41

کیا مسلمانوں کے خلاف سازشیں “افسانہ” ہیں؟

  • نیوز کوڈ : 1518
  • 18 April 2025 - 0:41
کیا مسلمانوں کے خلاف سازشیں “افسانہ” ہیں؟

پس یہ فرض ہے کہ ہم قرآن کی روشنی میں دنیا کے حالیہ استعماری نظام کا تجزیہ کریں، طاغوتی سازشوں کو پہچانیں، ان کے خلاف علمی، اخلاقی، اور عملی سطح پر جہاد کریں، اور یقین رکھیں کہ انجام کار اللہ کا وعدہ سچا ہے، اور مکر و فریب کی بنیادوں پر قائم نظام فنا ہونے والا ہے۔ حق ہمیشہ غالب رہنے والا ہے، کیونکہ وہ رب کی سنت ہے جس میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔

تحریر : سید جہانزیب عابدی

لاحول ولا قوۃ الاباللہ

قرآن مجید میں مختلف مقامات پر کفار و مشرکین کی سازشوں، مکارانہ تدبیروں، اور خفیہ چالوں کا واضح اور تفصیلی ذکر ملتا ہے۔ یہ محض تاریخی بیانات نہیں بلکہ قیامت تک کے انسانوں کے لیے ایک بصیرت بخش رہنمائی ہے۔ ان آیات سے یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ دنیا کی تاریخ ہمیشہ دو قوتوں کے درمیان کشمکش سے عبارت رہی ہے: ایک طرف وہ قوتیں ہیں جو عدل، ہدایت اور رحم پر مبنی نظامِ الٰہی کی نمائندگی کرتی ہیں، اور دوسری طرف وہ طاغوتی عناصر جو فریب، مکر، اور ظلم پر مبنی استعماری نظام قائم کرنا چاہتے ہیں۔
یہ تصور کہ “سازشی نظریات صرف افسانہ ہیں” بذاتِ خود قرآن کے خلاف ہے۔ اگر سازشیں محض خیالات یا مفروضے ہوتیں، تو قرآن ان کا اتنی بار اور اتنی شدت سے ذکر نہ کرتا۔ حضرت عیسیٰؑ کے خلاف یہودیوں کی خفیہ چال ہو، یا نبی اکرم ﷺ کے خلاف قریش کی سازشیں، یا حضرت یوسفؑ کے بھائیوں کا خفیہ مشورہ، یا مختلف قوموں کی مکاریاں—ہر مقام پر اللہ تعالیٰ نے ان کی چالوں کا پردہ فاش کیا اور بتایا کہ اللہ خود بہترین تدبیر فرمانے والا ہے۔
یہ دنیا واقعی آج بھی انہی سازشوں کی گرفت میں ہے۔ طاقتور سرمایہ دارانہ نظام، میڈیا کا جھوٹا جال، اخلاقی انحطاط، قوموں کی غلامی، عوام پر نفسیاتی و معاشی دباؤ، خاندانی نظام کی تباہی، اور انسانی اقدار کی پامالی اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ دنیا کسی ظالم اور طاغوتی طاقت کے کنٹرول میں ہے۔ ایسی طاقت جو لالچ، ہوس، اقتدار، اور کنٹرول کی بھوک میں انسانوں کو نعمتوں سے محروم کر کے انہیں غلام بنا رہی ہے۔ یہ قوتیں وہی ہیں جنہیں قرآن نے “مجرموں کے سردار”، “بستیوں کے وڈیرے”، اور “مفسدین فی الارض” کے ناموں سے یاد کیا ہے۔
اللہ رب العزت کا تعارف قرآن میں “الرحمٰن” اور “الرحیم” کے طور پر ہوا ہے۔ وہ تو انسانوں کو بن مانگے نعمتیں عطا فرماتا ہے، اس نے رزق کو عام کیا، ہوا، پانی، روشنی، عقل، محبت، والدین، اولاد، علم، اور ہدایت جیسے تحفے دیے۔ وہ بندوں کو غلام نہیں بناتا بلکہ آزاد کرتا ہے، انہیں اپنے نمائندے اور خلیفہ کے طور پر زمین پر بھیجتا ہے۔ پس جب انسان ان نعمتوں سے محروم ہوتا ہے، اپنے فطری حقوق سے دور ہوتا ہے، تو اس کا سبب وہ مکار طاقتیں ہیں جو خدا کی زمین پر خدائی کا دعویٰ کرتی ہیں۔
قرآن کا پیغام بڑا واضح ہے: انسان اگر ظلم، جبر، استحصال اور طاغوت کے خلاف اٹھ کھڑا ہو، اگر وہ خدا کے قوانینِ فطرت کا ساتھ دے، اگر وہ عدل، سچ، اور حریت کی راہ پر چلے، تو اللہ خود اس کی مدد کرتا ہے۔ اللہ مظلوموں کا ولی ہے، ان کے دلوں میں امید جگاتا ہے، ان کے لیے راہیں کھولتا ہے، اور ظالموں کے جال انہی پر الٹ دیتا ہے۔ قرآن فرماتا ہے کہ اللہ اس قوم کی حالت نہیں بدلتا جو خود اپنی حالت کو بدلنے کے لیے کھڑی نہ ہو۔ لہٰذا انسانی نجات نہ محض دعا سے ہے اور نہ خوابوں سے، بلکہ بیداری، شعور، اور جدوجہد سے ہے۔
سازشی نظریات درحقیقت دنیا کی تلخ حقیقتوں کے عکس ہیں۔ وہ انسانوں کی آنکھیں کھولتے ہیں، انہیں جھوٹے خداؤں سے نجات دلانے کی دعوت دیتے ہیں، اور ایک ایسے نظامِ عدل کی طرف بلاتے ہیں جو صرف اللہ کے قانون پر مبنی ہو۔ اس جدوجہد میں اگر انسان سچائی، استقامت، اور ہمت سے کام لے تو قرآن کی گواہی کے مطابق اللہ بھی اس کا ساتھ دیتا ہے، اور انجام کار زمین انہی متقین کو وراثت میں دے دی جاتی ہے۔
پس یہ فرض ہے کہ ہم قرآن کی روشنی میں دنیا کے حالیہ استعماری نظام کا تجزیہ کریں، طاغوتی سازشوں کو پہچانیں، ان کے خلاف علمی، اخلاقی، اور عملی سطح پر جہاد کریں، اور یقین رکھیں کہ انجام کار اللہ کا وعدہ سچا ہے، اور مکر و فریب کی بنیادوں پر قائم نظام فنا ہونے والا ہے۔ حق ہمیشہ غالب رہنے والا ہے، کیونکہ وہ رب کی سنت ہے جس میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=1518

ٹیگز

تبصرے