حصہ بن جائیں گی۔ اس کے برعکس اگر ہر گھر ایک چھوٹا تربیتی مرکز بن جائے جہاں بچوں کو قرآن کے ساتھ فکر بھی دی جائے، عبادت کے ساتھ خدمت بھی سکھائی جائے اور علم کے ساتھ کردار بھی تعمیر کیا جائے تو یہی گھر مستقبل کی صالح امت کی بنیاد بن سکتے ہیں۔

سماجی سطح پر بھی آمادگی کا مطلب صرف جلسے جلوس یا نعروں تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ اگر کسی شہر میں غربت ہو، یتیم بے سہارا ہوں، پڑوسی بھوکے ہوں، نوجوان منشیات کا شکار ہوں، خواتین غیر محفوظ ہوں اور اہلِ علم تنہا چھوڑ دیے جائیں، تو ایسے معاشرے کو پہلے اپنی داخلی کمزوریوں کا علاج کرنا ہوگا۔ اگر ہر محلہ اپنے ضرورت مند افراد کی کفالت کرے، نوجوانوں کی تعلیم و تربیت کا اہتمام کرے، انصاف اور امانت کو فروغ دے، اختلافات کو حکمت سے حل کرے اور اجتماعی خدمت کو عبادت سمجھے تو یہ سب ظہور کی عملی تیاری کا حصہ ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جو اپنے اندر عدل نافذ نہیں کر سکتا، وہ عالمی عدل کے قیام میں مؤثر کردار ادا نہیں کر سکتا۔

مستضعفین کی آمادگی کا ایک اہم پہلو صبر اور استقامت بھی ہے۔ قرآن میں مستضعفین کو صرف مظلوم نہیں بلکہ مستقبل کے وارث کے طور پر پیش کیا گیا ہے، لیکن یہ وراثت انہیں صرف مظلوم ہونے کی وجہ سے نہیں ملتی بلکہ اس وقت ملتی ہے جب وہ ظلم کے باوجود ایمان، صبر، بصیرت اور استقامت کو ترک نہیں کرتے۔ اگر کوئی قوم معمولی مشکلات پر مایوس ہو جائے، دشمن کے پروپیگنڈے سے مرعوب ہو جائے، داخلی اختلافات میں بکھر جائے یا دنیاوی مفادات کے لیے اپنے اصول فروخت کر دے تو وہ مستضعف ضرور ہو سکتی ہے لیکن وارثِ زمین نہیں بن سکتی۔

اسی طرح میڈیا اور اطلاعات کے میدان میں بھی آمادگی ضروری ہے۔ موجودہ دور میں جنگیں صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ افکار، خبروں، فلموں، سوشل میڈیا، مصنوعی ذہانت اور نفسیاتی پروپیگنڈے کے ذریعے بھی لڑی جا رہی ہیں۔ اگر امت ہر خبر پر یقین کر لے، ہر افواہ کو پھیلا دے، ہر جھوٹے بیانیے کا شکار ہو جائے اور حق و باطل میں فرق کرنے کی صلاحیت کھو دے تو وہ دشمن کی فکری جنگ میں شکست کھا جائے گی۔ اس کے برعکس اگر مسلمان تحقیق، تنقید، دلیل، بصیرت اور ذمہ دار ابلاغ کو اپنا شعار بنا لیں تو وہ فکری محاذ پر ایک مضبوط امت بن سکتے ہیں۔

ظہور کی آمادگی کا ایک نہایت اہم پہلو تنظیم اور نظم و ضبط بھی ہے۔ تاریخ میں کسی بھی عظیم تبدیلی نے منتشر، غیر منظم اور بے مقصد افراد کے ذریعے کامیابی حاصل نہیں کی۔ اگر ہر شخص صرف اپنی ذات تک محدود رہے، اجتماعی نظم سے فرار اختیار کرے اور مشترکہ اہداف کے لیے قربانی دینے پر آمادہ نہ ہو تو بڑی تبدیلی ممکن نہیں ہوتی۔ اس کے برعکس جب افراد اپنی صلاحیتوں کو ایک مشترکہ مقصد کے تحت منظم کرتے ہیں، ذمہ داری قبول کرتے ہیں، قیادت کا احترام کرتے ہیں اور اجتماعی نظم کی پابندی کرتے ہیں تو وہ ایک ایسی طاقت بن جاتے ہیں جسے شکست دینا آسان نہیں رہتا۔

اسی طرح اخلاقی استحکام بھی ناگزیر ہے۔ اگر مسلمان جھوٹ، خیانت، رشوت، بددیانتی، حسد، غیبت، تکبر اور نفرت کو اپنی روزمرہ زندگی سے ختم نہ کر سکیں تو وہ عدل کے دعوے میں سچے نہیں ہو سکتے۔ امامؑ کا انقلاب صرف سیاسی انقلاب نہیں بلکہ اخلاقی انقلاب بھی ہوگا، اس لیے اس انقلاب کے سپاہیوں کو پہلے اپنے کردار میں اس انقلاب کی جھلک پیدا کرنا ہوگی۔ جو شخص اپنے کاروبار میں امانت دار، اپنے خاندان میں عادل، اپنے وعدوں میں سچا، اپنے معاملات میں دیانت دار اور اپنے مخالفین کے ساتھ بھی انصاف کرنے والا ہو، وہی حقیقی معنوں میں ظہور کی تیاری کر رہا ہے۔

آخرکار یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ظہور کی تیاری صرف کسی خاص گروہ، قوم یا ملک کی ذمہ داری نہیں بلکہ پوری امت اور ہر اس انسان کی ذمہ داری ہے جو ظلم سے نفرت اور عدل سے محبت رکھتا ہے۔ ہر استاد جو ایک باکردار شاگرد تیار کرتا ہے، ہر عالم جو جہالت کے اندھیروں میں علم کی شمع روشن کرتا ہے، ہر والدین جو اپنی اولاد میں تقویٰ، بصیرت اور خدمتِ خلق کا جذبہ پیدا کرتے ہیں، ہر تاجر جو دیانت داری سے تجارت کرتا ہے، ہر محقق جو حق کی تلاش میں قلم اٹھاتا ہے، ہر نوجوان جو اپنی خواہشات پر قابو پا کر اللہ کی اطاعت اختیار کرتا ہے اور ہر وہ معاشرہ جو اپنے اندر عدل، اخوت اور خدمت کے اصولوں کو زندہ کرتا ہے، وہ سب درحقیقت ظہورِ امامؑ کی اجتماعی آمادگی کے عمل میں شریک ہیں۔ اس طرح انتظار ایک خاموش اور غیر فعال کیفیت نہیں رہتا بلکہ ایک مسلسل تمدنی، اخلاقی، علمی اور روحانی جدوجہد بن جاتا ہے، جو امت کو اس مقام تک پہنچاتی ہے جہاں وہ نہ صرف امامؑ کے ظہور کی دعا کرتی ہے بلکہ اس عالمی الٰہی انقلاب کی ذمہ داری اٹھانے کے قابل بھی ہو جاتی ہے۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=3156

ٹیگز

تبصرے