بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔
سید جہانزیب عابدی
انسانی افعال کے دو بڑے دائرے ہمیشہ سے موجود رہے ہیں: ایک وہ جن پر شریعت براہِ راست حکم لگاتی ہے، یعنی حلال، حرام، واجب، مستحب اور مکروہ کا فقہی نظام؛ اور دوسرا وہ دائرہ جسے انسان کی فطرت، عقل، روح، تہذیب، عرفان اور تکوینی قوانین متعین کرتے ہیں۔ ان دونوں دائروں کا فرق سمجھنا ضروری ہے، کیونکہ انسان کی اصل زندگی، اس کی ترقی، انحطاط، روحانی ارتقا اور شخصیت کی ساخت فقہی دائرے سے کہیں وسیع تر میدان میں تشکیل پاتی ہے۔ فقہ کا دائرہ محدود ہے، مگر انسان کا وجود اس سے کہیں بڑا ہے۔
شریعت انسان کو کھانے، پینے، نکاح، تجارت، وراثت، عبادات اور معاملات جیسے بنیادی نظاموں میں رہنمائی دیتی ہے۔ لیکن انسان کے اندر جو طاقتیں، جوہر، استعدادیں، تخلیقی قوتیں، صلاحیتیں، امنگیں، جذبات، ارادے، فکر، وجدان اور روحانی میلانات ہوتے ہیں، شریعت ان سب کے ہر گوشے پر حکم نہیں لگاتی۔ ان میں سے بہت سے امور کا تعلق فقہی گناہ یا فقہی نیکی سے نہیں ہوتا، مگر پھر بھی وہ انسان کی کامیابی، کمال، زوال، اخلاق اور تہذیب پر براہِ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔ یہی وہ چیز ہے جسے نہایت گہری بصیرت سے محسوس کیا جاتا ہے کہ “کمال کی طرف کوشش کرنا نہ فقہی واجب ہے نہ حرام، مگر کیا یہ انسان پرکسی درجے میں لازم نہیں ہوتا؟”
یہ سوال بظاہر سادہ ہے مگر دراصل انسانی ذمہ داری کے چار بڑے نظاموں کو کھول دیتا ہے: شرعی احکام، عقلی ادراک، اخلاقی اصول اور تکوینی قوانین۔ ان چاروں کی ہم آہنگی سے ہم یہ سمجھ سکتے ہیں کہ انسان پر کون سی ذمہ داریاں کیونکر واجب ہو جاتی ہیں، چاہے فقہ انہیں واجب نہ قرار دے۔
فقہ اپنے دائرے میں صرف ان امور کو واجب یا حرام کہتی ہے جن پر واضح نص موجود ہو، یا جس پر امت کی اجتماعی ضرورت اور سیرتِ معصومین کی روشنی میں حکم ثابت ہو۔ کمال، ترقی، مہارت، شخصیت سازی، تخلیقی ترقی، فکری بلندی، معاشرتی کردار کی عظمت — یہ سب عموماً فقہی مستحبات میں شامل ہوتے ہیں۔ اس لیے فقہ ان پر “واجب” کا لفظ استعمال نہیں کرتی، کیونکہ فقہ کا کام صرف وہی چیزیں واجب قرار دینا ہے جن پر شرعی مؤاخذہ براہِ راست ہو۔ اس زاویے سے دیکھا جائے تو کمال کی طلب فقہی واجب نہیں۔
لیکن انسان کی عقل کا دائرہ فقہ سے زیادہ وسیع ہے۔ عقل کے نزدیک اگر کسی شخص میں کسی خیر، کسی فضیلت، کسی کارنامے، کسی علم، کسی خدمت یا کسی کردار کے حصول کی استعداد موجود ہے، اور وہ اسے استعمال نہیں کرتا، تو عقل اسے قبیح قرار دیتی ہے۔ انسان کو نعمتیں دے کر انہیں استعمال نہ کرنا، زمین کو سرسبز کر کے اسے چھوڑ دینا، ذہانت کو استعمال نہ کرکے اسے ضائع کر دینا، مواقع مل کر ان سے فائدہ نہ اٹھانا، یہ سب عقل کے نزدیک خطا ہیں، اگرچہ فقہ کے نزدیک گناہ نہ ہوں۔ یہ خطا اس وجہ سے ہے کہ نعمت کا بہتر طور پر استعمال نہ کرنا شکر کے خلاف ہے، اور نعمت کا صحیح استعمال شکر کا عملی اور وجودی حصہ ہے۔ یوں استعداد رکھنے کے باوجود کمال کی طرف قدم نہ بڑھانا عقل کے نزدیک واجب کی طرح لازم ہو جاتا ہے، اگرچہ فقہی حکم میں واجب نہیں۔
