40

حکمت متعالیہ اور انقلاب اسلامی ایران

  • نیوز کوڈ : 1472
  • 08 April 2025 - 18:24
حکمت متعالیہ اور انقلاب اسلامی ایران

ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد علمی و تحقیقی اداروں میں یہی کوشش کی گئی کہ دینی حکمت اور سائنسی علوم کے درمیان ربط قائم کیا جائے تاکہ علم ایک ہمہ گیر حقیقت کی جانب رہنمائی کرے، نہ کہ صرف ایک تخصصی یا سطحی عمل ہو۔

حکمت متعالیہ اور انقلاب اسلامی ایران

تحریر : سید جہانزیب عابدی

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔

فلسفہ مشاء اور اشراق اسلامی فلسفے کی دو اہم مکتبہ فکر ہیں جن کا آغاز مختلف فلسفیوں نے کیا۔ فلسفہ مشاء کا آغاز ابن سینا نے کیا، جس میں عقل اور فلسفے کے ذریعے حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کی گئی۔ ابن سینا کا فلسفہ مابعد الطبیعات (Metaphysics) اور منطق پر مبنی تھا، جس میں عقل کو تمام حقیقتوں کے سمجھنے کا اہم ذریعہ قرار دیا گیا۔ مشاء فلسفہ میں یہ باور کیا جاتا ہے کہ عقل کی مدد سے عالمِ خارج میں موجود ہر چیز کا علم حاصل کیا جا سکتا ہے۔

دوسری طرف، فلسفہ اشراق کا آغاز شیخ شہاب الدین سہروردی (شیخ اشراق) نے کیا، جو مشائی فلسفے کی مخالفت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیتے تھے کہ روحانی تجارب اور معقولات کے ذریعے حقیقت کو سمجھا جا سکتا ہے۔ اشراق فلسفے میں نظریاتی حقیقتوں کے بجائے تجرباتی اور روحانی علم کو اہمیت دی جاتی ہے۔ اس فلسفے کا مقصد عالمِ نور کو سمجھنا اور عقل کے علاوہ مشاہدہ اور شہود کو بھی حقیقت کا حصہ سمجھنا ہے۔

حکمت متعالیہ، جو ملا صدرا نے پیش کی، مشائی اور اشراقی فلسفے کا امتزاج ہے۔ ملا صدرا نے یہ موقف اختیار کیا کہ عقل اور وحی دونوں کا ایک ساتھ استعمال انسان کو مکمل حقیقت تک پہنچا سکتا ہے۔ انہوں نے توحید اور روحانیت کے تصورات کو فلسفے میں ضم کیا، جس کی وجہ سے حکمت متعالیہ کو ایک جدید فلسفی نظام سمجھا جاتا ہے، جو فرد کی روحانی ترقی اور علمی بصیرت کے مابین ہم آہنگی پیدا کرتا ہے۔
اسلامی انقلاب ایران (1979) نے حکمت متعالیہ اور سماجیات کے عملی ادغام کی ایک زندہ اور قابل توجہ مثال پیش کی ہے۔ انقلاب کے بعد ایران نے اسلامی اصولوں کو اپنے معاشرتی، سیاسی، اور اقتصادی نظام میں عملی طور پر نافذ کیا، جس کے ذریعے حکمت متعالیہ کے فلسفے کو فرد کی روحانیت اور اجتماعی بہبود کے درمیان توازن قائم کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔ حکمت متعالیہ، جو ملا صدرا کے فلسفے پر مبنی ہے، نے وجود اور روحانیت کے تصورات کو سماجی سطح پر لاگو کیا، اور ایران میں امام خمینی کے رہنمائی میں ان اصولوں کا اطلاق کیا گیا۔ امام خمینی نے ولایت فقیہ کے نظریے کو اپنایا، جس کا مقصد دینی رہنمائی کے ساتھ سیاسی قیادت کی ہم آہنگی کو یقینی بنانا تھا۔
ایران نے انقلاب کے بعد اپنے حکومتی امور میں حکمت متعالیہ کے فلسفے کو نافذ کیا، جہاں عقل اور وحی دونوں کو ہم آہنگ کیا گیا۔ ولایت فقیہ کی بنیاد پر ایران میں ایک اسلامی جمہوریت قائم کی گئی جس میں فرد کی روحانیت اور اجتماعی بہبود دونوں کا لحاظ رکھا گیا۔ یہ حکمت متعالیہ کے فلسفے کا عملی اظہار تھا جس نے اسلامی احکام کے تحت حکومت کے مختلف شعبوں میں ایک توازن قائم کیا۔
معاشی نظام میں ایران نے سرمایہ داری اور سوشلسٹ ماڈلز کے بجائے ایک اسلامی اقتصادی ماڈل اپنایا، جس میں فرد کی روحانیت اور اخلاقی ترقی کو اہمیت دی گئی۔ ایران نے اسلامی مالیاتی اصولوں جیسے زکوة، خمس، اور وقف کو اپنے اقتصادی ماڈل میں شامل کیا، جس کا مقصد فرد کی روحانی ترقی اور سماجی بہبود کو یکجا کرنا تھا۔ اس اقتصادی ماڈل میں فرد کو صرف مادی فوائد کی نہیں بلکہ روحانی سکون اور اخلاقی ترقی کی اہمیت دی گئی۔
تعلیمی نظام میں بھی ایران نے حکمت متعالیہ کے اصولوں کو اپنایا۔ ایرانی حکومتی اقدامات میں دینی تعلیمات اور سائنس کو یکجا کیا گیا، تاکہ طلباء کی فکری اور روحانی تربیت دونوں ممکن ہو سکے۔ ایران نے اپنے تعلیمی اداروں میں اسلامی تعلیمات کو مرکزی حیثیت دی اور ان کے ساتھ عالمی علوم کو شامل کیا، تاکہ نہ صرف عقل کو فروغ دیا جا سکے بلکہ روحانیت کو بھی اہمیت دی جا سکے۔
ایران میں عدلیہ اور قانونی نظام میں بھی حکمت متعالیہ کے فلسفے کا اثر واضح تھا۔ ایران میں اسلامی شریعت اور عقلی استدلال دونوں کو ملایا گیا تاکہ معاشرتی عدل اور انصاف کے قیام کو یقینی بنایا جا سکے۔ اسلامی عدالتوں میں فرد کے روحانی حقوق کے ساتھ اس کی مادی ضروریات کا بھی خیال رکھا گیا، اور عدلیہ میں فیصلے ایسے کیے گئے جو فرد کی روحانی ترقی اور اجتماعی بہبود کے لیے فائدہ مند ہوں۔
سماجیات کے شعبے میں ایران نے حکمت متعالیہ کو سماجی تعلقات اور اخلاقیات کے تناظر میں نافذ کیا۔ انقلاب کے بعد، ایران میں خاندانی نظام، سماجی تعلقات، اور اجتماعی یکجہتی پر زور دیا گیا۔ حکمت متعالیہ کی تعلیمات نے افراد کو یہ سکھایا کہ ان کا روحانی سفر نہ صرف ذاتی ہے بلکہ اس کا اثر سماج پر بھی پڑتا ہے، اور سماجی تعلقات کو اخلاقی اور روحانی سطح پر جوڑا گیا۔
اسلامی انقلاب ایران نے حکمت متعالیہ اور سماجیات کے عملی ادغام کی کامیاب مثال پیش کی، جہاں حکمت متعالیہ کے فلسفے کو سیاست، معیشت، تعلیم، عدلیہ، اور سماج کے تمام شعبوں میں ایک ساتھ لاگو کیا گیا۔ ایران میں حکومتی نظام نے فرد کی روحانیت اور سماجی بہبود کے درمیان توازن قائم کیا، اور اس کے ذریعے ایک ایسا ماڈل تشکیل دیا گیا جس میں فرد کی مادی اور روحانی ترقی دونوں کو ہم آہنگ کیا گیا۔ اس ماڈل نے اسلامی جمہوریت، اقتصادی نظام، تعلیمی نظام، عدلیہ، اور سماجی تعلقات کے شعبوں میں ایک نئی روشنی ڈالی جو آج بھی ایک اہم حوالہ سمجھا جاتا ہے۔

