1

*عزاداری کیسی ہو؟ قرآن اور سیرتِ اہل بیتؑ کی روشنی میں*

  • نیوز کوڈ : 3171
  • 12 July 2026 - 21:45
*عزاداری کیسی ہو؟ قرآن اور سیرتِ اہل بیتؑ کی روشنی میں*

*عزاداری کیسی ہو؟ قرآن اور سیرتِ اہل بیتؑ کی روشنی میں*

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔

حریر : سید جہانزیب عابدی

انسان کی فطرت میں محبت، وابستگی اور غم رکھے گئے ہیں۔ جب کوئی عزیز دنیا سے رخصت ہوتا ہے تو دل رنجیدہ ہوتا ہے، آنکھیں اشکبار ہوتی ہیں اور انسان اپنے دکھ کا اظہار کرتا ہے۔ اسلام نے اس فطری کیفیت کو ختم کرنے کی کوشش نہیں کی بلکہ اسے ایمان، عقل اور وقار کے ساتھ منظم کیا ہے۔ اسی لیے قرآن مجید ایک طرف صبر، رضا اور اللہ کی طرف رجوع کی تعلیم دیتا ہے اور دوسری طرف انبیاء علیہم السلام کی زندگی میں غم، گریہ اور فراق کے مناظر بھی بیان کرتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کا مقصد غم کو دبانا نہیں بلکہ اسے صحیح رخ دینا ہے۔

قرآن مجید میں حضرت یعقوبؑ کا واقعہ اس حقیقت کی سب سے روشن مثال ہے۔ حضرت یوسفؑ کی جدائی میں آپؑ اتنا روئے کہ قرآن فرماتا ہے: ﴿وَابْيَضَّتْ عَيْنَاهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِيمٌ﴾ (سورۂ یوسف: 84) یعنی غم کی شدت سے ان کی آنکھیں سفید ہوگئیں، مگر وہ اپنے غم کو ضبط کیے ہوئے تھے۔ اگر محض رونا یا شدید غم کا اظہار شریعت کے خلاف ہوتا تو اللہ تعالیٰ اپنے برگزیدہ نبی کا یہ واقعہ بطور نمونہ بیان نہ کرتا۔ اسی طرح رسول اللہ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے اپنے فرزند حضرت ابراہیمؑ کی وفات پر گریہ فرمایا اور ارشاد کیا کہ آنکھیں اشکبار ہیں، دل غمگین ہے، مگر زبان سے وہی بات نکلے گی جو اللہ کو پسند ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ گریہ اور حزن ایمان کے خلاف نہیں بلکہ فطری اور جائز ہیں، بشرطیکہ وہ اللہ کی رضا کے خلاف نہ ہوں۔

قرآن مجید مصیبت کے وقت مومن کی بنیادی روش بھی بیان کرتا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: ﴿الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ﴾ (سورۂ بقرہ: 156)۔ اس آیت میں سوگ کی نفی نہیں بلکہ اس کے روحانی رخ کی تعلیم دی گئی ہے۔ مومن جانتا ہے کہ ہر چیز اللہ کی ہے اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے، اس لیے وہ غم کو بے صبری، کفرانِ نعمت یا تقدیر پر اعتراض میں تبدیل نہیں کرتا۔

یہاں ایک اہم فرق سمجھنا ضروری ہے۔ ایک چیز شائستہ اور باوقار سوگ ہے، جس میں گریہ، حزن، دعا، قرآن خوانی، میت کی یاد، اس کے مشن کو زندہ رکھنا اور اس کے لیے ایصالِ ثواب شامل ہو۔ دوسری چیز ایسا طرزِ عمل ہے جو انسان کو بے اختیار کرکے اللہ کے فیصلے پر اعتراض، خود کو نقصان پہنچانے یا جاہلی رسوم کی طرف لے جائے۔ متعدد احادیث میں رخسار پیٹنے، جاہلیت کے انداز میں نوحہ کرنے، گریبان چاک کرنے یا ایسے افعال کی مذمت اسی تناظر میں آئی ہے، یعنی جب وہ اللہ کے حکم پر بے صبری، احتجاج یا جاہلی طرزِ فکر کی علامت بن جائیں۔ قرآن نے ان افعال کا الگ الگ نام لے کر حکم نہیں دیا، لیکن اس نے صبر، تقویٰ، اعتدال اور نفس کو ہلاکت میں نہ ڈالنے کے اصول ضرور بیان کیے ہیں، جن کی روشنی میں فقہاء نے ان روایات کو سمجھا ہے۔

