52

امام وقت عج کے ظہور کی تیاری کیسے؟

  • نیوز کوڈ : 1533
  • 19 April 2025 - 0:09
امام وقت عج کے ظہور کی تیاری کیسے؟

اس مومن کی کامیابی اس کے عمل میں بھی ظاہر ہوتی ہے۔ وہ علم حاصل کرتا ہے تاکہ بصیرت پیدا ہو، وہ زبان اور قلم سے حق کی بات کرتا ہے، لوگوں میں امید، اخلاص، اور انتظار کا شعور بیدار کرتا ہے۔

تحریر : سید جہانزیب عابدی

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔

ایک مومن انسان کا ظہور امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کیلئے کامیابی کے پروسس کی وضاحت ایک خاص روحانی، فکری اور عملی ارتقاء کی صورت میں سامنے آتی ہے، جس میں فرد اپنی پوری زندگی کو معرفتِ امام، اطاعتِ الٰہی، اور اصلاحِ نفس کے محور پر استوار کرتا ہے۔ یہ کامیابی کسی وقتی یا دنیاوی معیار کی بنیاد پر نہیں بلکہ ایک بلند تر الٰہی مقصد کے حصول پر مبنی ہوتی ہے، جو انسان کو نہ صرف اپنی ذات کی اصلاح کی طرف لے جاتی ہے بلکہ اسے امامِ وقت کے ظہور کے عظیم ہدف کا فعال اور بیدار فرد بھی بناتی ہے۔
یہ عمل اس لمحے سے شروع ہوتا ہے جب انسان اپنی زندگی کے مقصد کو پہچانتا ہے، یعنی وہ یہ سمجھ لیتا ہے کہ اس کا جینا اور مرنا، سیکھنا اور عمل کرنا، صرف اپنی ذات کے لیے نہیں بلکہ ایک بڑے الٰہی منصوبے کا حصہ ہے، جس کا مرکز امام زمانہ عج ہیں۔ یہ شعور مومن کی سوچ کو بدل دیتا ہے، اس کی ترجیحات میں انقلاب آ جاتا ہے، وہ اپنی خواہشات سے بڑھ کر امام کی رضا اور خدا کی اطاعت کو اہمیت دینے لگتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اگر اس نے حقیقی کامیابی حاصل کرنی ہے، تو اسے اپنی فطرت، اپنی ذمہ داری، اور اپنے وقت کی نزاکت کو سمجھ کر زندگی گزارنی ہوگی۔
کامیابی کے اس راستے پر انسان سب سے پہلے خود سے لڑتا ہے۔ اپنی نفسانی خواہشات، سستی، غفلت، اور گناہوں کے خلاف ایک مسلسل جنگ لڑتا ہے۔ وہ باطن کو پاک کرنے کے لیے دعا، مناجات، توبہ اور قرآن سے وابستہ ہوتا ہے۔ اس کی نماز صرف رسم نہیں بلکہ خضوع و خشوع کا مظہر بن جاتی ہے، اس کی دعا محض الفاظ نہیں بلکہ دل کی صداقت بن جاتی ہے۔ وہ شب زندہ داری کرتا ہے، کیونکہ اسے یقین ہوتا ہے کہ امامِ زمانہ کی نصرت اُن دلوں کو نصیب ہوتی ہے جو راتوں میں بیدار اور دنوں میں حق کے لیے سرگرم رہتے ہیں۔
اس مومن کی کامیابی اس کے عمل میں بھی ظاہر ہوتی ہے۔ وہ علم حاصل کرتا ہے تاکہ بصیرت پیدا ہو، وہ زبان اور قلم سے حق کی بات کرتا ہے، لوگوں میں امید، اخلاص، اور انتظار کا شعور بیدار کرتا ہے۔ وہ مظلوموں کا ساتھ دیتا ہے، عدل کے قیام کی جدوجہد کرتا ہے، اور ہر اس عمل سے بچتا ہے جو ظالم نظام کی تقویت کا باعث ہو۔ وہ اپنی زندگی کو اس طرح ڈھالتا ہے کہ وہ اگر امام کے لشکر کا ظاہری حصہ نہ بھی بن سکے، تو کم از کم اس کے کردار، نیت اور مزاج سے یہ اندازہ ہو کہ اگر امام آج ظہور فرما جائیں، تو وہ ان کی نصرت کے لیے تیار ہے۔
