2

*حکومت اسلامی اور جدید مسائل: نصِ خاص سے عقلی استنباط تک*

  • نیوز کوڈ : 3153
  • 09 July 2026 - 22:50
*حکومت اسلامی اور جدید مسائل: نصِ خاص سے عقلی استنباط تک*

*حکومت اسلامی اور جدید مسائل: نصِ خاص سے عقلی استنباط تک*

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔

سید جہانزیب عابدی

شیعہ اصولِ فقہ کے پورے فریم ورک میں یہ بات یعنی “غیبت کبری میں حکومت اسلامی کیلئے جدوجہد کی حلیت” صرف “روایت موجود ہے یا نہیں” تک محدود نہیں رہتی، بلکہ یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ کیا “حکومتِ اسلامی کے قیام” یا اس کی طرف جدوجہد کسی منصوص جزئی حکم سے ثابت ہے یا وہ کلی ادلہ، عقلی ملازمات اور اصولی قواعد سے اخذ ہونے والا نتیجہ ہے۔

اصولِ فقہ میں بنیادی تقسیم یہ ہے کہ بعض احکام “نصِ خاص” سے ثابت ہوتے ہیں اور بعض “نصوصِ عامہ” اور “ادلۂ عقلیہ” کے ذریعے۔ غیبتِ کبریٰ میں حکومتِ اسلامی کے قیام کا مسئلہ عموماً دوسرے درجے یعنی ادلۂ عامہ اور عقلی ملازمات سے متعلق ہے، نہ کہ کسی ایک صریح روایت سے جو واضح طور پر یہ کہے کہ “تم غیبت میں فلاں طرز کی ریاست قائم کرو”۔

شیعہ اصولی فکر میں حکومت اور اجتماعی نظم کے بارے میں سب سے بنیادی دلیل “حفظِ نظامِ مسلمین” اور “نفیِ سبیلِ کفار علی المؤمنین” جیسے قرآنی اور عقلی اصول ہیں۔ یہ اصول بذاتِ خود کسی مخصوص سیاسی فارم کا نام نہیں لیتے، لیکن ایک لازمی عقلی نتیجہ پیدا کرتے ہیں کہ اگر مسلمانوں کا نظام اجتماعی طور پر تباہ ہو رہا ہو، ظلم عام ہو رہا ہو، یا دینی احکام کے نفاذ کے لیے کوئی نظم ضروری ہو تو عقل یہ حکم دیتی ہے کہ ایسے نظام کا قیام یا اس کی طرف کوشش جائز ہی نہیں بلکہ بعض حالات میں واجب ہو سکتی ہے۔ اصولِ فقہ میں یہ “ملازمۂ عقلیہ بین الحکم و مقدماتہ” کی واضح مثال ہے، یعنی اگر شریعت کا مقصد عدل کا قیام اور ظلم کا دفعیہ ہے تو وہ وسائل بھی دائرۂ حکم میں داخل ہو جاتے ہیں جو اس مقصد تک پہنچائیں، بشرطیکہ وہ خود کسی دوسرے شرعی حکم سے متصادم نہ ہوں۔

اسی تناظر میں ایک اور اہم اصول “وجوبِ دفعِ ضرر” اور “قاعدۂ لاضرر” ہے، جس سے فقہاء یہ استنباط کرتے ہیں کہ اگر اجتماعی سطح پر ایسا ضرر موجود ہو جو دین، جان، مال یا عزت کو خطرے میں ڈال دے تو اس کے ازالے کے لیے اجتماعی نظم ضروری ہو جاتا ہے۔ یہ بھی کسی ایک روایت سے حکومت کے نام پر نہیں آتا بلکہ ایک کلی فقہی و عقلی قاعدہ ہے جو مختلف ابواب میں لاگو ہوتا ہے۔

مزید یہ کہ اصولِ فقہ میں “حجیتِ عقل” ایک مستقل دلیل ہے، خاص طور پر شیعہ اصولی روایت میں، جہاں عقل صرف نظری استدلال نہیں بلکہ عملی ملازمات کو بھی دریافت کرتی ہے۔ اگر عقل یہ حکم دے کہ بغیر اجتماعی نظم کے شریعت کے بہت سے احکام معطل رہ جائیں گے، تو یہ خود ایک ملازمۂ عقلیہ کے ذریعے اجتماعی نظام کی ضرورت کو ثابت کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فقہاء نے “اقامۃ العدل”، “تنفیذ الاحکام”، اور “حفظ بیضۃ الاسلام” جیسے عناوین کے تحت حکومت یا اس کی حمایت کے مسئلے کو بحث کیا ہے۔