اگر مرنے والی شخصیت ایک عام فرد نہیں بلکہ اللہ کی برگزیدہ ہستی، نبی، وصی یا امام ہو تو سوگ کی نوعیت مزید گہری ہوجاتی ہے، کیونکہ اس صورت میں صرف ایک عزیز انسان کی جدائی نہیں بلکہ ہدایت، عدل اور الٰہی مشن پر حملے کا غم بھی شامل ہوتا ہے۔ قرآن مجید اہل ایمان کو رسول اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم  سے غیر معمولی محبت کا حکم دیتا ہے: ﴿النَّبِيُّ أَوْلَىٰ بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنفُسِهِمْ﴾ (سورۂ احزاب: 6)۔ جب رسول اللہ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم  مومنین کی جانوں سے بھی زیادہ حق رکھتے ہیں تو ان سے وابستہ اہل بیتؑ سے محبت اور ان کے مصائب پر رنج و الم بھی محض جذباتی کیفیت نہیں بلکہ ایمانی تعلق کا حصہ بن جاتا ہے۔

اہل بیتؑ کی سیرت میں خصوصاً واقعۂ کربلا کے بعد مسلسل یادِ امام حسینؑ، گریہ، مجالسِ عزا اور مصیبت کے تذکرے ملتے ہیں۔ امام زین العابدینؑ کا طویل عرصہ گریہ کرنا، امام محمد باقرؑ اور امام جعفر صادقؑ کا امام حسینؑ کی مصیبت یاد دلانا، شعراء سے مرثیہ سننا اور گریہ کی ترغیب دینا شیعہ حدیثی مصادر میں نقل ہوا ہے۔ اس بنا پر فقہِ جعفری میں اصل مطلوب یہ ہے کہ عزاداری انسان کو اہل بیتؑ کے مقصد، ظلم کے خلاف قیام، عدل، تقویٰ اور اللہ کی اطاعت کے قریب لے جائے، نہ کہ محض ایک جذباتی رسم بن جائے۔

ایک روایت بیان کی جاتی ہے، یعنی ایک عیسائی کے خواب دیکھنے، اس کے بعد اس کے شیعہ ہونے، اور پھر امام زین العابدین علیہ السلام کا اپنا سر دیوار یا ستون سے اس قدر ٹکرانا کہ خون جاری ہو گیا، یہ روایت عوامی مجالس اور بعض مقاتل میں بیان کی جاتی ہے، لیکن حدیثی تحقیق کے معیار پر اس کی حیثیت نہایت کمزور ہے۔

قدیم اور بنیادی شیعہ حدیثی مصادر، جیسے الکافی، من لا يحضره الفقيه، تہذيب الأحكام، الاستبصار، كامل الزيارات اور دیگر اولین مصادر میں اس واقعے کی کوئی معتبر سند دستیاب نہیں۔ اسی طرح ابتدائی تاریخی کتبِ مقتل، مثلاً مقتل أبي مخنف (جس کا اصل نسخہ بھی محفوظ نہیں)، یا قدیم مستند تاریخی آثار میں بھی یہ واقعہ اس تفصیل کے ساتھ ثابت نہیں ہوتا۔ یہ روایت زیادہ تر متاخر زمانے کی بعض مجالس، مرثیہ نگاروں اور غیر مسند مقتل نگاری میں نقل ہوئی ہے، جہاں اس کے لیے یا تو کوئی سند ذکر نہیں کی جاتی یا ایسی سند ذکر کی جاتی ہے جو علمِ رجال کے معیار پر قابلِ اعتماد نہیں سمجھی جاتی۔

