اعلی مقاصد کے حصول میں تقیہ کی اہمیت
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔
جب ہم شیعہ اور اہل سنت مسلمانوں کو ناصبیت، شرک، اور کفر کے مقابلے میں جذباتی ہوکر “جہاد”، “قتال”، اور “سر تن سے جدا” جیسے نعرے لگاتے دیکھتے ہیں، تو یہ رویہ ایک خاص نفسیاتی، تاریخی، اور سیاسی تناظر میں سمجھنے کی ضرورت رکھتا ہے۔ ایسی جذباتی ردعمل کی جڑیں اکثر ان ادوار میں پیوست ہوتی ہیں جب مسلمانوں، بالخصوص اہل حق، کو سیاسی طاقت سے محروم رکھا گیا، جب وہ سماجی اور حکومتی اداروں سے الگ یا باہر کر دیے گئے، یا جب انہیں اپنے عقائد کی کھلی آزادی نہیں دی گئی۔ اس محرومی کے پس منظر میں ان کے جذبات میں جوش، غصہ اور انتقام کا رنگ شامل ہو جاتا ہے، اور وہ بات چیت، حکمت، اور تدریج کی بجائے فوری ٹکراؤ کو راہ نجات سمجھنے لگتے ہیں۔
تاریخی طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ جب کوئی قوم یا گروہ مسلسل ظلم، تحقیر، اور عدمِ تحفظ کا شکار ہوتا ہے تو اس کی اجتماعی نفسیات میں دفاعی شدت پسندی پیدا ہوتی ہے، اور وہ اپنے عقیدے کے تحفظ کو خالصتا قتال یا تیز زبان و عمل کے ذریعے حاصل کرنا چاہتا ہے۔ مگر ان جذباتی نعروں کے پیچھے اکثر وہ سیاسی و فکری کمزوری چھپی ہوتی ہے جسے تقیہ، حکمت، اور بیداری کی حکمت عملی سے نہیں سنوارا گیا، بلکہ اسے محض ردعمل کی شکل میں باہر آنے دیا گیا۔
اہل بیت علیہم السلام اور انبیاء علیہم السلام کی سیرت اس کے برعکس ایک نکتہ کی طرف رہنمائی کرتی ہے: ظلم کے دور میں تقیہ، صبر، اور تدریجی اصلاح، اور فتح کے بعد قوت، وقار، اور واضح موقف کے ساتھ کھل کر جینا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا دورِ فرعون، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رومی سلطنت کے خلاف خاموش موقف، اور ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مکہ میں تیرہ سالہ صبر اور خاموش تربیت — یہ سب ہمیں بتاتے ہیں کہ کمزوری کے دور میں خاموشی بزدلی نہیں بلکہ بصیرت ہے۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ میں ظلم و ستم سہہ کر اپنی جماعت کی فکری بنیاد رکھی، اور جب مدینہ میں حکومت ملی تو بدر، احد، خندق، اور فتح مکہ جیسے اقدامات سے ظالموں کے خلاف کھل کر میدان میں آئے۔
امیرالمومنین امام علی علیہ السلام نے خلافت کے حق سے محرومی کے وقت نہ صرف صبر اختیار کیا بلکہ فتنوں سے امت کو بچانے کے لیے خاموشی اختیار کی، یہاں تک کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی شہادت کے بعد بھی انہوں نے صرف اس وقت تلوار اٹھائی جب امت کی اجتماعی بقاء کا تقاضا ہوا۔
امام حسن علیہ السلام کی صلح کا فیصلہ ہو یا امام سجاد علیہ السلام کی خاموش، پر بصیرت زندگی، یا امام باقر و امام جعفر صادق علیہما السلام کا علمی جہاد، یہ سب اسی اصول پر استوار ہیں کہ طاقت نہ ہونے کے دور میں شعور پیدا کرنا اور دین کی جڑوں کو مضبوط کرنا اصل جہاد ہے۔ اور جب طاقت ملے، تب کھل کر عزت کے ساتھ دین کی سربلندی کے لیے جینا چاہیے، جیسا کہ امام علی علیہ السلام نے اپنے دور خلافت میں عدل و انصاف کی بنیاد پر حکومت کی، امام حسین علیہ السلام نے کربلا میں باطل کو بے نقاب کر کے دین کو نیا حیات بخشی، اور امام مہدی عج اللہ فرجہ کے ظہور کے بعد وہی حق کھل کر دنیا پر غالب آئے گا۔
اسی حکمت عملی کے تحت جب اہل حق موجودہ دنیا میں کمزور ہوں، تو ان کے لیے حکمت، تدبیر، بیداری، اور علمی جدوجہد ضروری ہے، نہ کہ صرف جذباتی ردعمل۔ کیونکہ جو جنگ ذہنوں کو فتح کرے، وہی پائیدار ہوتی ہے۔ فتح کے بعد ہی معاشرہ ایسا ماحول فراہم کرتا ہے جہاں اہل حق نہ صرف اپنے عقائد کے ساتھ جیتے ہیں بلکہ دنیا کے لیے نمونہ بھی بنتے ہیں۔ امام زمانہ عج کے ظہور کے بعد کا معاشرہ ایسا ہی ہوگا، جہاں عدل، علم، اور تقویٰ کی حکومت ہوگی، اور اہل بیت علیہم السلام کے ماننے والے نہ صرف آزاد ہوں گے بلکہ دنیا کو ہدایت کی روشنی دیں گے۔
تقیہ کا مفہوم صرف خطرے کے وقت جان بچانے کا ایک دفاعی عمل نہیں، بلکہ قرآن کی روشنی اور اہل بیت علیہم السلام کی سیرت میں یہ ایک جامع اور سیاسی حکمت عملی کے طور پر بھی سامنے آتا ہے، جو نہ صرف دین کے تحفظ کا ذریعہ ہے بلکہ ولایتِ معصومین علیہم السلام کے حق کو باقی رکھنے اور امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کے ظہور کی تمہید فراہم کرنے کا ایک لازمی جزو ہے۔
قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے: “إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالْإِيمَانِ” (النحل: 106) یعنی جو شخص مجبور کیا جائے اور اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو، اس پر گرفت نہیں۔ اسی طرح ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: “فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلَا عَادٍ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ” (البقرہ: 173) کہ جو شخص اضطرار کی حالت میں ہو، یعنی مجبوری میں حرام چیز کھائے، اس پر کوئی گناہ نہیں۔ ان آیات کی ظاہری تفسیر جسمانی بقاء کے لیے رخصت سے متعلق ہے، لیکن جب ہم ان آیات کو سیرتِ معصومین علیہم السلام کی روشنی میں دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس میں باطنی و دینی بقاء کی حفاظت بھی مراد ہے۔
مثلاً امام جعفر صادق علیہ السلام کی یہ مشہور حدیث ہے: “التقیة دینی و دین آبائی، لا دین لمن لا تقیة له” (تہذیب الأحکام) یعنی تقیہ میرا اور میرے آباؤ اجداد کا دین ہے، جس کے پاس تقیہ نہیں، اس کا کوئی دین نہیں۔ یہ قول تقیہ کو صرف وقتی دفاعی عمل نہیں بلکہ دین کا ستون قرار دیتا ہے۔ امام علیہ السلام نے جس زمانے میں یہ فرمایا، وہ ایک ایسا عہد تھا جب شیعہ عقائد، فقہ، اور سیاسی تشخص کو اموی اور عباسی حکمرانوں کے سرکاری جبر کے تحت مٹانے کی کوشش ہو رہی تھی۔
اموی حکمرانوں مروان,ابنِ زیاد وغیرہ اور عباسی سرکاروں ہارون الرشید، اور منصور دوانیقی وغیرہ جیسے حکمرانوں کے ادوار میں امام جعفر صادق علیہ السلام اور امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی خاموشی یا ظاہری عدم مزاحمت تقیہ کا ایک سیاسی اور بیدار حکمت آمیز انداز تھا۔ اگر وہ بظاہر مخالفت کرتے تو امام کو قتل کر دیا جاتا اور ان کے شاگردوں کو جڑ سے اکھاڑ دیا جاتا۔ مگر اس تقیہ کے نتیجے میں ایک طرف شیعہ تشخص محفوظ رہا، اور دوسری طرف اہل بیت کے علمی خزانوں کی اشاعت ہوئی جس کی بنا پر امامیہ فقہ کی بنیاد رکھی گئی۔
اسی طرح امام حسن علیہ السلام کا معاویہ سے صلح کرنا بظاہر تقیہ کا ایک عمل تھا، لیکن حقیقت میں اس کے پیچھے ایک بلند سیاسی مقصد تھا: مسلمانوں کو داخلی جنگ سے بچانا، امیرالمومنین علیہ السلام کے ماننے والوں کو قتلِ عام سے بچانا، اور آنے والے وقت کے لیے اہل بیت علیہم السلام کی حقانیت کا تاریخی ریکارڈ محفوظ رکھنا۔
یہی طرزِ عمل ہمیں امام علی نقی علیہ السلام اور امام حسن عسکری علیہ السلام کے دور میں بھی نظر آتا ہے۔ عباسی خلافت کے انتہائی سخت حالات میں ان آئمہ نے بظاہر دربار سے قربت دکھائی لیکن درحقیقت وہ اپنی جماعت کو چھپ کر منظم کر رہے تھے، اور امام مہدی علیہ السلام کے غیبت کے دور کے لیے زمین ہموار کر رہے تھے۔
تقیہ کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ اگر کسی مقام پر انسان ایک چھوٹا باطل قبول کر کے کسی بڑے باطل کو روک سکتا ہو، یا اپنے دین، اپنی قوم، یا قیادت کی حفاظت کر سکتا ہو، تو وہ تقیہ نہ صرف جائز بلکہ واجب ہو جاتا ہے۔ مثلاً اگر کوئی مومن ظالم حکومت کے سامنے کلمہ توحید کے انکار کی ظاہری بات کہہ دے تاکہ وہ زندہ رہ کر اپنے اہلِ خانہ اور جماعت کے لیے فائدہ پہنچا سکے، تو وہ تقیہ اس کے ایمان کی کمزوری نہیں بلکہ اس کی بصیرت اور شجاعت کی دلیل ہے۔
تقیہ کی اسی نوعیت کو اگر ہم آج کے دور میں دیکھیں، جہاں بعض اوقات اہلِ حق کو کسی بڑی تحریک یا مقصد کے لیے وقتی طور پر حالات کے ساتھ مطابقت کرنی پڑتی ہے، تو یہ بھی تقیہ کے اصول کے تحت آتا ہے۔ مثلاً کوئی مصلح اپنی فکر کو کسی بڑے نظام کے خلاف کھل کر ظاہر نہیں کرتا تاکہ وہ دب نہ جائے بلکہ دھیرے دھیرے بیداری پیدا کرے، تو یہ بھی وہی سیاسی تقیہ ہے جو اماموں کی سنت ہے۔
پس تقیہ فقط جان بچانے کا عمل نہیں، بلکہ ایک وسیع المعنٰی الٰہی حکمت ہے جس کے ذریعے اہلِ حق اپنی بقاء، اپنے دین، اور قیادت کی حفاظت کرتے ہوئے آنے والے وقت کے لیے راہ ہموار کرتے ہیں۔ یہ ظاہری کمزوری نہیں بلکہ باطنی بصیرت کا اظہار ہے