یہ کامیابی وقتی تعریف یا دنیاوی ترقی نہیں بلکہ ایک ایسا باطنی شعور، ایسی زندگی کی ترتیب، اور ایسی روحانی کیفیت ہے جو انسان کو امام کے قریب کرتی ہے۔ وہ انسان جو ہمیشہ امام کے فراق میں تڑپتا ہے، دعائے ندبہ میں روتا ہے، اپنے ہر دن کو امام کی رضا کے مطابق بنانے کی کوشش کرتا ہے، درحقیقت وہی مومن ہے جو اس روحانی کامیابی کی معراج پر ہوتا ہے۔
یہ کامیابی صبر، استقامت، اخلاص، عرفان، جہاد بالنفس، اجتماعی ذمہ داری اور مسلسل تربیت کا نتیجہ ہوتی ہے۔ ایسا مومن فرد اپنی زندگی سے ظہور کی تمہید بچھاتا ہے، وہ نور کا ایک ذرہ بن کر ظلمت کی فضا میں امید کی کرن بن جاتا ہے۔ اس کی خاموشی بھی پیغام رکھتی ہے، اس کا کردار بھی تبلیغ بن جاتا ہے، اور اس کی نگاہ بھی نور کی ایک جھلک بن کر دوسروں کے دلوں میں امام کا انتظار جگا دیتی ہے۔ یوں ایک مومن کا کامیابی کا پروسس امام زمانہ عج کے ظہور کے لیے نہ صرف ذاتی نجات کا ذریعہ بنتا ہے بلکہ اجتماعی تبدیلی کے لیے بھی ایک سنگِ میل ثابت ہوتا ہے۔
اس پروسس کی جزئیات کو تفصیل سے سمجھنے کے لیے ہمیں سب سے پہلے یہ جاننا ہوگا کہ ایک مومن کے دل میں امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کی معرفت کس درجہ پر موجود ہے۔ جب انسان معرفتِ امام کو صرف ایک فکری یا نظریاتی تصور نہیں بلکہ ایک زندہ حقیقت کے طور پر محسوس کرنے لگتا ہے، تو اس کی زندگی کا ہر پہلو، خواہ وہ دینی ہو یا دنیاوی، امام کی رضا کے تابع ہونے لگتا ہے۔ یہی معرفت، کامیابی کے پروسس کی پہلی اور بنیادی اینٹ ہے۔ اس کے بعد ایک درونی انقلاب شروع ہوتا ہے، جو سب سے پہلے نیت میں تبدیلی لاتا ہے۔ وہ ہر عمل کو صرف اپنے فائدے یا معاشرتی قبولیت کے لیے نہیں بلکہ خدا کی قربت اور امام کی خوشنودی کے لیے انجام دینے لگتا ہے۔
پھر یہ تبدیلی اُس کے وقت کے استعمال میں جھلکنے لگتی ہے۔ وہ سستی، فضول مصروفیات، وقت کے ضیاع، اور لاحاصل مشاغل سے پرہیز کرتا ہے۔ وہ صبح کو جلدی بیدار ہوتا ہے، فجر کے بعد ذکر اور تلاوت میں وقت گزارتا ہے، دن میں اپنے فرائض اور ذمے داریوں کو ایمانداری سے نبھاتا ہے، اور رات کو حسابِ نفس کرتے ہوئے سوتا ہے۔ اس کے شب و روز میں شعوری نظم پیدا ہوتا ہے، جو امامِ وقت کی زندگی سے جڑنے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔
اس پروسس کی ایک اہم جزئیات “تزکیۂ نفس” ہے۔ مومن مسلسل اپنے اندر کے نفسِ امارہ سے جنگ کرتا ہے۔ وہ حسد، تکبر، ریا، جھوٹ، غیبت، بدگمانی، خودپرستی اور دنیا طلبی جیسے روحانی بیماریوں سے چھٹکارا پانے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ جہاد آسان نہیں ہوتا، اس میں ناکامیاں بھی آتی ہیں، لیکن ہر ناکامی کے بعد وہ توبہ، گریہ، اور دعا کے ذریعے دوبارہ کھڑا ہو جاتا ہے۔ وہ خود کو تنہا نہیں سمجھتا، بلکہ امام کے علم میں اپنے حال کو جانتا ہوا سمجھتا ہے، اور یہی احساس اس کے اندر اصلاح کا جذبہ بڑھاتا ہے۔
