علمی, فکری جنگ کی اہمیت و افادیت
تحریر : سید جہانزیب عابدی
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔
جہادِ تبیین، یعنی حقائق کو واضح کرنا، فکری اور نظریاتی میدان میں باطل کا مقابلہ کرنا، اسلامی تعلیمات میں انتہائی اہم مقام رکھتا ہے۔ نبی اکرم ﷺ اور ائمہ معصومین علیہم السلام کی سیرت میں ہمیں اس کی بے شمار مثالیں ملتی ہیں، جہاں انھوں نے فکری اور نظریاتی جہاد کو محض عسکری تصادم سے زیادہ اہمیت دی۔ ایک حدیث کے مفہوم کے مطابق، تعلیم و تربیت کا جہاد تلوار کے جہاد پر فوقیت رکھتا ہے۔ اس کا بنیادی فلسفہ یہی ہے کہ تلوار کا جہاد عارضی ہوتا ہے اور مخصوص حالات میں کیا جاتا ہے، جبکہ جہادِ تبیین ہمیشہ جاری رہتا ہے اور پوری انسانی تاریخ پر اثر انداز ہوتا ہے۔
اگر کسی قوم کے عقائد، نظریات اور افکار درست بنیادوں پر استوار ہوں، تو وہ ہر قسم کے چیلنجز کا سامنا کر سکتی ہے، لیکن اگر ذہنی غلامی مسلط کر دی جائے، تو کوئی بھی عسکری طاقت اسے بچا نہیں سکتی۔ اسی لیے قرآن میں بھی حق کے واضح بیان (تبیین) کو انتہائی اہمیت دی گئی ہے، جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے: “وَجَاهِدْهُمْ بِهِ جِهَادًا كَبِيرًا” (اور ان سے قرآن کے ذریعے بڑا جہاد کرو)۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ فکری جنگ، جو دلیل، برہان اور حقائق کی روشنی میں لڑی جاتی ہے، ایک عظیم جہاد ہے جو صرف ایک نسل تک محدود نہیں رہتا بلکہ صدیوں تک اثر رکھتا ہے۔
جہادِ تبیین کی فوقیت اس لیے بھی ہے کہ یہ انسان کی فکری آزادی کو یقینی بناتا ہے۔ اگر فکری اور نظریاتی طور پر ایک انسان غلام بنا دیا جائے، تو وہ خود اپنی بربادی کا سبب بن جاتا ہے، چاہے اس کے پاس عسکری طاقت ہی کیوں نہ ہو۔ امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں: “جب عقل مغلوب ہو جائے تو بدن کا قوی ہونا کسی کام کا نہیں”۔ یعنی اگر نظریاتی اساس کمزور ہو، تو جسمانی طاقت بے معنی ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ استعمار ہمیشہ سب سے پہلے فکری غلامی مسلط کرتا ہے تاکہ تلوار اٹھانے کی نوبت ہی نہ آئے۔
تاریخ گواہ ہے کہ ہر انقلاب اور ہر بڑی تبدیلی کی بنیاد جہادِ تبیین تھا۔ امام حسین علیہ السلام کے قیام کو ہی دیکھ لیں؛ انھوں نے اپنی شہادت سے قبل اپنے خطبات کے ذریعے معاملات کی وضاحت فرمائی۔ یزیدی ظلم کے خلاف تلوار تو بعد میں اٹھائی بلکہ اس سے زیادہ اہم کام وہ یہ کہ اگر ہمشیرہ و فرزند امام حسین ع کے خطبات کے ذریعے تبیین نہ ہوتی، تو آج بھی یزیدی افکار غالب ہوتے, امام سجاد علیہ السلام اور حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے کوفہ و شام میں جو خطبات دیے، وہ تلوار سے زیادہ مؤثر ثابت ہوئے اور تاریخ کا رخ موڑ دیا۔
آج کے دور میں بھی یہی اصول لاگو ہوتا ہے۔ میڈیا، تعلیمی نظام، اور سوشل نیٹ ورکس کے ذریعے ذہنوں کو مسخ کیا جا رہا ہے۔ اگر مسلمان صرف عسکری طاقت پر بھروسا کریں اور فکری و نظریاتی جنگ کو نظر انداز کر دیں، تو وہ ہمیشہ مغلوب رہیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ فکری جہاد کو اصل فوقیت حاصل ہے، کیونکہ یہ بنیاد فراہم کرتا ہے کہ ایک قوم کس سمت میں ترقی کرے گی۔