علمِ حدیث کے اصول کے مطابق کسی روایت کی حجیت کے لیے صرف اس کا جذباتی یا مقبول ہونا کافی نہیں ہوتا بلکہ اس کی سند، راویوں کی وثاقت، متن کی صحت اور قرآن و سنتِ قطعیہ سے موافقت بھی دیکھی جاتی ہے۔ اگر کوئی روایت بغیر سند ہو، منقطع ہو، مجہول راویوں پر مشتمل ہو یا بہت بعد کے زمانے میں پہلی مرتبہ ظاہر ہوئی ہو تو اسے عقیدہ یا سنتِ معصومؑ کے اثبات کے لیے بنیاد نہیں بنایا جاتا۔

قرآن مجید نے مومن کے لیے مصیبت کے وقت جو اصول بیان کیے ہیں، وہ نہایت واضح ہیں۔

قرآن اور اہل بیتؑ کی مجموعی تعلیمات سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ مومن کی زندگی میں صبر اور غم ایک دوسرے کی ضد نہیں ہیں۔ صبر کا مطلب یہ نہیں کہ انسان نہ روئے، نہ غم محسوس کرے اور نہ اپنے محبوب کی یاد منائے، بلکہ صبر کا مطلب یہ ہے کہ غم کے باوجود اللہ پر ایمان، اس کی حکمت پر اعتماد اور اس کے دین سے وابستگی باقی رہے۔ اسی طرح عزاداری کا مقصد صرف آنسو بہانا نہیں بلکہ اس ہستی کے مقصد کو اپنی زندگی میں زندہ کرنا ہے جس کے لیے آنسو بہائے جا رہے ہیں۔ اگر سوگ انسان کو حق کی طرف لے جائے، ظلم سے نفرت پیدا کرے، تقویٰ میں اضافہ کرے اور الٰہی اقدار کو زندہ کرے تو وہ محض ایک جذباتی عمل نہیں رہتا بلکہ عبادت اور شعائرِ الٰہی کی تعظیم کا ذریعہ بن جاتا ہے۔

لہٰذا قرآن اور سیرتِ اہل بیتؑ کی روشنی میں ایک مومن کی متوازن روش یہی ہے کہ وہ اپنے محبوب کی جدائی پر دل سے غمگین ہو، آنسو بہائے، اس کے فضائل اور مشن کو زندہ رکھے، اللہ کی بارگاہ میں دعا کرے، صبر و رضا کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑے، اور اپنے ہر اظہارِ غم کو ایمان، وقار، حکمت اور دین کی سربلندی کے تابع رکھے۔ یہی وہ راستہ ہے جس میں انسانی فطرت، قرآنی ہدایت اور اہل بیتؑ کی سیرت باہم ہم آہنگ نظر آتی ہیں۔

قرآن مجید اور اہل بیتؑ کی معتبر روایات میں ان مخصوص اعمال (زنجیر زنی، قمہ زنی، تطبیر) کا نام لے کر کوئی صریح حکم موجود نہیں، کیونکہ یہ بعد کے ادوار میں رائج ہونے والی مخصوص شکلیں ہیں۔ اس لیے یہ کہنا کہ “ثقلین نے ان کی واضح تائید کی ہے” یا “ثقلین نے ان کی واضح ممانعت کی ہے”، تاریخی و علمی اعتبار سے درست دعویٰ نہیں ہوگا۔ ان اعمال کے بارے میں مختلف فقہی نتائج عمومی قرآنی و حدیثی اصولوں سے اخذ کیے گئے ہیں، نہ کہ کسی صریح نص سے۔

 قرآن غم کو بے راہ روی، جذباتی انتشار یا خود کو نقصان پہنچانے کا ذریعہ نہیں بناتا بلکہ اسے صبر، استقامت، شعور، بندگی اور حق کے ساتھ وابستگی میں تبدیل کرتا ہے۔ یہی وہ اصول ہے جو پورے قرآن اور اہل بیت علیہم السلام کی سیرت میں مسلسل نظر آتا ہے۔