اسی اصلاحی سفر میں وہ “علم” کی تلاش شروع کرتا ہے۔ وہ دینی علوم، قرآن فہمی، اہل بیت علیہم السلام کے فرامین، اور زمانے کے فتنوں کی شناخت کی کوشش کرتا ہے۔ وہ تقلید سے تحقیق کی طرف بڑھتا ہے، اندھی پیروی کی بجائے با بصیرت عمل کو اختیار کرتا ہے۔ اس کا مطالعہ اس کی بصیرت کو جِلا دیتا ہے اور وہ معاشرے میں بصیرت مند رہنمائی کے قابل بنتا ہے۔
اس کے بعد اس کا رویہ دوسروں سے بدلنے لگتا ہے۔ وہ نرم زبان اختیار کرتا ہے، لوگوں کے عیوب پر پردہ ڈالتا ہے، محتاجوں کی مدد کرتا ہے، رشتہ داروں سے حسنِ سلوک کرتا ہے، اور معاشرے میں نیکی کے فروغ کا سبب بنتا ہے۔ اس کی شخصیت مہربانی، تحمل، اور عدل کا نمونہ بن جاتی ہے۔ وہ ہر اس نظام سے نفرت کرتا ہے جو ظلم و جور کو فروغ دیتا ہے، اور دل سے اس عالمی عدل کے قیام کی دعا کرتا ہے جس کے لیے امام کا ظہور مقدر ہے۔
اسی تسلسل میں وہ “انتظار” کو ایک زندہ عمل میں بدل دیتا ہے۔ اس کے لیے انتظار صرف ایک جذباتی احساس نہیں بلکہ ایک عملی اسلوبِ حیات بن جاتا ہے۔ وہ اپنی زندگی کو اس طرح ڈھالتا ہے کہ اگر آج امام تشریف لے آئیں تو وہ ان کے لشکر میں شامل ہونے کے لائق ہو۔ وہ زمانے کی ذمہ داریوں کو سمجھتا ہے، فتنوں کا ادراک رکھتا ہے، اور اپنی ذات کو ظہور کی تیاری کے لیے آمادہ رکھتا ہے۔
آخر میں یہ پروسس اُس روحانی کمال کی طرف لے جاتا ہے جہاں بندہ فنا فی الامام کے درجے کو چھونے لگتا ہے۔ اس کی خواہشیں امام کی خواہشات سے ہم آہنگ ہو جاتی ہیں، اس کے آنسو امام کی جدائی میں بہتے ہیں، اس کی امید امام کے ظہور سے وابستہ ہو جاتی ہے، اور اس کی دعا ہر وقت “عَجِّل لِوَلیِّکَ الفَرَج” بن جاتی ہے۔ وہ امام کا سپاہی بننے سے پہلے امام کا عاشق، سچا منتظر، اور اصلاح یافتہ انسان بن چکا ہوتا ہے۔
یہ پروسس زندگی بھر جاری رہنے والا جہاد ہے، جس میں ہدف صرف یہ نہیں کہ امام آئیں تو ہم ان کا ساتھ دیں، بلکہ یہ کہ وہ آئیں تو ہم اس قابل ہوں کہ ان کے قابلِ اعتماد بن سکیں، ان کے غم میں شریک ہوں، اور ان کی حکومت کے خالص خدمت گزار ہوں۔ یہ کامیابی دراصل وہی کامیابی ہے جس کا مقصد صرف فرد کی نجات نہیں بلکہ عالمگیر عدل کے قیام کا حصہ بننا ہے۔
