42

حق و باطل کا معرکہ آج کی دنیا اور ہمارا امتحان

  • نیوز کوڈ : 1537
  • 19 April 2025 - 0:22
حق و باطل کا معرکہ آج کی دنیا اور ہمارا امتحان

دنیا ایک بار پھر ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں ظلم و بربریت نے انسانیت کو روند ڈالا ہے۔ معصوم چہروں پر بموں کی راکھ، ماؤں کی آہوں سے لرزتا آسمان، اور خاموش تماشائی بنتی انسانیت… یہ سب کچھ گواہ ہے کہ ہم ایک عظیم امتحان سے گزر رہے ہیں۔

حق و باطل کا معرکہ آج کی دنیا اور ہمارا امتحان

تحریر : مولانا سید عمار حیدر زیدی قم

دنیا ایک بار پھر ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں ظلم و بربریت نے انسانیت کو روند ڈالا ہے۔ معصوم چہروں پر بموں کی راکھ، ماؤں کی آہوں سے لرزتا آسمان، اور خاموش تماشائی بنتی انسانیت… یہ سب کچھ گواہ ہے کہ ہم ایک عظیم امتحان سے گزر رہے ہیں۔

میڈیا کا فتنہ اور حقیقت سے فرار

آج میڈیا، جو سچائی کے ابلاغ کا ذریعہ ہونا چاہیے تھا، خود فتنہ کا ایک ہتھیار بن چکا ہے۔ اسے اس قدر خرید لیا گیا ہے کہ مظلوم کی چیخیں، شہید بچوں کی لاشیں، اور معصوموں کا خون اس کے اسکرین پر “خبر” نہیں بنتا، کیونکہ وہ “قابل فروخت” نہیں۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے:

“وَلا تَكْتُمُوا الشَّهَادَةَ ۚ وَمَن يَكْتُمْهَا فَإِنَّهُ آثِمٌ قَلْبُهُ”
(البقرہ: 283)
“اور گواہی نہ چھپاؤ، اور جو اسے چھپائے گا اس کا دل گناہ گار ہے۔”

میڈیا کی گواہی کا چھپانا، حقیقت کا پردہ پوش بننا، ایک اجتماعی گناہ میں تبدیل ہو چکا ہے۔

مسلمان حکمرانوں کی خاموشی

وہ مسلم ممالک، جنہیں مظلوموں کے لیے قلعہ بننا تھا، وہ آج طاقتوروں کی صف میں کھڑے ہوکر اپنے مفادات کی خاطر ظلم کی حمایت کر رہے ہیں یا چپ سادھ لی ہے۔ امام علیؑ نہج البلاغہ میں فرماتے ہیں:

“کفر کی حکومت باقی رہ سکتی ہے، ظلم کی نہیں!”

جو ریاستیں اور قیادتیں ظلم کے ساتھ خاموشی سے کھڑی ہیں، وہ کل اپنی بنیادیں خود مٹا دیں گی۔

تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ:
صدام حسین، جو کبھی امریکہ کا مہرہ رہا، ایران پر حملہ کیا، مسلمانوں کو قتل کروایا، لیکن جب اس کا کردار ختم ہوا، تو امریکہ نے ہی اُسے ذلیل کیا، پھانسی پر چڑھایا، اور عراق کو خانہ جنگی میں جھونک دیا۔

یاسر عرفات، جنہیں فلسطینی قیادت سونپی گئی، انہوں نے اسرائیل کے ساتھ اوسلو معاہدہ کر کے بظاہر امن کا راستہ اختیار کیا، لیکن حقیقت میں اس نے اسرائیل کو اور مضبوط کر دیا۔ جب وہ مفاد کی راہ سے ہٹنے لگے، تو انہی کے قریب ترین لوگوں کے ذریعے انہیں زہر دے کر قتل کیا گیا۔

محمد بن سلمان (MBS)، آج فلسطینی مظلوم بچوں کے خون پر خاموش ہے، مگر امریکی مفادات کے تحفظ میں سرگرم۔ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی راہ ہموار کر رہا ہے، اور “نئے سعودی عرب” کے نام پر اسلامی تشخص کو مغرب کی ثقافت میں گھول رہا ہے۔ مگر یہ یاد رکھنا چاہیے کہ:

ظالم، ظالم کا نہیں، صرف ظلم کا ساتھ دیتا ہے۔ جب مقصد پورا ہو جائے، تو مہرے بھی فنا کر دیے جاتے ہیں۔

متحدہ عرب امارات، بحرین، اور دیگر ممالک نے اسرائیل کو تسلیم کر لیا، لیکن کیا انہیں عزت ملی؟ کیا مسجد اقصیٰ محفوظ ہو گئی؟ نہیں، بلکہ اب اسرائیلی فوجی ان کی سرزمین پر قدم رکھ چکے ہیں، اور ان کے خفیہ نظاموں تک رسائی حاصل کر چکے ہیں۔

یہ تاریخ چیخ چیخ کر بتا رہی ہے کہ:

“جو حق کے ساتھ کھڑا نہ ہو، وہ کل خود بھی باطل کا شکار ہو جائے گا۔”

باطل کی وقتی چمک اور حق کا وعدہ

قرآن کہتا ہے:

“بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْبَاطِلِ فَيَدْمَغُهُ فَإِذَا هُوَ زَاهِقٌ”
(الأنبیاء: 18)
“بلکہ ہم حق کو باطل پر دے مارتے ہیں، پس وہ اس کا دماغ چیر دیتا ہے، اور وہ مٹ جاتا ہے۔”

یہ وعدۂ الٰہی ہے کہ باطل، جتنا بھی زور لگا لے، وہ مٹنے والا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم حق کی صف میں کھڑے ہیں؟ یا خاموشی سے وقت گزار رہے ہیں؟

آج کا مؤمن: آواز یا خاموشی؟

امام علیؑ فرماتے ہیں:

“ساکت رہنے والا ظالم کا ساتھی ہوتا ہے”

آج جس کے دل میں انسانیت کی رمق ہے، وہ بول اٹھا ہے۔ اس کے قلم، اس کی زبان، اس کی دعا، اس کی آنکھ کا آنسو – سب مظلوم کے ساتھ ہیں۔ اور یہی اللہ کے نزدیک نجات کی علامت ہے۔

یہ دنیا امتحان ہے۔ آج فلسطین، یمن، کشمیر، شام، عراق، افغانستان اور کئی دوسرے مظلوم خطے ہمارے امتحان کا سوال ہیں۔
کیا ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں؟
کیا ہم صرف دعا پر قناعت کر رہے ہیں یا جس حد تک ممکن ہو، آواز، قلم، خیرات، بائیکاٹ، شعور – سب کچھ جھونک چکے ہیں؟

باطل کا انجام قریب ہے، مگر ہمارا انجام کس صف میں کھڑے ہونے سے وابستہ ہے۔ آئیے! ہم حق کے لیے آواز بلند کریں، مظلوموں کے لیے دل جلائیں، اور ظالموں سے نفرت کو ایمان کا حصہ بنائیں۔

وَسَيَعْلَمُ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَيَّ مُنقَلَبٍ يَنقَلِبُونَ
(الشعراء: 227)
“اور ظالم عنقریب جان لیں گے کہ کس کروٹ پلٹتے ہیں!”

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=1537

ٹیگز

تبصرے