اخلاق کا دائرہ اس سے بھی بلند ہے۔ اخلاق کہتا ہے کہ ہر نعمت اپنے ساتھ ایک ذمہ داری لاتی ہے۔ جو زیادہ علم رکھتا ہے، اس سے زیادہ خدمت کا مطالبہ ہے۔ جو زیادہ طاقت رکھتا ہے، اس سے زیادہ تحمل اور انصاف مطلوب ہے۔ جو زیادہ صلاحیت رکھتا ہے، اس سے زیادہ کمال کی طرف کوشش مطلوب ہے۔ اخلاقی نظام میں انسان کی شخصیت کی بلندی اور پستی کا دارومدار فقہ سے نہیں بلکہ اس کے باطنی آداب اور معنوی قدروں سے ہوتا ہے۔ لہٰذا اخلاقی اعتبار سے جو انسان بلند بننے کی استعداد رکھتا ہے، اس کے لیے بلندی کی کوشش نہ کرنا صرف کمی نہیں بلکہ اخلاقی خلَا ہے، یعنی ایک ایسی کمی جو انسان کے کردار اور حرمت میں رخنہ ڈال دیتی ہے۔
عرفان اس گفتگو کو ایک اور جہت دیتا ہے۔ عرفانی نقطۂ نظر میں خدا نے انسان کو جو بھی نعمت دی ہے — عقل، دل، طاقت، فرصت، ہمت، ذہانت، محبت — یہ سب خدا کی معرفت کی طرف پلٹنے کے وسائل ہیں۔ ان وسائل کا غلط استعمال یا انہیں بے کار چھوڑ دینا صرف کوتاہی نہیں بلکہ عرفانی زبان میں “حجاب” بن جاتا ہے، یعنی وہی نعمت انسان کو خدا سے دور کر دیتی ہے۔ لہٰذا جو شخص کمال کی طرف نہیں بڑھتا، وہ عرفانی اصطلاح میں نعمت کو ضائع نہیں بلکہ اپنے اور خدا کے درمیان دیوار کھڑی کرتا ہے۔ اس دائرے میں کمال کی کوشش ایک طرح کا واجبِ سلوکی بن جاتی ہے، یعنی سلوکِ الیٰ اللہ کا لازمی مرحلہ، اگرچہ یہ واجب فقہی نہیں۔
لیکن سب سے گہرا اور فیصلہ کن پہلو تکوین کا ہے۔ خدا کا تکوینی نظام یہ ہے کہ جو چیز اپنی صلاحیت کو استعمال نہ کرے، وہ کمزور پڑ جاتی ہے۔ جو درخت پانی نہیں لیتا، وہ سوکھ جاتا ہے۔ جو ذہن سوچتا نہیں، وہ بند ہو جاتا ہے۔ جو دل محبت نہیں کرتا، وہ سخت ہو جاتا ہے۔ جو روح بلندی کی طرف پرواز نہیں کرتی، وہ پستی میں گر جاتی ہے۔ تکوین کے قوانین فقہ سے زیادہ سخت اور قطعی ہوتے ہیں، کیونکہ تکوین میں کوئی رعایت نہیں۔ فقہ میں اگر کوئی مستحب چھوڑ دے تو کوئی مؤاخذہ نہیں، مگر تکوین میں اگر کوئی استعداد نہ کھلے تو اُس کے نتائج لازماً اس کے وجود پر نازل ہوتے ہیں۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ خدا کبھی بندے کو ایک نعمت چھین کر سزا نہیں دیتا، بلکہ اس نعمت کے غلط استعمال کے نتائج خود انسان کا تعاقب کرتے ہیں۔
ان چاروں زاویوں کو ملا کر انسان کی اصل ذمہ داری واضح ہو جاتی ہے۔ اگر کوئی شخص استعداد رکھتا ہے، وسائل رکھتا ہے، علم رکھتا ہے، قوت رکھتا ہے، مواقع رکھتا ہے، اور پھر بھی کمال کی طرف نہیں جاتا، تو شرعاً وہ گناہگار نہیں، مگر عقلاً، اخلاقاً، عرفاناً اور تکویناً وہ ایک بڑے نقصان میں ہے۔ یوں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ کمال کی طرف کوشش کرنا فقہی لحاظ سے واجب نہیں، مگر انسانی نظامِ زندگی میں یہ واجب کی حیثیت اختیار کر لیتا ہے۔ یہ واجبِ تکوینی ہے، واجبِ عقلی ہے، واجبِ اخلاقی ہے، اور واجبِ وجودی ہے۔