دنیاوی حوالے سے اس پروسس کی جزئیات زندگی کے ہر عملی میدان میں ایک باشعور اور ذمہ دار طرزِ حیات کی صورت میں ظاہر ہوتی ہیں۔ سب سے پہلے یہ پروسس انسان کے تعلیمی اور پیشہ ورانہ رویے میں نکھار پیدا کرتا ہے۔ وہ اپنی تعلیم کو صرف ڈگری حاصل کرنے یا دنیاوی شہرت پانے کا ذریعہ نہیں بناتا بلکہ اسے ایک وسیلہ سمجھتا ہے امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کے عالمی مشن کی خدمت کے لیے۔ اس کا علم با مقصد، سچائی پر مبنی اور معاشرے کی بھلائی سے جڑا ہوا ہوتا ہے۔ وہ جھوٹے نمبروں، نقل، یا شارٹ کٹس کی بجائے محنت، دیانت اور خلوص کی بنیاد پر آگے بڑھتا ہے۔
پھر اس کی معیشت کا طرز بھی تبدیل ہو جاتا ہے۔ وہ رزقِ حلال کی جستجو کرتا ہے، سود، دھوکہ، جھوٹ اور ناجائز منافع سے بچتا ہے، اور اپنا مال خدا کی راہ میں خرچ کرنے کا شعور رکھتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ دنیاوی سرمایہ دراصل ایک امانت ہے جو امام کے مشن کی خدمت کے لیے استعمال ہونی چاہیے۔ اس کے کاروباری یا پیشہ ورانہ فیصلے عدل، شفافیت اور اخلاق کے اصولوں پر ہوتے ہیں، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ ظہور کے بعد جو نظام قائم ہوگا، اس میں صرف وہی لوگ باقی رہیں گے جو دنیاوی معاملات میں دیانت دار رہے ہوں گے۔
اس کے بعد اس کی سوشل لائف میں توازن اور ذمہ داری کا اظہار ہونے لگتا ہے۔ وہ اپنے رشتہ داروں کے ساتھ تعلقات کو محض رسم یا مجبوری کے طور پر نہیں بلکہ ایک شرعی فریضہ سمجھ کر نبھاتا ہے۔ اس کے تعلقات اخلاص، ہمدردی اور صبر پر مبنی ہوتے ہیں۔ وہ معاشرتی مسائل سے لاتعلق نہیں ہوتا بلکہ غربت، تعلیم، صحت اور اصلاحِ معاشرہ جیسے میدانوں میں عملی کردار ادا کرتا ہے۔ وہ معاشرے کے مظلوم طبقات کی آواز بنتا ہے، اور جہاں ظلم ہوتا ہے، وہاں خاموش تماشائی بننے کے بجائے کردار ادا کرتا ہے۔
اس کی جسمانی صحت کے حوالے سے بھی شعور بڑھتا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اگر جسم کمزور ہوگا تو روحانی اور فکری ذمہ داریاں بھی ادا نہ ہو سکیں گی۔ اس لیے وہ کھانے پینے، نیند، صفائی اور جسمانی سرگرمیوں میں اعتدال رکھتا ہے۔ وہ اپنے وقت کی قدرو قیمت پہچانتا ہے، ہر لمحے کو کسی فائدہ مند مقصد کے لیے استعمال کرتا ہے اور فارغ وقت کو عبادت، علم، یا خدمتِ خلق میں صرف کرتا ہے۔
ایک اور اہم جزو یہ ہے کہ وہ وقت کی رفتار اور دنیاوی تبدیلیوں سے غافل نہیں رہتا۔ وہ زمانے کی زبان سمجھتا ہے، ٹیکنالوجی سے واقف ہوتا ہے، میڈیا کے اثرات کا ادراک رکھتا ہے، اور اپنی نسل کو بھی زمانے کے فتنوں سے محفوظ رکھنے کے لیے جدید و مؤثر انداز اختیار کرتا ہے۔ وہ تعلیم و تربیت کے نئے طریقے سیکھتا ہے تاکہ خود بھی بہتر بنے اور دوسروں کو بھی بہتر بنا سکے۔