لہٰذا، جہادِ تبیین محض ایک نظریاتی بحث نہیں، بلکہ یہ وہی جنگ ہے جو تمام جہادوں کی اساس ہے۔ اگر ذہنوں کو آزاد نہ کرایا جائے، اگر سچ کو چھپنے دیا جائے، اگر باطل کے دلائل کا رد نہ کیا جائے، تو ظاہری فتح بھی اندرونی شکست میں بدل جاتی ہے۔ اس لیے تعلیم و تربیت، شعور و آگاہی، اور فکری مزاحمت ہی وہ اصل جہاد ہے جو ایک ملت کی تقدیر کا فیصلہ کرتا ہے۔
جنگ نرم آج کے دور کی سب سے پیچیدہ اور مؤثر جنگ ہے، جس کا میدان نہ سرحدوں پر ہے، نہ توپ و تفنگ کی گھن گرج میں، بلکہ ذہنوں، نظریات اور ثقافتی رویّوں میں ہے۔ یہ وہ جنگ ہے جو الفاظ، تصورات، نظریات، میڈیا، اور تعلیم کے ذریعے لڑی جاتی ہے۔ اس کا مقصد قوموں کی فکری، ثقافتی اور تہذیبی شناخت کو یا تو مضبوط کرنا ہوتا ہے یا انہیں شکست دے کر اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنا۔ جو قوم اس حقیقت کو نہیں سمجھتی، وہ اپنی بقاء کو خطرے میں ڈال دیتی ہے، کیونکہ آج کی دنیا میں طاقتور وہی ہے جو فکری محاذ پر غالب ہو۔
جو لوگ اس جنگ کو حقارت سے “ڈرائنگ روم کا جہاد” کہتے ہیں، وہ یا تو اس کی حقیقت سے نابلد ہیں یا پھر ان کے اندر خود کوئی فکری اور نظریاتی کمزوری ہے۔ وہ یہ نہیں سمجھتے کہ دنیا میں ہونے والی بڑی تبدیلیاں ہمیشہ میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ ذہنوں میں برپا ہوتی ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ نظریات کی طاقت نے تخت الٹائے، سلطنتیں گرائیں، اور نئی تہذیبوں کی بنیاد رکھی۔ قرآن بھی فکری جہاد کو بہت بلند مقام دیتا ہے، جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے: “وَجَاهِدْهُمْ بِهِ جِهَادًا كَبِيرًا” (اور ان سے قرآن کے ذریعے بڑا جہاد کرو)۔ یعنی حق کی وضاحت، باطل کا رد، اور فکری میدان میں دشمن کا مقابلہ ایک عظیم جہاد ہے۔ایسے لوگ جو اس جنگ کی اہمیت کو نہیں سمجھتے اور طعن و طنز کرتے ہیں، درحقیقت ان کے اندر خود کوئی فکری استقامت نہیں ہوتی۔ وہ احساسِ کمتری، بے حسی، یا کسی مخصوص ذہنی جمود میں مبتلا ہوتے ہیں۔ انہیں شاید اس بات کا شعور نہیں کہ آج دنیا میں میڈیا، فلم، نصابِ تعلیم اور سوشل نیٹ ورکس کے ذریعے ذہنوں کو تبدیل کیا جا رہا ہے، اور جو لوگ اس کا ادراک رکھتے ہیں اور اس کے خلاف کام کرتے ہیں، وہی دراصل حقیقی مجاہد ہیں۔ طنز کرنے والے درحقیقت یا تو شعوری طور پر مغلوب ہوچکے ہوتے ہیں یا ان کے اندر خود کچھ کرنے کی صلاحیت نہیں ہوتی، اس لیے وہ ان لوگوں کا مذاق اڑاتے ہیں جو اپنی استطاعت کے مطابق اس میدان میں کام کر رہے ہوتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ نرم جنگ کی نوعیت ہی ایسی ہے کہ ہر شخص، چاہے وہ عالم ہو یا طالب علم، صحافی ہو یا لکھاری، استاد ہو یا فنکار، اپنی صلاحیتوں کے مطابق اس میں اپنا کردار ادا کر سکتا ہے۔ یہی اس کی طاقت ہے اور یہی اس کا سب سے بڑا خطرہ بھی، کیونکہ اگر یہ جنگ نظر انداز کر دی جائے تو قوموں کے عقائد، تہذیب اور اقدار دھیرے دھیرے دشمن کی مرضی کے مطابق ڈھلتے چلے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نرم جنگ کا مقابلہ کرنے والے ہمیشہ تاریخ میں روشن کردار کے حامل ہوتے ہیں، جبکہ ان پر طنز کرنے والے یا تو وقت کے ساتھ بے اثر ہو جاتے ہیں یا خود اسی مغلوبیت کا شکار ہو جاتے ہیں جسے وہ ابتدا میں مذاق سمجھ رہے ہوتے ہیں۔