یہی نکتہ انسان کے بڑے امتحان کی جڑ ہے: خدا نے اسے آزاد رکھا، مگر آزادی کے باوجود اسے ایسی استعدادیں دیں جنہیں استعمال نہ کرنے کی سزا تکوینی طور پر اس کے وجود میں درج ہو جاتی ہے۔ اور اسی لیے اقبال نے کہا تھا کہ انسان کا اصل گناہ وہ نہیں جو فقہ بتاتی ہے بلکہ وہ ہے جو “اپنے آپ سے کم تر” ہو کر جینا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں فقہ کا دائرہ ختم ہوتا ہے اور انسانی عظمت کا دائرہ شروع ہوتا ہے۔
روایتی فقہ نے زیادہ تر “تشریعی احکام” (واجب، حرام، مستحب، مکروہ، مباح) کو موضوع بنایا، جبکہ قرآنِ کریم اور اہل بیتؑ کی تعلیمات انسان کی ہدایت کو صرف تشریعی احکام تک محدود نہیں کرتیں بلکہ انسان کی عقل، فطرت، اخلاق، روح، معاشرہ، تاریخ اور تکوین کے مطابق بھی اس کے لیے ذمہ داریاں متعین کرتی ہیں۔ اسی لیے قرآن خود کو صرف “کتاب الاحکام” نہیں بلکہ “ہدایت”، “نور”، “شفاء”، “ذکر” اور “فرقان” کہتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن انسان کو صرف یہ نہیں بتاتا کہ کون سا عمل فقہی طور پر واجب یا حرام ہے بلکہ یہ بھی سکھاتا ہے کہ کون سا عمل انسان کو کمال تک پہنچاتا ہے اور کون سا اس کے وجود کو تباہ کرتا ہے۔
یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا ضروری ہے۔ “واجب” ہمیشہ ایک ہی معنی میں استعمال نہیں ہوتا۔ فقہ میں واجب کا مطلب وہ عمل ہے جس کے ترک پر شرعی مؤاخذہ ہو۔ لیکن فلسفہ، اخلاق، عرفان اور عقل میں “واجب” کا مفہوم یہ ہے کہ کسی حقیقت کی تکمیل کے لیے کوئی عمل ناگزیر ہو۔ اسی طرح “حرام” صرف وہ نہیں جسے فقیہ حرام قرار دے بلکہ وہ بھی ہے جو کسی نظام میں فساد، زوال یا محرومی کا لازمی سبب بنے۔ اسی اصول پر ہم تکوینی، عقلی، اخلاقی اور وجودی احکام کو سمجھ سکتے ہیں۔
تکوینی واجب اس عمل کو کہا جا سکتا ہے جو خدا کے بنائے ہوئے نظامِ تکوین کے مطابق کسی مخلوق کی بقا، نشوونما اور مقصد کی تکمیل کے لیے ناگزیر ہو، خواہ اس پر کوئی فقہی حکم موجود ہو یا نہ ہو۔ اگر وہ عمل انجام نہ دیا جائے تو تکوینی قانون کے تحت اس کے لازمی نتائج ظاہر ہوں گے۔ مثال کے طور پر قرآن کہتا ہے: “وَأَن لَّيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَىٰ، وَأَنَّ سَعْيَهُ سَوْفَ يُرَىٰ” (النجم: 39-40)۔ اس آیت میں کسی فقہی حکم کا بیان نہیں بلکہ ایک تکوینی قانون بیان ہوا ہے کہ انسان کو وہی ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے۔ اگر کوئی شخص کوشش نہیں کرتا تو وہ اس قانون کے مطابق اپنے نتائج سے محروم ہو جاتا ہے۔ یہاں سعی ایک تکوینی ضرورت بن جاتی ہے۔ اسی طرح قرآن فرماتا ہے: “إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنفُسِهِمْ” (الرعد: 11)۔ یہ بھی فقہی فتویٰ نہیں بلکہ تکوینی سنت ہے کہ جب تک انسان اپنے اندر تبدیلی پیدا نہیں کرتا، بیرونی حالات تبدیل نہیں ہوتے۔ گویا خود سازی تکوینی اعتبار سے واجب ہے، کیونکہ اس کے بغیر تبدیلی کا قانون حرکت میں نہیں آتا۔
