صراط ٹائمز / انسانی زندگی ایک مسلسل سفر ہے، جس کی راہ منزل کی طرف جاتی ہے۔ تاہم، یہ سوال اکثر ذہن میں آتا ہے کہ آیا ہم واقعی اُس صحیح راستے پر ہیں یا نہیں؟ آیتاللہ حائری شیرازی کی بصیرت آموز گفتگو ہمیں اس سوال کا گہرا اور جامع جواب فراہم کرتی ہے۔
:صحیح سمت کی نشانی
ایک مسافر جو منزل کی طرف رواں دواں ہوتا ہے، وہ ہمیشہ اُس راستے کو دیکھتا ہے جو ابھی طے نہیں ہوا۔ اس کا دھیان اُس سمت میں ہوتا ہے جہاں اُسے جانا ہے، نہ کہ جہاں سے وہ آیا ہے۔
:پشت کیے ہوئے کا طرزِ فکر
اگر کوئی شخص پیٹھ موڑ لے اور صرف وہ راستہ دیکھے جو وہ پیچھے چھوڑ آیا ہے، تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ اُس نے منزل سے رخ پھیر لیا ہے۔
اسی طرح، جو شخص صرف اپنے گزرے ہوئے کاموں، کامیابیوں اور کاوشوں پر نگاہ رکھے اور اُنہی پر مطمئن ہو، تو اُسے سمجھ لینا چاہیے کہ اُس نے اپنی پیشرفت روک دی ہے اور وہ زوال کی طرف جا رہا ہے۔
:مستقبل پر نظر رکھنے والا کامیاب ہے
جو انسان اُن کاموں کی فکر میں ہے جو ابھی باقی ہیں، اور جنہیں مکمل کیا جانا ہے، وہ شک نہ کرے کہ وہ منزل کی طرف گامزن ہے۔ اس کے اندر ترقی کی طلب، راستے کی پہچان اور منزل کا شعور زندہ ہے۔
:عُجب اور خودپسندی کا خطرہ
دل میں اگر اعمال پر ذرا سا بھی عُجب (خودپسندی) پیدا ہو، تو یہ نشانی ہے کہ انسان نیچے جا رہا ہے — یعنی وہ تنزّل کی راہ پر ہے۔
:علاج اور حفاظت کا طریقہ
ایسے وقت میں فوراً اللہ کی پناہ طلب کرنا چاہیے۔ ساتھ ہی، انسان کو چاہیے کہ اپنی نگاہ اُن اعمال پر رکھے جو ابھی مکمل نہیں ہوئے تاکہ وہ تکبّر اور غرور کا شکار نہ ہو۔
آیتاللہ حائری شیرازی کی یہ تعلیمات ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ ترقی، شعور اور ہدایت کا راستہ ہمیشہ اپنے اندر بہتری کی تلاش، عاجزی، اور مستقبل کی فکر سے جُڑا ہوا ہے۔ جو انسان رکا نہیں، وہی منزل پر پہنچتا ہے۔