قرآن مجید نے بار بار مصیبتوں کے موقع پر صبر اختیار کرنے کی تلقین فرمائی ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ﴿وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ ۝ الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ۝ أُولَٰئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِّن رَّبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ﴾ (البقرۃ: 155-157)۔ ان آیات میں مصیبت کے انکار کی تعلیم نہیں دی گئی بلکہ مصیبت کے مقابلے میں مومن کی کیفیت بیان کی گئی ہے۔ وہ غمگین ہوتا ہے مگر اللہ کے فیصلے پر اعتراض نہیں کرتا، وہ روتا ہے مگر اپنے ایمان کو متزلزل نہیں ہونے دیتا، وہ محبوب کی جدائی محسوس کرتا ہے مگر اللہ کی طرف رجوع کو نہیں بھولتا۔

اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَاصْبِرْ وَمَا صَبْرُكَ إِلَّا بِاللَّهِ﴾ (النحل: 127) اور فرمایا: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اصْبِرُوا وَصَابِرُوا وَرَابِطُوا﴾ (آل عمران: 200)۔ ان آیات میں صبر کو کمزوری نہیں بلکہ ایک فعال قوت، استقامت اور حق پر ثابت قدمی کے طور پر پیش کیا گیا ہے، خصوصاً ایسے حالات میں جب اہل حق ظلم و ستم کا شکار ہوں۔

حضرت یعقوب علیہ السلام کی زندگی بھی اسی حقیقت کو واضح کرتی ہے۔ قرآن فرماتا ہے: ﴿وَابْيَضَّتْ عَيْنَاهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِيمٌ﴾ (یوسف: 84)۔ آپؑ نے حضرت یوسفؑ کی جدائی میں مسلسل گریہ کیا، مگر اس غم نے انہیں اللہ سے دور نہیں کیا۔ بلکہ انہوں نے فرمایا: ﴿إِنَّمَا أَشْكُو بَثِّي وَحُزْنِي إِلَى اللَّهِ﴾ (یوسف: 86) یعنی میں اپنا دکھ اور اپنا غم صرف اللہ کے سامنے پیش کرتا ہوں۔ یہ آیت مومن کو یہ سکھاتی ہے کہ غم کا صحیح رخ اللہ کی بارگاہ ہے، نہ کہ بے قابو جذبات یا اللہ کی تقدیر پر اعتراض۔

اہل بیت علیہم السلام کی سیرت بھی اسی قرآنی تعلیم کی عملی تفسیر ہے۔ واقعۂ کربلا کے بعد امام زین العابدین علیہ السلام نے اپنے والد امام حسین علیہ السلام پر طویل عرصہ گریہ فرمایا۔ جب آپؑ سے اس گریہ کی وجہ پوچھی گئی تو آپؑ نے حضرت یعقوبؑ کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ انہوں نے صرف ایک بیٹے کی جدائی میں اتنا گریہ کیا کہ ان کی آنکھیں سفید ہوگئیں، جبکہ میں نے اپنے باپ، اپنے بھائیوں، اپنے چچاؤں اور اپنے اہل بیت کو ایک ہی دن میں شہید ہوتے دیکھا ہے، پھر میرا غم کیسے ختم ہو سکتا ہے۔ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل بیتؑ نے گریہ کو محبت، وفاداری اور ظلم کے خلاف شعور کی علامت قرار دیا۔

امام محمد باقر علیہ السلام اور امام جعفر صادق علیہ السلام سے بھی متعدد روایات منقول ہیں جن میں امام حسین علیہ السلام کی مصیبت یاد کرنے، دوسروں کو یاد دلانے، مرثیہ پڑھنے، مرثیہ سننے اور گریہ کرنے یا گریہ کی کیفیت پیدا کرنے کی فضیلت بیان ہوئی ہے۔ ان روایات کا مشترک پیغام یہ ہے کہ عزاداری کا مقصد امام حسینؑ کے مقصد کو زندہ رکھنا، ظلم سے نفرت پیدا کرنا، ولایت سے وابستگی مضبوط کرنا اور اللہ کی اطاعت میں اضافہ کرنا ہے۔