تکوینی حرام اس عمل کو کہا جا سکتا ہے جو خدا کے قائم کردہ نظامِ اسباب و مسببات کے خلاف جا کر انسان کو لازماً نقصان پہنچائے۔ مثال کے طور پر قرآن بار بار فساد کی مذمت کرتا ہے۔ “وَلَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَاحِهَا” (الأعراف: 56)۔ اس میں فساد صرف فقہی جرم نہیں بلکہ ایک تکوینی حقیقت ہے کہ فساد کا انجام تباہی ہے۔ اسی طرح اسراف کے بارے میں فرمایا: “إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ” (الأعراف: 31)۔ اسراف صرف خرچ کرنے کا فقہی مسئلہ نہیں بلکہ تکوینی لحاظ سے وسائل کی بربادی کا قانون ہے، جس کا لازمی نتیجہ محرومی اور اجتماعی زوال ہے۔
تکوینی مستحب وہ اعمال ہیں جو انسان کی صلاحیتوں کو مزید نکھارتے اور اس کے وجود کو زیادہ کامل بناتے ہیں، اگرچہ ان کے بغیر اصل بقا ممکن ہو۔ قرآن میں سابقین بالخیرات، احسان، انفاق، عفو، صبر، شکر اور تدبر کی مسلسل ترغیب اسی درجے کے اعمال کو ظاہر کرتی ہے۔ مثلاً “وَأَحْسِنُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ” (البقرہ: 195)۔ احسان ہر موقع پر فقہی واجب نہیں، مگر تکوینی طور پر انسانی شخصیت کو بلند کرتا ہے۔
تکوینی مکروہ وہ امور ہیں جو انسان کے کمال کو سست کر دیتے ہیں، اگرچہ وہ فوری تباہی کا سبب نہ بنیں۔ غفلت، سستی، بے مقصد زندگی، وقت کا ضیاع اور صلاحیتوں کو منجمد کر دینا اسی نوعیت کی مثالیں ہیں۔ قرآن بار بار غافلین کی مذمت کرتا ہے: “وَلَا تَكُن مِّنَ الْغَافِلِينَ” (الأعراف: 205)۔ غفلت ہر مقام پر فقہی حرام نہیں، لیکن تکوینی اعتبار سے یہ روحانی اور فکری انحطاط کا آغاز ہے۔
عقلی واجب اس عمل کو کہا جاتا ہے جسے صحیح عقل لازمی قرار دے۔ اسلامی اصولِ فقہ میں خود “حکمِ عقل” کو ایک معتبر بنیاد مانا گیا ہے، اور مشہور قاعدہ ہے: “كلما حكم به العقل حكم به الشرع”، یعنی جس چیز کا قطعی حکم عقل دے، شریعت بھی اس کی تائید کرتی ہے، اگرچہ ہر عقلی حکم فقہی اصطلاح میں واجب نہیں بن جاتا۔ قرآن بار بار عقل کو مخاطب کرتا ہے: “أَفَلَا تَعْقِلُونَ”، “لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ”، “لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ”۔ یہ آیات محض علمی دعوت نہیں بلکہ عقل کے استعمال کو انسانی ذمہ داری قرار دیتی ہیں۔ لہٰذا تحقیق کرنا، حقیقت کی تلاش کرنا، دلیل کو قبول کرنا اور تعصب سے بچنا عقلی واجبات ہیں۔
عقلی حرام وہ امور ہیں جنہیں عقل بذاتِ خود قبیح قرار دیتی ہے، جیسے جان بوجھ کر جہالت اختیار کرنا، واضح دلیل کے باوجود انکار کرنا، حق کو پہچان کر اس سے اعراض کرنا یا اپنے اختیار کو ضائع کرنا۔ قرآن میں فرعون، نمرود اور ابوجہل کا مسئلہ صرف فقہی مخالفت نہیں بلکہ عقلی انحراف بھی تھا۔ انہوں نے حقیقت کو پہچاننے کے باوجود تکبر کی وجہ سے رد کیا۔
