بچوں کے نمبرز پر نہیں، شخصیت پر توجہ دیں
علم، اولاد اور مقابلے کا رویہ
امامیہ نوجوان؛ شناخت، کردار اور عصرِ حاضر کے تقاضے
ایرانی عوام شہداء کے خون کا بدلہ لینے کے لیے پرعزم ہیں: آیت اللہ سعیدی
سعودی عرب نے یمن میں 1200 سے زائد مساجد مسمار کر دیں
*مجمعِ طلابِ شگر کے زیرِ اہتمام جشنِ صادقین کی پُروقار محفلِ میلاد*
*مبلغِ دینِ حق مولانا قاضی سید حسین رضا نقوی سرسویؒ — حیات و خدمات*
ایرانی عوام کے اتحاد نے امریکہ اور اسرائیل کو شکست سے دوچار کیا: حزب اللہ کے سربراہ
یہ آیت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ صرف ظاہری دعووں پر اعتماد نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اعمال اور نیتوں کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ اصلاح کے نام پر فساد پھیلانے والے افراد اور گروہوں سے ہوشیار رہنا چاہیے۔
لوگ اس چیز کے دشمن ہوتے ہیں جسے وہ نہیں جانتے۔
یہ ملاقات دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور خطے میں امن و استحکام کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔
پس یہ فرض ہے کہ ہم قرآن کی روشنی میں دنیا کے حالیہ استعماری نظام کا تجزیہ کریں، طاغوتی سازشوں کو پہچانیں، ان کے خلاف علمی، اخلاقی، اور عملی سطح پر جہاد کریں، اور یقین رکھیں کہ انجام کار اللہ کا وعدہ سچا ہے، اور مکر و فریب کی بنیادوں پر قائم نظام فنا ہونے والا ہے۔ حق ہمیشہ غالب رہنے والا ہے، کیونکہ وہ رب کی سنت ہے جس میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔
صہیونی ریاست جس تسلسل سے فلسطینی عوام پر حملہ آور ہے، اس کے انداز، نظریات، اور طریقہ کار کو دیکھتے ہوئے یہ سوال بے وجہ نہیں کہ: کیا ہم تاریخ کے کسی نئے “مغولی دور” میں داخل ہو چکے ہیں؟
چار مصیبتیں ایسی ہیں جن سے یا ان میں سے کسی ایک سے کوئی مؤمن بچ نہیں سکتا:۔
انقلاب سے قبل، میں نے ایک کتاب لکھی تھی جو اُس وقت کے بعض شبہات کے جواب میں تھی۔ شیخ محمد صالح مازندرانی نے اسے پڑھا اور پسند فرمایا۔ پیغام بھیجا کہ میرے شہر تشریف لائیں تاکہ آپ کے اعزاز کے بہانے ہم اسلامی مسائلِ روز پر تبلیغ کریں۔
حضرت عبدالعظیم حسنی علیہ السلام، جنہیں ایران میں “شاہ عبدالعظیم” اور “سیدالکریم (ع)” کے نام سے جانا جاتا ہے، اہلِ بیت (ع) کے خالص پیروکار، حدیث کے ثقہ راوی اور شیعہ معارف کے عظیم محافظ تھے۔
اس وقت ہم امتحان گاہ میں ہیں… کیا ہم کامیاب ہیں؟
ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد علمی و تحقیقی اداروں میں یہی کوشش کی گئی کہ دینی حکمت اور سائنسی علوم کے درمیان ربط قائم کیا جائے تاکہ علم ایک ہمہ گیر حقیقت کی جانب رہنمائی کرے، نہ کہ صرف ایک تخصصی یا سطحی عمل ہو۔