حکمت متعالیہ اور سائنسی طریق میں بظاہر دو مختلف زاویے نظر آتے ہیں، ایک روحانی اور مابعد الطبیعاتی حقیقتوں کی تلاش کا ذریعہ ہے، جبکہ دوسرا مادی اور حسی مشاہدے پر مبنی ہے۔ تاہم ان دونوں کو ایک جامع فکری نظام کے تحت ہم آہنگ کیا جا سکتا ہے، جیسا کہ حکمت متعالیہ خود عقل، شہود اور وحی کو ایک ساتھ ملا کر حقیقت کی جامع تفہیم کا راستہ دکھاتی ہے۔ سائنسی طریق مشاہدہ، تجربہ، اور قابل تصدیق دلائل پر انحصار کرتا ہے، جو کہ عالم طبیعت کے دائرے تک محدود ہے، لیکن حکمت متعالیہ اس طبیعی علم کو اس کے مابعد الطبیعاتی پس منظر میں رکھ کر ایک گہرے معنی اور مقصد سے جوڑ دیتی ہے۔ اس ادغام کا مقصد یہ نہیں کہ سائنسی طریق کو رد کر دیا جائے، بلکہ یہ ہے کہ سائنسی معلومات اور نتائج کو ایک اعلیٰ حکمت کے تناظر میں دیکھا جائے، جہاں علم صرف مادی فائدے یا ٹیکنالوجی کی ترقی کے لیے نہیں بلکہ حقیقت کی دریافت، مقصدِ حیات کی فہم، اور انسان کے روحانی ارتقاء کے لیے استعمال ہو۔ حکمت متعالیہ انسان کو صرف اشیاء کی حقیقت جاننے کی ترغیب نہیں دیتی بلکہ حقیقتِ وجود اور خدا کی طرف سفر کی دعوت دیتی ہے، اور سائنسی طریق اسی سفر کا ابتدائی زینہ بن سکتا ہے اگر اسے ایک اعلیٰ معنوی افق کے ساتھ جوڑ دیا جائے۔ اس لیے حکمت متعالیہ اور سائنسی طریق کا ادغام ایک ایسے فکری ماڈل کی تشکیل کر سکتا ہے جو نہ صرف مادی ترقی کو سراہتا ہے بلکہ اس کے اخلاقی، روحانی اور وجودی پہلوؤں کو بھی شامل کرتا ہے۔ ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد علمی و تحقیقی اداروں میں یہی کوشش کی گئی کہ دینی حکمت اور سائنسی علوم کے درمیان ربط قائم کیا جائے تاکہ علم ایک ہمہ گیر حقیقت کی جانب رہنمائی کرے، نہ کہ صرف ایک تخصصی یا سطحی عمل ہو۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=1472

ٹیگز

تبصرے