اخلاقی واجب وہ عمل ہے جو انسان کے کردار کی تکمیل کے لیے ضروری ہو۔ قرآن نے رسول اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کا ایک مقصد تزکیۂ نفس بتایا: “يُزَكِّيهِمْ”۔ تزکیہ صرف فقہی احکام پر عمل کرنے سے مکمل نہیں ہوتا بلکہ صبر، حلم، تواضع، عدل، امانت، وفا، شکر، حیا اور حسنِ خلق سے ہوتا ہے۔ امام علیؑ فرماتے ہیں: “رأسُ الأخلاقِ حسنُ الخلق۔” حسنِ خلق ہر موقع پر فقہی واجب نہیں، لیکن اخلاقی اعتبار سے انسانی کمال کی بنیاد ہے۔
اخلاقی حرام وہ صفات ہیں جو شخصیت کو اندر سے تباہ کرتی ہیں، جیسے حسد، تکبر، بخل، ریا، کینہ، غرور اور قساوتِ قلب۔ ان میں سے بعض صفات فقہی حرام کے درجے تک پہنچ سکتی ہیں، لیکن ان کی اخلاقی قباحت اس سے کہیں وسیع ہے۔ رسول اللہ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: “إنما بُعثتُ لأتمم مكارم الأخلاق۔” اس سے معلوم ہوتا ہے کہ رسالت کا مقصد صرف فقہی نظام نافذ کرنا نہیں بلکہ اخلاقی کمال تک پہنچانا بھی ہے۔
وجودی واجب سب سے عمیق درجہ ہے۔ اس سے مراد وہ اعمال ہیں جو انسان کو اس کی حقیقی تخلیقی غایت تک پہنچانے کے لیے ضروری ہوں۔ قرآن کہتا ہے: “يَا أَيُّهَا الْإِنسَانُ إِنَّكَ كَادِحٌ إِلَىٰ رَبِّكَ كَدْحًا فَمُلَاقِيهِ” (الانشقاق: 6)۔ یہاں پوری انسانی زندگی کو خدا کی طرف سفر قرار دیا گیا ہے۔ اس سفر میں اپنے وجود کی تعمیر، استعدادوں کی نشوونما، معرفت، اخلاص اور قربِ الٰہی کی جستجو وجودی واجبات ہیں۔ ان کے بغیر انسان اپنی تخلیق کے مقصد سے محروم رہ جاتا ہے، اگرچہ اس نے تمام فقہی واجبات ادا کیے ہوں۔
وجودی حرام وہ چیز ہے جو انسان کو اس کی اصل حقیقت سے دور کر دے۔ قرآن میں آیا ہے: “وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ نَسُوا اللَّهَ فَأَنسَاهُمْ أَنفُسَهُمْ” (الحشر: 19)۔ یہ آیت نہایت گہری ہے۔ خدا کو بھولنے کا نتیجہ یہ بتایا کہ انسان خود اپنے آپ کو بھول جاتا ہے۔ یہ صرف فقہی معصیت نہیں بلکہ وجودی تباہی ہے۔ اسی طرح امیر المؤمنین علیؑ کا مشہور فرمان ہے: “مَنْ عَرَفَ نَفْسَهُ فَقَدْ عَرَفَ رَبَّهُ۔” اس کا مفہوم یہ ہے کہ خود شناسی وجودی کمال کا راستہ ہے، اور خود فراموشی وجودی زوال۔
اہل بیتؑ کی روایات میں نعمتوں کے ضائع کرنے کی شدید مذمت بھی اسی وجودی اور تکوینی منطق پر مبنی ہے۔ امام موسیٰ کاظمؑ سے منقول ہے: “إن لله على الناس حجتين؛ حجة ظاهرة وحجة باطنة، فأما الظاهرة فالرسل والأنبياء والأئمة، وأما الباطنة فالعقول۔” اس روایت سے واضح ہوتا ہے کہ انسان صرف ظاہری شریعت کا مکلف نہیں بلکہ اپنی عقل کے تقاضوں کا بھی جواب دہ ہے۔ اسی طرح امیر المؤمنینؑ کا فرمان ہے: “الفرصة تمر مر السحاب فانتهزوا فرص الخير۔” یعنی مواقع بادلوں کی طرح گزر جاتے ہیں، لہٰذا خیر کے مواقع سے فائدہ اٹھاؤ۔ یہ فقہی فتویٰ نہیں بلکہ وجودی اور تکوینی ہدایت ہے کہ موقع ضائع کرنا اپنے کمال کو ضائع کرنا ہے۔