غرض اس کی دنیاوی کامیابی امام زمانہ کے مشن سے الگ نہیں ہوتی۔ وہ دنیا میں ترقی کرتا ہے، مگر اس ترقی کو اپنی ذات یا فخر کا ذریعہ نہیں بناتا۔ وہ اپنی شہرت، مال، علم اور حیثیت کو خدا کے دین اور امام کے ظہور کی تیاری میں لگا دیتا ہے۔ یہی وہ دنیاوی جزئیات ہیں جو ایک مومن کے ظہورِ امام کی طرف بڑھنے کے سفر کو نہ صرف معنوی بلکہ دنیاوی سطح پر بھی کامیاب بناتی ہیں۔ ایک سچے منتظر کی شخصیت متوازن، بیدار اور ہر پہلو سے بامقصد ہوتی ہے، کیونکہ امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کے ظہور کے لیے صرف روحانی طہارت یا دعاؤں پر اکتفا کرنا کافی نہیں بلکہ انسان کو اپنی پوری دنیاوی شخصیت کو امام کے مشن کے مطابق ڈھالنا ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی زندگی کے ہر دائرے میں وہ شعور، اخلاص، عدل، فہم، دیانت، غیرت اور قربانی جیسے اوصاف کو اختیار کرے، تاکہ جب امام کا ظہور ہو تو وہ ایک فعال، بافہم اور تیار فرد کی حیثیت سے شامل ہو سکے۔
سیاسی پہلو سے ایک منتظر کو چاہیے کہ وہ ظلم و جور سے بیزاری اختیار کرے، جابرانہ نظاموں کا حامی نہ ہو، اور ہمیشہ عدل، شفافیت اور عوامی خیر کی بات کرے۔ وہ سیاسی شعور رکھتا ہو، زمانے کی چالوں سے آگاہ ہو، اور باطل قوتوں کے فریب کو پہچاننے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ لیکن وہ فساد یا شورش کا داعی نہیں ہوتا بلکہ نظم، حکمت اور بصیرت کے ساتھ معاشرتی تبدیلی میں کردار ادا کرتا ہے۔
علمی حوالے سے ایک منتظر علم کا عاشق ہوتا ہے، کیونکہ امام خود علم و حکمت کے بحرِ بے کنار ہیں۔ وہ خود سیکھنے کے ساتھ ساتھ دوسروں کو سکھانے کا جذبہ رکھتا ہے۔ اس کا علم فقط دنیاوی فائدے کے لیے نہیں بلکہ ہدایت، تحقیق، دلیل، اصلاح اور تنویرِ فکر کے لیے ہوتا ہے۔ وہ قرآن، حدیث، اسلامی فلسفہ، جدید علوم، اور زمانے کی زبان پر مہارت رکھتا ہے تاکہ امام کے ظہور کے بعد علمی محاذ پر کردار ادا کر سکے۔
ثقافتی اور تہذیبی پہلو سے ایک منتظر اپنے لباس، طرزِ گفتار، رویے، ترجیحات اور دلچسپیوں میں ایسی پاکیزگی اور سنجیدگی اختیار کرتا ہے جو اسے اسلامی تمدن کا نمائندہ بناتی ہے۔ وہ مغرب زدہ فیشن، لغویات اور بے مقصد مشغلوں سے دور رہ کر، اسلامی ثقافت، پاکیزہ فن، اور اخلاقی انداز کو فروغ دیتا ہے۔ اس کی ثقافت میں قرآن کی روشنی، اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات، اور انسانی وقار کا عکس نظر آتا ہے۔
تفریح کے دائرے میں وہ اعتدال اور مقصدیت کو ملحوظ رکھتا ہے۔ وہ ایسی تفریح اپناتا ہے جو دل و دماغ کو تازگی دے، گناہ سے دور رکھے اور روحانی ارتقاء میں مدد دے۔ فحاشی، غفلت انگیز مشغلے، اور وقت ضائع کرنے والے کھیلوں سے اجتناب کرتا ہے اور ایسی تفریحات اختیار کرتا ہے جو خود شناسی، صحت، اور خاندانی تعلقات کو بہتر بنائیں۔
صحت کے میدان میں وہ جسم کو امانت سمجھ کر اس کی حفاظت کرتا ہے۔ وہ طیب و طاہر غذا کھاتا ہے، ورزش کرتا ہے، نیند کا خیال رکھتا ہے اور نفسیاتی توازن برقرار رکھتا ہے تاکہ جسمانی اور ذہنی قوتوں کے ساتھ دین اور معاشرے کی خدمت کر سکے۔
