48

مشی: قدم در قدم… معرفت کا سفر

  • نیوز کوڈ : 2209
  • 08 August 2025 - 19:42
مشی: قدم در قدم… معرفت کا سفر

انتظار صرف آنکھ اٹھا کر راہ تکنے کا نام نہیں…بلکہ قدم اٹھا کر کربلا کی طرف بڑھنے کا نام ہے

تحریر: سید عمار حیدر زیدی قم ایک طالب علمِ دین، راہِ کربلا سے صراط ٹائمز کے لیے

میں اس وقت کربلا کی طرف رواں دواں ہوں… نجف اشرف کی متبرک خاک سے سیدالشہداءؑ کے درِ وفا تک — ایک ایسا سفر جسے صرف قدموں سے طے نہیں کیا جاتا، بلکہ دل، آنکھیں، زبان اور روح بھی اس میں شریک ہو جاتی ہے۔

یہ مشی محض ایک روایت نہیں، ایک زندگی ہے…یہاں ہر قوم، ہر نسل، ہر زبان، ہر رنگ کے لوگ ایک ہی نعرے میں جُڑے ہوئے ہیں:”لبیک یا حسینؑ“یہ زمین ہر ایک کو اپنے دامن میں سمیٹ رہی ہے — کوئی افریقہ سے آیا ہے، کوئی یورپ سے، کوئی پاکستان سے، کوئی ایران سے یا دنیا کے مختلف ممالک سے… مگر سب کی زبان ایک ہے: عشق کی زبان!یہاں میں نے دیکھا کہ وہ لوگ جو دنیا میں ایک دوسرے کی زبان نہیں سمجھتے، وہ خدمت میں ایک دوسرے کے محتاج نہیں۔ایک عراقی بوڑھی خاتون پاکستانی زائر کو پانی پلاتی ہے، ایک ایرانی جوان کسی نائجیرین بچے کو اپنے ہاتھوں سے کھانا کھلاتا ہے۔

یہ کیسا نظام ہے؟یہ کس کا جمال ہے؟یہ حسینؑ کا جمال ہے…اور شاید اس سے بڑھ کر —یہ امامِ زمانہؑ کی عالمی حکومت کا چھوٹا سا جلوہ ہے!جب آپ اس قافلے میں ہوتے ہیں، تو دل میں ایک آہستہ سی صدا اُبھرتی ہے:”کاش! ہم واقعی امام کے منتظر ہوتے…”اور پھر ضمیر سے جواب آتا ہے:”اگر انتظار سچا ہے، تو اس مشی کی روح کو زندگی کا حصہ بنا لو۔

میں نے اس سفر میں سیکھا کہ انتظار صرف آنکھ اٹھا کر راہ تکنے کا نام نہیں…بلکہ قدم اٹھا کر کربلا کی طرف بڑھنے کا نام ہے —ظلم کے خلاف نفرت،مظلوم کے ساتھ وفا،اور حسینؑ کے پیغام کے ساتھ عملی عہد۔یہاں آ کر اندازہ ہوا کہ اصل حکومت، اصل وحدت، اصل عدل، اصل عشق، وہ ہے جس کا وعدہ امام مہدیؑ کی زبان پر ہے، اور جس کا عکس اس مشی میں ہے۔

اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ میں نے اس سفر میں کیا حاصل کیا؟تو جواب سادہ ہے:۔

میں نے خود کو کھو کر حسینؑ کو پایا،اور حسینؑ کو ذریعے اپنے امام کو محسوس کیا۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=2209

ٹیگز

تبصرے