ان تمام دلائل کو جمع کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کا نظامِ ہدایت صرف “فقہی احکام” پر مشتمل نہیں بلکہ ایک جامع نظام ہے جس میں تشریعی، تکوینی، عقلی، اخلاقی اور وجودی جہات ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں۔ فقہ انسان کو کم از کم مطلوب شرعی سطح تک پہنچاتی ہے، جبکہ عقل اسے صحیح فیصلوں کی طرف، اخلاق اسے حسنِ کردار کی طرف، تکوین اسے سنتِ الٰہیہ کے مطابق نتائج کی طرف، اور وجودی ہدایت اسے اس مقصدِ تخلیق کی طرف لے جاتی ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: “وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ” (الذاریات: 56)۔ اس آیت میں عبادت کو اگر اس کے وسیع قرآنی مفہوم، یعنی خدا کی معرفت، اطاعت اور قرب کے سفر کے طور پر سمجھا جائے، تو انسانی زندگی کے یہ تمام غیر فقہی واجبات اسی غایت کے مختلف مظاہر بن جاتے ہیں۔
اگر اس پر منظم علمی کام کیا جائے تو فقہ، اصولِ فقہ، اخلاق، تفسیر، کلام، عرفان، حکمت اور علومِ انسانی کے باہمی تعلق کو ایک نئے زاویے سے سمجھا جا سکتا ہے۔ البتہ ابتدا ہی میں ایک اصولی نکتہ واضح رہنا چاہیے کہ “تکوینی واجب”، “وجودی حرام” یا “اخلاقی مستحب” جیسی اصطلاحات کلاسیکی فقہ کی متفق علیہ اصطلاحات نہیں ہیں، بلکہ یہ فلسفہ، اخلاق، عرفان اور قرآنی ہدایت کے مختلف پہلوؤں کو منظم انداز میں بیان کرنے کے لیے استعمال کی جا سکتی ہیں۔ اس لیے انہیں روایتی “حکمِ شرعی” کے مساوی قرار دینے کے بجائے “ہدایت کے مختلف مدارج” کے طور پر سمجھنا زیادہ علمی احتیاط کا تقاضا ہے۔
اسلام کو اگر صرف فقہی احکام تک محدود کر دیا جائے تو انسان کا ایک محدود حصہ ہی زیرِ تربیت آتا ہے، جبکہ قرآن انسان کے پورے وجود کو مخاطب کرتا ہے۔ قرآن صرف یہ نہیں پوچھتا کہ تم نے نماز پڑھی یا نہیں، بلکہ یہ بھی پوچھتا ہے کہ تم نے عقل کیوں استعمال نہیں کی، تم نے زمین میں غور کیوں نہیں کیا، تم نے اپنے نفس کا تزکیہ کیوں نہیں کیا، تم نے تاریخ سے عبرت کیوں حاصل نہیں کی، تم نے عدل کیوں قائم نہیں کیا، تم نے نعمتوں کی قدر کیوں نہیں کی، تم نے وقت کیوں ضائع کیا، تم نے اپنے دل کو کیوں مردہ ہونے دیا، تم نے اپنی استعدادوں کو کیوں دفن کر دیا۔ ان میں سے بہت سے سوالات ایسے ہیں جن کا جواب کسی فقہی رسالے میں بطور مستقل باب موجود نہیں ہوتا، لیکن قرآن انہیں انسانی ذمہ داری قرار دیتا ہے۔
