وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ قَالُوا إِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُونَ
ترجمہ:
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ کرو، تو کہتے ہیں: ہم تو صرف اصلاح کرنے والے ہیں۔
تفسیر المیزان (علامہ طباطبائیؒ):۔
علامہ طباطبائیؒ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ یہاں منافقین کا ذکر ہے جو ظاہری طور پر ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں، لیکن ان کے اعمال اور نیتیں فساد پر مبنی ہوتی ہیں۔ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ کرو، تو وہ جواب دیتے ہیں کہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں۔
علامہ کے مطابق، یہ لوگ اپنے اعمال کو اصلاح کا نام دیتے ہیں، حالانکہ حقیقت میں وہ فساد پھیلا رہے ہوتے ہیں۔ ان کا یہ رویہ ان کی جہالت اور خود فریبی کا نتیجہ ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ درست کام کر رہے ہیں، لیکن دراصل وہ اللہ کے احکامات کی خلاف ورزی کر رہے ہوتے ہیں۔
یہ آیت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ صرف ظاہری دعووں پر اعتماد نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اعمال اور نیتوں کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ اصلاح کے نام پر فساد پھیلانے والے افراد اور گروہوں سے ہوشیار رہنا چاہیے۔