اب اہم نکتہ یہ ہے کہ یہ تمام دلائل “وجوبِ بالعنوانِ الثانوی یا بالعنوانِ العقلی” پیدا کرتے ہیں، نہ کہ “وجوبِ بالعنوانِ النص الخاص”۔ یعنی یہ نہیں کہا جا رہا کہ کوئی واحد روایت موجود ہے جو غیبتِ کبریٰ میں ایک مخصوص سیاسی ماڈل کو بطورِ منصوص فریضہ متعین کرتی ہو، بلکہ یہ کہا جا رہا ہے کہ شریعت کے کلی مقاصد اور عقلی اصول اس بات کی طرف رہنمائی کرتے ہیں کہ اگر شرائط فراہم ہوں تو اسلامی حکومت کا قیام یا اس کی طرف جدوجہد ایک معقول اور بعض حالات میں واجب امر بن سکتی ہے۔

اسی لیے شیعہ اصولی فقہ میں اس مسئلے پر ایک معروف علمی تنوع پایا جاتا ہے۔ بعض فقہاء اسے “وجوبِ کفائی یا عینی” کے درجے میں لے آتے ہیں اگر شرائط مکمل ہوں، جبکہ بعض اسے “حکومتی امکان اور شرائط سے مشروط” ایک فقہی و سیاسی امر سمجھتے ہیں۔ لیکن دونوں رجحانات اس بنیادی اصول پر متفق ہیں کہ اصل استدلال نصِ خاص سے زیادہ “عموماتِ شریعت، مقاصدِ دین، اور ملازماتِ عقلیہ” پر مبنی ہے۔

لہٰذا یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ جس طرح عسکری تیاری کو “منصوص انتظارِ فرج” بنانے کے لیے مخصوص دلیل طلب کی جاتی ہے، اسی طرح حکومتِ اسلامی کے قیام کو بھی اگر کوئی “منصوص واحد پروگرام” کہا جائے تو اس کے لیے صریح نص کی ضرورت ہوگی۔ لیکن اگر اسے “کلی اصولوں اور عقلی ملازمات کا نتیجہ” کہا جائے تو پھر یہ شیعہ اصولِ فقہ کے اندر ایک معتبر اجتہادی نتیجہ بن جاتا ہے، جس کی بنیاد ادلۂ اربعہ میں سے خاص طور پر عقل، عموماتِ کتاب و سنت، اور فقہی قواعد پر قائم ہوتی ہے، نہ کہ کسی ایک محدود نص پر۔

نص الخاص کی عدم موجودگی کی صورت میں شیعہ اصولِ فقہ کے ایک نہایت اہم باب “ملازماتِ عقلیہ، تنقیحِ مناط، اور عموماتِ شریعت کی تطبیق” سے متعلق ہے۔ جس میں اصولی نکتہ یہ ہے کہ شریعت میں بہت سے جدید یا غیر منصوص مسائل ایسے ہیں جن کے بارے میں “نصِ خاص” موجود نہیں ہوتا، لیکن فقہاء انہیں یا تو عقلی ملازمات، یا کلی شرعی قواعد، یا عمومی نصوص کے اطلاق سے حکم دیتے ہیں۔ یعنی حکم “ایجاد” نہیں ہوتا بلکہ “استنباط” ہوتا ہے۔

اس کی واضح مثالیں شیعہ فقہ کے تقریباً ہر بڑے باب میں موجود ہیں۔

سب سے پہلے جدید مالی و اقتصادی مسائل کو دیکھیں۔ مثلاً بینکنگ سسٹم، کریڈٹ کارڈ، ڈیجیٹل ٹرانسفر، اور کرپٹو کرنسی۔ ان میں سے کسی کے بارے میں قرآن یا روایات میں براہِ راست نام کے ساتھ حکم موجود نہیں۔ لیکن فقہاء ان کو “ربا”، “غرر”، “اکل مال بالباطل”، “ضمان”، اور “ملکیت” جیسے کلی اصولوں کے تحت analyze کرتے ہیں۔ اس میں عقل بطورِ آلہ استعمال ہوتی ہے کہ اگر کوئی مالی نظام ایسا ہو جو یقینی طور پر سودی استحصال یا غیر یقینی معاہدے پر قائم ہو تو وہ حرام ہوگا، اور اگر وہ ان اصولوں سے پاک ہو تو جائز ہوگا۔ یہاں حکم کا مدار نصِ خاص نہیں بلکہ ملازمۂ عقلیہ اور تطبیقِ کلی ہے۔