اسی لیے ایک مسلمان یا مومن کے لیے ان تمام جہات کو جاننا ضروری ہے، کیونکہ قرآن نے انسان کو صرف “مکلَّف” نہیں بلکہ “خلیفۃ اللہ”، “عبد”، “مزکّٰی”، “عاقل”، “متفکر”، “متدبر”، “شاہد” اور “مصلح” بننے کی دعوت دی ہے۔ اگر کوئی شخص صرف فقہی واجبات ادا کرتا رہے لیکن اپنی عقل کو معطل رکھے، اپنی اخلاقی شخصیت کو نہ سنوارے، اپنی روح کی تربیت نہ کرے، اپنی صلاحیتوں کو ضائع کر دے اور معاشرے میں فساد پھیلنے دے، تو وہ ممکن ہے فقہی اعتبار سے بہت سے گناہوں سے بچ جائے، لیکن قرآن کے وسیع تر تصورِ ہدایت سے بہت پیچھے رہ جائے۔ اسی حقیقت کی طرف قرآن نے اشارہ کیا ہے: “﴿قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّاهَا﴾”۔ یہاں نجات کا معیار صرف فقہی التزام نہیں بلکہ تزکیۂ نفس قرار دیا گیا ہے۔
اہل بیت علیہم السلام کی روایات بھی اسی جامع تصور کی تائید کرتی ہیں۔ امیر المؤمنینؑ نے فرمایا: “قِيمَةُ كُلِّ امْرِئٍ مَا يُحْسِنُهُ۔”یعنی انسان کی قدر اس چیز سے ہے جس میں وہ مہارت پیدا کرتا ہے۔ یہ فقہی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی کمال کا معیار ہے۔ امام جعفر صادقؑ سے منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دو حجتیں قائم کی ہیں: ایک ظاہری یعنی انبیاء و ائمہ، اور ایک باطنی یعنی عقل۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ مسلمان کی ذمہ داری صرف ظاہری احکام کی پیروی نہیں بلکہ عقل کی حجیت کا احترام بھی ہے۔
یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا موجودہ فقہی قواعد اور اصول، قرآن و اہل بیتؑ کی ان تمام تکوینی، عقلی، اخلاقی اور وجودی تعلیمات کا مکمل احاطہ کرتے ہیں؟
اگر “فقہ” سے مراد روایتی اصطلاحی فقہ ہے، تو اس کا جواب نفی میں ہے۔ اس کی وجہ فقہ کی کمی نہیں بلکہ فقہ کا موضوع ہے۔ فقہ کا موضوع “افعالِ مکلّفین من حیث الأحكام الشرعية” ہے، یعنی مکلف کے افعال اس حیثیت سے کہ ان پر شرعی حکم کیا ہے۔ فقہ کا مقصد یہ نہیں کہ وہ انسانی شخصیت، تہذیب، نفسیات، تمدن، تاریخ، معرفت، روحانیت، صلاحیتوں کی نشوونما، یا اجتماعی ارتقا کے تمام قوانین کو بیان کرے۔ اس لیے اگر کوئی شخص فقہ سے یہ توقع کرے کہ وہ قرآن کے ہر ہدایتی پہلو کا احاطہ کرے، تو وہ فقہ پر ایسا بوجھ ڈال رہا ہے جو اس کے اصل موضوع سے باہر ہے۔
البتہ اگر “فقہ” کو اس کے لغوی اور وسیع قرآنی مفہوم میں لیا جائے، یعنی دین کی گہری سمجھ، تو پھر قرآن یقیناً ان تمام جہات کو شامل کرتا ہے۔ اسی لیے قرآن میں لفظ “فقہ” صرف طہارت، نماز اور تجارت کے لیے استعمال نہیں ہوا بلکہ دین کی مجموعی بصیرت کے لیے آیا ہے: “﴿لِّيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ﴾”۔ اس آیت میں “دین” صرف فقہی احکام نہیں بلکہ پورا دین ہے۔
اسی بنا پر کہا جا سکتا ہے کہ ہمیں “فقہ” اور “ہدایت” میں فرق کرنا چاہیے۔ ہر فقہی حکم ہدایت ہے، لیکن ہر ہدایت فقہی حکم نہیں ہے۔ قرآن میں بہت سی ہدایات ایسی ہیں جو قانون (Law) نہیں بلکہ سنت (Pattern)، حکمت (Wisdom)، اخلاق (Ethics)، تزکیہ (Purification)، معرفت (Knowledge) اور تکوین (Creation) کے دائرے سے تعلق رکھتی ہیں۔ مثال کے طور پر “﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنفُسِهِمْ﴾” کوئی فقہی قانون نہیں بلکہ اجتماعی تبدیلی کا تکوینی قانون ہے۔ “﴿أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ﴾” فقہی باب نہیں بلکہ معرفتی دعوت ہے۔ “﴿وَاعْتَبِرُوا يَا أُولِي الْأَبْصَارِ﴾” تاریخی شعور کی تعلیم ہے۔ “﴿فَامْشُوا فِي مَنَاكِبِهَا﴾” انسانی جدوجہد کی طرف رہنمائی ہے۔ ان سب کو صرف فقہی ابواب میں سمو دینا ان کے اصل مقصد کو محدود کر دے گا۔