سماجی سطح پر وہ تعلقات کا مرکز بنتا ہے، ظلم کے خلاف آواز بلند کرتا ہے، یتیموں، فقیروں، بیماروں اور بے سہارا افراد کا سہارا بنتا ہے۔ وہ اپنی شخصیت کو نفرت، تعصب، غرور اور خود پسندی سے پاک کرتا ہے اور محبت، خدمت، اور خیر کے جذبات کو پھیلاتا ہے۔ اس کے رشتے خلوص، عدل، اور خیرخواہی پر مبنی ہوتے ہیں۔
معاشی پہلو میں وہ رزقِ حلال کماتا ہے، اسراف سے بچتا ہے، زکات، خمس اور صدقات کا اہتمام کرتا ہے، اور ضرورت مندوں کو سہارا دیتا ہے۔ وہ اپنے مال کو امام کے مشن میں ایک وسیلہ سمجھتا ہے، نہ کہ فخر یا ذخیرہ اندوزی کا ذریعہ۔ اس کی معیشت کا مقصد صرف عیش نہیں بلکہ خدمت، خود کفالت اور امت کی بہتری ہوتا ہے۔
دفاعی شعور کے ساتھ وہ اپنے ایمان، اقدار، خاندان اور معاشرے کے دفاع کے لیے فکری، اخلاقی، اور عملی تیاری رکھتا ہے۔ وہ نہ صرف جسمانی دفاع کے لیے تربیت یافتہ ہوتا ہے بلکہ فکری یلغار اور ثقافتی انحراف سے بھی مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ وہ معاشرے میں امن، وقار، غیرت اور حریت کا علمبردار بنتا ہے۔
یوں ایک سچا منتظر اپنی دنیاوی شخصیت کے ہر پہلو میں توازن، شعور، صداقت اور ہدف پرستی کے ساتھ جیتا ہے۔ اس کی پوری زندگی امام کے ظہور کے انتظار کو ایک عملی جہاد میں بدل دیتی ہے، جہاں ہر عمل، ہر سوچ، ہر فیصلہ، امام کی رضا اور نظامِ عدلِ موعود کے لیے زمین ہموار کرنے والا بن جاتا ہے۔
خلاصتا ایک مومن انسان کی کامیابی کا پروسس دراصل اس کی فکر، کردار، تعلقات اور طرزِ زندگی میں ایک مسلسل ارتقائی سفر ہے جو ظہورِ امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کی تیاری کے لیے بنیاد فراہم کرتا ہے۔ یہ سفر فرد کی سوچ کی اصلاح سے شروع ہو کر اس کے اعمال، اخلاق، تعلقات، تعلیم، معیشت، صحت، اور سماجی کردار تک پھیلتا ہے۔ وہ اپنی تعلیم کو صرف دنیاوی ترقی کا ذریعہ نہیں سمجھتا بلکہ اسے امام کے عالمی مشن کی خدمت کے لیے استعمال کرتا ہے۔ معیشت میں رزقِ حلال، دیانت اور سماجی خدمت کو اولیت دیتا ہے۔ اپنے رشتوں میں اخلاص، صبر اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرتا ہے۔ اپنے وقت، صحت اور وسائل کو عبادت، علم اور خدمتِ خلق کے لیے استعمال کرتا ہے۔ دنیاوی ترقی حاصل کرتا ہے لیکن اسے مقصدِ امامت سے جدا نہیں کرتا۔ وہ وقت کی نبض پر ہاتھ رکھتا ہے، جدید تقاضوں کو سمجھتا ہے، اور اپنی نسل کی فکری و اخلاقی حفاظت کا اہتمام کرتا ہے۔ یوں وہ ایک ایسا متوازن، باشعور اور باعمل فرد بن جاتا ہے جو امام زمانہ کے ظہور کے لیے زمین کو ہموار کرتا ہے اور اس کے مشن کا فعال ساتھی بننے کی صلاحیت پیدا کر لیتا ہے۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=1533

ٹیگز

تبصرے