اسی کے ساتھ اہل بیت علیہم السلام کی پوری سیرت کا مطالعہ کیا جائے تو ایک حقیقت نہایت واضح طور پر سامنے آتی ہے کہ انہوں نے اپنے شدید ترین مصائب کے باوجود صبر، وقار، عبادت، دعا، تبلیغ، اصلاحِ امت اور حق کے اظہار کو ترک نہیں کیا۔ حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے خطبات، امام زین العابدین علیہ السلام کی دعائیں، امام محمد باقر علیہ السلام اور امام جعفر صادق علیہ السلام کی علمی جدوجہد اس بات کی روشن دلیل ہیں کہ حقیقی عزاداری انسان کو شعور، تقویٰ، صبر اور ذمہ داری کی طرف لے جاتی ہے، نہ کہ بے قابو جذبات کی طرف۔

قرآن مجید ایک اور اصول بیان کرتا ہے: ﴿وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ﴾ (البقرۃ: 195) یعنی اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔ اسی طرح فرمایا: ﴿وَلَا تَقْتُلُوا أَنفُسَكُمْ﴾ (النساء: 29) یعنی اپنے آپ کو ہلاک نہ کرو۔ یہ عمومی اصول ہر مومن کی زندگی پر لاگو ہوتے ہیں اور انسان کو اپنی جان اور جسم کے بارے میں ذمہ داری کا احساس دلاتے ہیں۔

قرآن اور اہل بیت علیہم السلام کی سیرت کا مجموعی مطالعہ یہ بھی بتاتا ہے کہ عزاداری کی اصل صورت گریہ، دعا، ذکرِ مصائب، مرثیہ، زیارت، اہل بیتؑ کی تعلیمات کی تبلیغ، ظلم سے براءت، شہداء کے مقصد کی تجدید اور اللہ کی اطاعت میں اضافہ ہے۔ یہی اعمال خود معصومینؑ سے ثابت ہیں اور یہی ان کی عملی سنت کا حصہ ہیں۔

جہاں تک زنجیر زنی، قمہ زنی، تطبیر اور اس نوعیت کی دیگر جسمانی رسومات کا تعلق ہے، قرآن مجید میں ان کا کوئی ذکر موجود نہیں اور نہ ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا، امیر المؤمنین علیہ السلام، امام حسن علیہ السلام، امام حسین علیہ السلام، امام زین العابدین علیہ السلام یا دیگر ائمہ اہل بیت علیہم السلام کی سیرت میں ان اعمال کا کوئی ثابت شدہ نمونہ ملتا ہے۔ کسی معتبر تاریخی روایت سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ معصومینؑ نے عزاداری کے اظہار کے طور پر زنجیر زنی، قمہ زنی یا تطبیر اختیار کی ہو یا اپنے اصحاب کو ان مخصوص طریقوں کی تعلیم دی ہو۔ لہٰذا صرف قرآن اور سیرتِ معصومینؑ کی بنیاد پر اتنا کہنا علمی طور پر درست ہے کہ یہ اعمال سیرتِ اہل بیتؑ سے ثابت نہیں ہیں۔

اس کے برعکس جو امور واضح طور پر ثابت ہیں وہ آنسو ہیں، ذکرِ مصائب ہے، مرثیہ ہے، زیارت ہے، دعا ہے، اہل بیتؑ کے مظلومانہ مقام کو بیان کرنا ہے، ظالموں سے براءت کا اظہار ہے اور ان کے مشن کو زندہ رکھنا ہے۔ یہی وہ عزاداری ہے جسے قرآن کے اصولوں اور اہل بیت علیہم السلام کی عملی سیرت سے براہِ راست تائید حاصل ہوتی ہے۔ ایسی عزاداری انسان کو اللہ سے قریب کرتی ہے، اس کے ایمان کو مضبوط کرتی ہے، اسے ظلم کے خلاف کھڑا کرتی ہے اور اسے اہل بیتؑ کے اخلاق، صبر، ایثار اور تقویٰ کو اپنی زندگی میں اختیار کرنے کی دعوت دیتی ہے۔ یہی عزاداری ثقلین کی روح سے سب سے زیادہ ہم آہنگ نظر آتی ہے۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=3171

ٹیگز

تبصرے