یہ بھی درست نہیں ہوگا کہ ان تمام ہدایات کو نظر انداز کر دیا جائے۔ بہتر راستہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ فقہی رسائل اپنی موجودہ حیثیت میں شرعی احکام ہی پر مشتمل رہیں، جبکہ ان کے ساتھ ایک دوسرا علمی ذخیرہ مرتب کیا جائے جو قرآن و اہل بیتؑ کی غیر فقہی مگر الزامی نوعیت کی ہدایات کو منظم انداز میں پیش کرے۔ اس کے لیے “فقہ التزکیہ”،”فقہ السنن الإلهية”، “فقہ العمران”، “فقہ الاستخلاف”، “فقہ العقل”، “فقہ الأخلاق” یا “فقہ الكمال” جیسے علمی شعبوں پر کام کیا جا سکتا ہے۔ یہاں “فقہ” سے مراد اصطلاحی فتویٰ نہیں بلکہ دین کی منظم فہم ہوگی۔
استنباط کا طریقہ بھی روایتی اصولِ فقہ سے کچھ وسیع ہوگا۔ یہاں صرف اوامر و نواہی سے حکم اخذ نہیں کیا جائے گا بلکہ قرآن کے عمومی مقاصد، سننِ الٰہیہ، علتوں، تکرارِ موضوع، قرآنی اقدار، اہل بیتؑ کی تربیتی روایات، عقلِ قطعی اور انسانی فطرت کو بھی ایک منظم اصولی نظام کے تحت جمع کرنا ہوگا۔ مثال کے طور پر اگر قرآن مختلف مقامات پر بار بار تدبر، تعقل، تزکیہ، عدل، احسان، شکر، امانت، وفائے عہد، اصلاح، عمرانِ ارض، اور استعدادوں کے صحیح استعمال کی دعوت دیتا ہے، تو یہ محض منتشر نصوص نہیں بلکہ ایک مستقل “نظامِ ہدایت” کی تشکیل کرتے ہیں۔ ان نصوص کا موضوعی استقراء (thematic induction) کر کے عمومی قواعد اخذ کیے جا سکتے ہیں، جیسے اصولِ فقہ میں مختلف نصوص سے قواعدِ فقہیہ اخذ کیے جاتے ہیں۔
مستقبل میں ایک ایسا جامع علمی منصوبہ نہایت مفید ہوگا جس میں احکام کو کم از کم پانچ بڑے دائروں میں مرتب کیا جائے: تشریعی احکام، جو فقہ کا روایتی میدان ہیں؛ تکوینی ہدایات، جو سننِ الٰہیہ اور نظامِ اسباب و مسببات سے متعلق ہیں؛ عقلی ہدایات، جو عقلِ قطعی اور برہان سے متعلق ہیں؛ اخلاقی ہدایات، جو تزکیۂ نفس اور مکارمِ اخلاق کا نظام بناتی ہیں؛ اور وجودی یا کمالی ہدایات، جو انسان کے مقصدِ تخلیق، خلافتِ الٰہیہ اور قربِ الٰہی سے متعلق ہیں۔
اس طرح نہ فقہ کا دائرہ غیر ضروری طور پر پھیلے گا، نہ قرآن کی جامع ہدایت محدود ہوگی۔ بلکہ دین کی وہ جامع تصویر سامنے آئے گی جس میں فقہ اپنی اصل جگہ پر رہے گی، جبکہ عقل، اخلاق، تکوین، تزکیہ اور کمالِ انسانی بھی اپنی حقیقی اہمیت کے ساتھ ظاہر ہوں گے۔ یہی ترتیب قرآن کے مجموعی اسلوب سے زیادہ ہم آہنگ معلوم ہوتی ہے، جہاں قانون، حکمت، اخلاق، تاریخ، فطرت اور تکوین ایک دوسرے سے جدا نہیں بلکہ ایک ہی نظامِ ہدایت کے مختلف مظاہر ہیں۔