اسی طرح میڈیکل سائنس کے جدید مسائل جیسے اعضاء کی پیوند کاری، IVF (مصنوعی بارآوری)، یا دماغی موت کا مسئلہ۔ ان میں بھی کوئی خاص روایت نہیں کہ “دل کا ٹرانسپلانٹ کرو یا نہ کرو”، لیکن فقہاء “حفظِ نفس”، “حرمتِ بدنِ مومن”، “قاعدہ لاضرر”، اور “احترامِ میت” جیسے اصولوں سے عقلی استنباط کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر کوئی عمل انسانی جان بچانے کا یقینی ذریعہ ہو اور کسی قطعی حرام سے متصادم نہ ہو تو عقل اور شرع دونوں اس کے جواز یا حتیٰ کہ وجوب تک پہنچ سکتے ہیں۔

اسی طرح ٹیکنالوجی اور ذرائع ابلاغ کے مسائل جیسے انٹرنیٹ، سوشل میڈیا، AI، یا ڈیجیٹل نگرانی۔ ان میں بھی نصِ خاص موجود نہیں، لیکن فقہاء “نشرِ فحشاء کی حرمت”، “غیبت و تجسس کی ممانعت”، “حفظِ نظام”، اور “امر بالمعروف” جیسے اصولوں سے یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ اگر کوئی ٹیکنالوجی فساد پھیلائے تو اس کا استعمال حرام ہو سکتا ہے، اور اگر وہ نفعِ عام یا تعلیم کے لیے ہو تو جائز یا مستحب ہو سکتا ہے۔ یہاں بھی حکم کا تعین براہِ راست نص سے نہیں بلکہ ملازماتِ عقلیہ اور کلی قواعد سے ہوتا ہے۔

اسی طرح سیاسی اور اجتماعی مسائل میں مثلاً جدید ریاستی نظام، پارلیمانی جمہوریت، یا بین الاقوامی معاہدات۔ ان میں بھی اہل بیتؑ سے کوئی مخصوص نص موجود نہیں کہ “پارلیمنٹ بناؤ یا نہ بناؤ”، لیکن فقہاء “وفائے بالعقود”، “نفی سبیل”، “حفظِ بیضہ اسلام”، اور “قاعدہ لزوم نظم” جیسے اصولوں سے استنباط کرتے ہیں۔ اگر کوئی سیاسی نظام ظلم کو کم کرے اور عدل کو بڑھائے تو اسے قبول کرنا عقلی و شرعی طور پر ممکن ہوتا ہے، اور اگر وہ دین کے بنیادی اصولوں سے متصادم ہو تو اسے رد کیا جاتا ہے۔

اسی طرح ماحولیاتی مسائل جیسے آلودگی، جانوروں کے حقوق، اور قدرتی وسائل کا تحفظ بھی نصِ خاص سے نہیں بلکہ “لا ضرر”، “اسراف کی حرمت”، اور “خلافتِ ارض” جیسے کلی اصولوں سے سمجھا جاتا ہے۔ فقہاء یہاں عقل کو بطورِ کشف استعمال کرتے ہیں کہ اگر کسی عمل سے معاشرتی یا ماحولیاتی ضرر یقینی ہو تو وہ شرعاً ممنوع ہو سکتا ہے۔

یہ تمام مثالیں ایک بنیادی اصول کو واضح کرتی ہیں کہ شیعہ اصولِ فقہ میں شریعت کا دائرہ صرف “منصوص جزئیات” تک محدود نہیں بلکہ وہ ایک “اصولی نظام” ہے جس میں نصوص کم، لیکن قواعد وسیع ہیں، اور عقل ان قواعد کو جدید مصادیق پر منطبق کرنے کا ذریعہ ہے۔

اسی لیے ملازماتِ عقلیہ کا بنیادی کام یہی ہے کہ وہ ثابت شدہ شرعی اصول سے ایسے لازمی نتائج نکالتی ہے جو براہِ راست الفاظِ نص میں موجود نہیں ہوتے، لیکن انکار بھی نہیں کیے جا سکتے کیونکہ وہ اسی نظام کے منطقی تسلسل کا حصہ ہوتے ہیں۔

یوں خلاصہ یہ ہے کہ جدید فقہی دنیا میں بیشتر مسائل “نصِ خاص” سے نہیں بلکہ “کلیاتِ شریعت + عقل + ملازماتِ عقلیہ” کے ذریعے حل کیے جاتے ہیں، اور یہی اجتہاد کا اصل میدان ہے۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=3153

ٹیگز

تبصرے